Loading...

Loading...
کتب
۱۶ احادیث
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عبدالملک بن میسرہ نے مجھے خبر دی کہا کہ میں نے نزال بن سمرہ سے سنا، اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو قرآن کی آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کے خلاف سنا تھا۔ اس لیے میں ان کا ہاتھ تھامے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرا اعتراض سن کر ) فرمایا کہ تم دونوں درست ہو۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہو گئے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال عبد الملك بن ميسرة اخبرني قال سمعت النزال، سمعت عبد الله، يقول سمعت رجلا، قرا اية سمعت من النبي، صلى الله عليه وسلم خلافها، فاخذت بيده، فاتيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " كلاكما محسن ". قال شعبة اظنه قال " لا تختلفوا فان من كان قبلكم اختلفوا فهلكوا
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ اور عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو شخصوں نے جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا۔ مسلمان نے کہا، اس ذات کی قسم! جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اور یہودی نے کہا، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور مسلمان کے ساتھ اپنے واقعہ کو بیان کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور اس سے واقعہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تفصیل بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا، مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے۔ میں بھی بیہوش ہو جاؤں گا۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وعبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال استب رجلان رجل من المسلمين ورجل من اليهود، قال المسلم والذي اصطفى محمدا على العالمين، فقال اليهودي والذي اصطفى موسى على العالمين. فرفع المسلم يده عند ذلك فلطم وجه اليهودي، فذهب اليهودي الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بما كان من امره وامر المسلم، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم المسلم فساله عن ذلك، فاخبره فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تخيروني على موسى، فان الناس يصعقون يوم القيامة، فاصعق معهم، فاكون اول من يفيق، فاذا موسى باطش جانب العرش، فلا ادري اكان فيمن صعق فافاق قبلي، او كان ممن استثنى الله
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم! آپ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کس نے؟ اس نے کہا کہ ایک انصاری نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں یہ قسم کھاتے سنا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر بزرگی دی۔ میں نے کہا، او خبیث! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی! مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انبیاء میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو۔ لوگ قیامت میں بیہوش ہو جائیں گے۔ اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا۔ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا انہیں پہلی بے ہوشی جو طور پر ہو چکی ہے وہی کافی ہو گی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس جاء يهودي، فقال يا ابا القاسم ضرب وجهي رجل من اصحابك. فقال " من ". قال رجل من الانصار. قال " ادعوه ". فقال " اضربته ". قال سمعته بالسوق يحلف والذي اصطفى موسى على البشر. قلت اى خبيث، على محمد صلى الله عليه وسلم فاخذتني غضبة ضربت وجهه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تخيروا بين الانبياء، فان الناس يصعقون يوم القيامة، فاكون اول من تنشق عنه الارض، فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش، فلا ادري اكان فيمن صعق، ام حوسب بصعقة الاولى
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تھا۔ ( اس میں کچھ جان باقی تھی ) اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ( کہ ہاں ) یہودی پکڑا گیا اور اس نے بھی جرم کا اقرار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔
حدثنا موسى، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان يهوديا، رض راس جارية بين حجرين، قيل من فعل هذا بك افلان، افلان حتى سمي اليهودي فاومت براسها، فاخذ اليهودي فاعترف، فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فرض راسه بين حجرين
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک صحابی کوئی چیز خریدتے وقت دھوکا کھا جایا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تو خریدا کرے تو یہ کہہ دے کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ پس وہ اسی طرح کہا کرتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا عبد الله بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما قال كان رجل يخدع في البيع فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اذا بايعت فقل لا خلابة ". فكان يقوله
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام آزاد کیا، لیکن اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کا غلام واپس کرا دیا۔ اور اسے نعیم بن نحام نے خرید لیا۔
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن محمد بن المنكدر، عن جابر رضى الله عنه ان رجلا، اعتق عبدا له، ليس له مال غيره، فرده النبي صلى الله عليه وسلم، فابتاعه منه نعيم بن النحام
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقتطع بها مال امري مسلم لقي الله وهو عليه غضبان ". قال فقال الاشعث في والله كان ذلك، كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني، فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الك بينة ". قلت لا. قال فقال لليهودي " احلف ". قال قلت يا رسول الله اذا يحلف، ويذهب بمالي، فانزل الله تعالى {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقتطع بها مال امري مسلم لقي الله وهو عليه غضبان ". قال فقال الاشعث في والله كان ذلك، كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني، فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الك بينة ". قلت لا. قال فقال لليهودي " احلف ". قال قلت يا رسول الله اذا يحلف، ويذهب بمالي، فانزل الله تعالى {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اپنے قرض کا تقاضا کیا۔ اور دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گھر میں سن لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھا کر پکارا اے کعب! انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا قرض کم کر دینے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھ اب قرض ادا کر دے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا يونس، عن الزهري، عن عبد الله بن كعب بن مالك، عن كعب رضى الله عنه انه تقاضى ابن ابي حدرد دينا كان له عليه في المسجد، فارتفعت اصواتهما حتى سمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيته، فخرج اليهما، حتى كشف سجف حجرته فنادى " يا كعب ". قال لبيك يا رسول الله. قال " ضع من دينك هذا ". فاوما اليه، اى الشطر. قال لقد فعلت يا رسول الله. قال " قم فاقضه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے، انہیں عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایک دفعہ اس قرآت سے پڑھتے سنا جو اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا۔ حالانکہ میری قرآت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ قریب تھا کہ میں فوراً ہی ان پر کچھ کر بیٹھوں، لیکن میں نے انہیں مہلت دی کہ وہ ( نماز سے ) فارغ ہو لیں۔ اس کے بعد میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو گھسیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے انہیں اس قرآت کے خلاف پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے انہیں چھوڑ دے۔ پھر ان سے فرمایا کہ اچھا اب تم قرآت سناؤ۔ انہوں نے وہی اپنی قرآت سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تم بھی پڑھو، میں نے بھی پڑھ کر سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی۔ قرآن سات قراتوں میں نازل ہوا ہے۔ تم کو جس میں آسانی ہو اسی طرح سے پڑھ لیا کرو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، انه قال سمعت عمر بن الخطاب رضى الله عنه يقول سمعت هشام بن حكيم بن حزام، يقرا سورة الفرقان على غير ما اقروها، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقرانيها، وكدت ان اعجل عليه، ثم امهلته حتى انصرف، ثم لببته بردايه فجيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اني سمعت هذا يقرا على غير ما اقراتنيها، فقال لي " ارسله ". ثم قال له " اقرا ". فقرا. قال " هكذا انزلت ". ثم قال لي " اقرا ". فقرات فقال " هكذا انزلت. ان القران انزل على سبعة احرف فاقرءوا منه ما تيسر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم دے کر خود ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر کو جلا دوں۔
حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن ابي عدي، عن شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لقد هممت ان امر بالصلاة فتقام ثم اخالف الى منازل قوم لا يشهدون الصلاة فاحرق عليهم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ زمعہ کی ایک باندی کے لڑے کے بارے میں عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر گئے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے بھائی نے مجھ کو وصیت کی تھی کہ جب میں ( مکہ ) آؤں اور زمعہ کی باندی کے لڑکے کو دیکھوں تو اسے اپنی پرورش میں لے لوں۔ کیونکہ وہ انہیں کا لڑکا ہے۔ اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی باندی کا لڑکا ہے۔ میرے والد ہی کے ”فراش“ میں اس کی پیدائش ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے اندر ( عتبہ کی ) واضح مشابہت دیکھی۔ لیکن فرمایا کہ اے عبد بن زمعہ! لڑکا تو تمہاری ہی پرورش میں رہے گا کیونکہ لڑکا ”فراش“ کے تابع ہوتا ہے اور سودہ تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان عبد بن زمعة، وسعد بن ابي وقاص، اختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم في ابن امة زمعة فقال سعد يا رسول الله اوصاني اخي اذا قدمت ان انظر ابن امة زمعة فاقبضه، فانه ابني. وقال عبد بن زمعة اخي وابن امة ابي، ولد على فراش ابي. فراى النبي صلى الله عليه وسلم شبها بينا فقال " هو لك يا عبد بن زمعة، الولد للفراش، واحتجبي منه يا سودة
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ یہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور جو اہل یمامہ کا سردار تھا، پکڑ لائے اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون میں باندھ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ثمامہ! تو کس خیال میں ہے؟ انہوں نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں اچھا ہوں۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنهما يقول بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن اثال سيد اهل اليمامة، فربطوه بسارية من سواري المسجد، فخرج اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما عندك يا ثمامة ". قال عندي يا محمد خير. فذكر الحديث قال " اطلقوا ثمامة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا جو بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال کو پکڑ لائے۔ اور مسجد کے ایک ستون سے اس کو باندھ دیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، سمع ابا هريرة رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن اثال فربطوه بسارية من سواري المسجد
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، اور یحییٰ بن بکیر کے علاوہ نے بیان کیا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے، اور ان سے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ پر ان کا قرض تھا، ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا۔ پھر دونوں کی گفتگو تیز ہونے لگی۔ اور آواز بلند ہو گئی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے کعب! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے گویا یہ فرمایا کہ آدھے قرض کی کمی کر دے۔ چنانچہ انہوں نے آدھا لے لیا اور آدھا قرض معاف کر دیا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، حدثنا جعفر بن ربيعة،. وقال غيره حدثني الليث، قال حدثني جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن عبد الله بن كعب بن مالك الانصاري، عن كعب بن مالك رضى الله عنه انه كان له على عبد الله بن ابي حدرد الاسلمي دين، فلقيه فلزمه، فتكلما حتى ارتفعت اصواتهما، فمر بهما النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا كعب ". واشار بيده كانه يقول النصف، فاخذ نصف ما عليه وترك نصفا
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہب بن جریر بن حازم نے بیان کیا، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوالضحیٰ نے، انہیں مسروق نے، اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جاہلیت کے زمانہ میں لوہے کا کام کرتا تھا اور عاص بن وائل ( کافر ) پر میرے کچھ روپے قرض تھے۔ میں اس کے پاس تقاضا کرنے گیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض ادا نہیں کروں گا۔ میں نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کبھی نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مارے اور پھر تم کو اٹھائے۔ وہ کہنے لگا کہ پھر مجھ سے بھی تقاضا نہ کر۔ میں جب مر کے دوبارہ زندہ ہوں گا تو مجھے ( دوسری زندگی میں ) مال اور اولاد دی جائے گی تو تمہارا قرض بھی ادا کر دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا» ”تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ مجھے مال اور اولاد ضرور دی جائے گی۔“ آخر آیت تک۔
حدثنا اسحاق، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن خباب، قال كنت قينا في الجاهلية وكان لي على العاص بن وايل دراهم، فاتيته اتقاضاه فقال لا اقضيك حتى تكفر بمحمد، فقلت لا والله لا اكفر بمحمد صلى الله عليه وسلم حتى يميتك الله ثم يبعثك. قال فدعني حتى اموت ثم ابعث فاوتى مالا وولدا، ثم اقضيك. فنزلت {افرايت الذي كفر باياتنا وقال لاوتين مالا وولدا} الاية