Loading...

Loading...
کتب
۳۳ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے، انہیں ابوصالح سمان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گھوڑا ایک شخص کے لیے باعث ثواب ہے، دوسرے کے لیے بچاؤ ہے اور تیسرے کے لیے وبال ہے۔ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب ہے، وہ وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ کے لیے اس کو پالے، وہ اسے کسی ہریالے میدان میں باندھے ( راوی نے کہا ) یا کسی باغ میں۔ تو جس قدر بھی وہ اس ہریالے میدان میں یا باغ میں چرے گا۔ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اس کی رسی ٹوٹ گئی اور گھوڑا ایک یا دو مرتبہ آگے کے پاؤں اٹھا کر کودا تو اس کے آثار قدم اور لید بھی مالک کی نیکیوں میں لکھے جائیں گے اور اگر وہ گھوڑا کسی ندی سے گزرے اور اس کا پانی پئے خواہ مالک نے اسے پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ تو اس نیت سے پالا جانے ولا گھوڑا انہیں وجوہ سے باعث ثواب ہے دوسرا شخص وہ ہے جو لوگوں سے بےنیاز رہنے اور ان کے سامنے دست سوال بڑھانے سے بچنے کے لیے گھوڑا پالے، پھر اس کی گردن اور اس کی پیٹھ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے حق کو بھی فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اپنے مالک کے لیے پردہ ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور مسلمانوں کی دشمنی میں پالے۔ تو یہ گھوڑا اس کے لیے وبال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی حکم وحی سے معلوم نہیں ہوا۔ سوا اس جامع آیت کے «من يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخيل لرجل اجر، ولرجل ستر، وعلى رجل وزر، فاما الذي له اجر فرجل ربطها في سبيل الله، فاطال بها في مرج او روضة، فما اصابت في طيلها ذلك من المرج او الروضة كانت له حسنات، ولو انه انقطع طيلها فاستنت شرفا او شرفين كانت اثارها وارواثها حسنات له، ولو انها مرت بنهر فشربت منه ولم يرد ان يسقي كان ذلك حسنات له، فهي لذلك اجر، ورجل ربطها تغنيا وتعففا ثم لم ينس حق الله في رقابها ولا ظهورها، فهي لذلك ستر، ورجل ربطها فخرا ورياء ونواء لاهل الاسلام، فهي على ذلك وزر ". وسيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحمر فقال " ما انزل على فيها شىء الا هذه الاية الجامعة الفاذة {من يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره}
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے منبعت کے غلام یزید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور آپ سے لقطہ ( راستے میں کسی کی گم ہوئی چیز جو پا گئی ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی خوب جانچ کر لو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اس عرصے میں اگر اس کا مالک آ جائے ( تو اسے دے دو ) ورنہ پھر وہ چیز تمہاری ہے۔ سائل نے پوچھا، اور گمشدہ بکری؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑئیے کی ہے۔ سائل نے پوچھا اور گمشدہ اونٹ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہیں اس سے کیا مطلب؟ اس کے ساتھ اسے سیراب رکھنے والی چیز ہے اور اس کا گھر ہے، پانی پر بھی وہ جا سکتا ہے اور درخت ( کے پتے ) بھی کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا جائے۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن يزيد، مولى المنبعث عن زيد بن خالد رضى الله عنه قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله عن اللقطة، فقال " اعرف عفاصها ووكاءها، ثم عرفها سنة، فان جاء صاحبها والا فشانك بها ". قال فضالة الغنم قال " هي لك او لاخيك او للذيب ". قال فضالة الابل قال " مالك ولها معها سقاوها وحذاوها، ترد الماء وتاكل الشجر، حتى يلقاها ربها
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہاشم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام نے رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے، پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور ( بھیک ) اسے دی جائے یا نہ دی جائے۔ اس کی بھی کوئی امید نہ ہو۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن هشام، عن ابيه، عن الزبير بن العوام رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لان ياخذ احدكم احبلا، فياخذ حزمة من حطب فيبيع، فيكف الله به وجهه، خير من ان يسال الناس اعطي ام منع
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابوعبید نے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کوئی شخص لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر ( بیچنے کے لیے ) لیے پھرے تو وہ اس سے اچھا ہے کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ پھر خواہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي عبيد، مولى عبد الرحمن بن عوف انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يحتطب احدكم حزمة على ظهره خير له من ان يسال احدا فيعطيه او يمنعه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہیں زید العابدین علی بن حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے، ان سے ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی کے موقع پر مجھے ایک جوان اونٹنی غنیمت میں ملی تھی اور ایک دوسری اونٹنی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائی تھی۔ ایک دن ایک انصاری صحابی کے دروازے پر میں ان دونوں کو اس خیال سے باندھے ہوئے تھا کہ ان کی پیٹھ پر اذخر ( عرب کی ایک خوشبودار گھاس جسے سنار وغیرہ استعمال کرتے تھے ) رکھ کر بیچنے لے جاؤں گا۔ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی میرے ساتھ تھا۔ اس طرح ( خیال یہ تھا کہ ) اس کی آمدنی سے فاطمہ رضی اللہ عنہا ( جن سے میں نکاح کرنے والا تھا ان ) کا ولیمہ کروں گا۔ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسی ( انصاری کے ) گھر میں شراب پی رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی۔ اس نے جب یہ مصرعہ پڑھا: ”ہاں: اے حمزہ! اٹھو، فربہ جوان اونٹنیوں کی طرف“ ( بڑھ ) حمزہ رضی اللہ عنہ جوش میں تلوار لے کر اٹھے اور دونوں اونٹنیوں کے کوہان چیر دیئے۔ ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے۔ اور ان کی کلیجی نکال لی ( ابن جریج نے بیان کیا کہ ) میں نے ابن شہاب سے پوچھا، کیا کوہان کا گوشت بھی کاٹ لیا تھا۔ تو انہوں نے بیان کیا کہ ان دونوں کے کوہان کاٹ لیے اور انہیں لے گئے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ میں نے آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپ تشریف لائے۔ زید رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفگی ظاہر فرمائی تو حمزہ نے نظر اٹھا کر کہا ”تم سب میرے باپ دادا کے غلام ہو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹ کر ان کے پاس سے چلے آئے۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا قصہ ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني ابن شهاب، عن علي بن حسين بن علي، عن ابيه، حسين بن علي عن علي بن ابي طالب رضى الله عنهم انه قال اصبت شارفا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مغنم يوم بدر قال واعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم شارفا اخرى، فانختهما يوما عند باب رجل من الانصار، وانا اريد ان احمل عليهما اذخرا لابيعه، ومعي صايغ من بني قينقاع فاستعين به على وليمة فاطمة، وحمزة بن عبد المطلب يشرب في ذلك البيت معه قينة، فقالت الا يا حمز للشرف النواء. فثار اليهما حمزة بالسيف، فجب اسنمتهما، وبقر خواصرهما، ثم اخذ من اكبادهما. قلت لابن شهاب ومن السنام قال قد جب اسنمتهما فذهب بها. قال ابن شهاب قال علي رضى الله عنه فنظرت الى منظر افظعني فاتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم وعنده زيد بن حارثة فاخبرته الخبر فخرج ومعه زيد، فانطلقت معه، فدخل على حمزة فتغيظ عليه فرفع حمزة بصره وقال هل انتم الا عبيد لابايي فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقهقر حتى خرج عنهم، وذلك قبل تحريم الخمر
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین میں کچھ قطعات اراضی بطور جاگیر ( انصار کو ) دینے کا ارادہ کیا تو انصار نے عرض کیا کہ ہم جب لیں گے کہ آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اسی طرح کے قطعات عنایت فرمائیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد ( دوسرے لوگوں کو ) تم پر ترجیح دی جایا کرے گی تو اس وقت تم صبر کرنا، یہاں تک کہ ہم سے ( آخرت میں آ کر ) ملاقات کرو۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن يحيى بن سعيد، قال سمعت انسا رضى الله عنه قال اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان يقطع من البحرين، فقالت الانصار حتى تقطع لاخواننا من المهاجرين مثل الذي تقطع لنا قال " سترون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني
اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔“
وقال الليث عن يحيى بن سعيد، عن انس رضى الله عنه دعا النبي صلى الله عليه وسلم الانصار ليقطع لهم بالبحرين، فقالوا يا رسول الله ان فعلت فاكتب لاخواننا من قريش بمثلها، فلم يكن ذلك عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انكم سترون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اونٹ کا حق یہ ہے کہ ان کا دودھ پانی کے پاس دوہا جائے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح، قال حدثني ابي، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حق الابل ان تحلب على الماء
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ پیوندکاری کے بعد اگر کسی شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچا تو ( اس سال کی فصل کا ) پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے ( کہ پھل بھی خریدار ہی کا ہو گا ) تو یہ صورت الگ ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو وہ مال بیچنے والے کا ہوتا ہے۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے تو یہ صورت الگ ہے۔ یہ حدیث امام مالک سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے اس میں صرف غلام کا ذکر ہے۔
اخبرنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ابتاع نخلا بعد ان توبر فثمرتها للبايع، الا ان يشترط المبتاع، ومن ابتاع عبدا وله مال فماله للذي باعه الا ان يشترط المبتاع ". وعن مالك عن نافع عن ابن عمر عن عمر في العبد
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت رضى الله عنهم قال رخص النبي صلى الله عليه وسلم ان تباع العرايا بخرصها تمرا
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا۔ اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا تھا، اور یہ کہ میوہ یا غلہ جو درخت پر لگا ہو، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن ابن جريج، عن عطاء، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن المخابرة، والمحاقلة، وعن المزابنة، وعن بيع الثمر حتى يبدو صلاحها، وان لا تباع الا بالدينار والدرهم، الا العرايا
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابواحمد کے غلام ابوسفیان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے پانچ وسق سے کم، یا ( یہ کہا کہ ) پانچ وسق کے اندر اجازت دی ہے اس میں شک داؤد بن حصین کو ہوا ( بیع عریہ کا بیان پیچھے مفصل ہو چکا ہے ) ۔
حدثنا يحيى بن قزعة، اخبرنا مالك، عن داود بن حصين، عن ابي سفيان، مولى ابي احمد عن ابي هريرة رضى الله عنه قال رخص النبي صلى الله عليه وسلم في بيع العرايا بخرصها من التمر فيما دون خمسة اوسق او في خمسة اوسق، شك داود في ذلك
حدثنا زكرياء بن يحيى، اخبرنا ابو اسامة، قال اخبرني الوليد بن كثير، قال اخبرني بشير بن يسار، مولى بني حارثة ان رافع بن خديج، وسهل بن ابي حثمة، حدثاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة بيع الثمر بالتمر، الا اصحاب العرايا فانه اذن لهم. قال ابو عبد الله وقال ابن اسحاق حدثني بشير مثله
حدثنا زكرياء بن يحيى، اخبرنا ابو اسامة، قال اخبرني الوليد بن كثير، قال اخبرني بشير بن يسار، مولى بني حارثة ان رافع بن خديج، وسهل بن ابي حثمة، حدثاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المزابنة بيع الثمر بالتمر، الا اصحاب العرايا فانه اذن لهم. قال ابو عبد الله وقال ابن اسحاق حدثني بشير مثله