Loading...

Loading...
کتب
۳۳ احادیث
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک نوعمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اور کچھ بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکے! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بڑوں کو دے دوں۔ اس پر اس نے کہا، یا رسول اللہ! میں تو آپ کے جھوٹے میں سے اپنے حصہ کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ پہلے اسی کو دے دیا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بقدح فشرب منه، وعن يمينه غلام اصغر القوم، والاشياخ عن يساره فقال " يا غلام اتاذن لي ان اعطيه الاشياخ ". قال ما كنت لاوثر بفضلي منك احدا يا رسول الله. فاعطاه اياه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھر میں پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا، جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں پلی تھی۔ پھر اس کے دودھ میں اس کنویں کا پانی ملا کر جو انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا۔ جب اپنے منہ سے پیالہ آپ نے جدا کیا تو بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ ڈرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیالہ دیہاتی کو نہ دے دیں۔ اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اسی دیہاتی کو دیا جو آپ کی دائیں طرف تھا۔ اور فرمایا کہ دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني انس بن مالك رضى الله عنه انها حلبت لرسول الله صلى الله عليه وسلم شاة داجن وهى في دار انس بن مالك، وشيب لبنها بماء من البير التي في دار انس، فاعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم القدح فشرب منه، حتى اذا نزع القدح من فيه، وعلى يساره ابو بكر وعن يمينه اعرابي فقال عمر وخاف ان يعطيه الاعرابي اعط ابا بكر يا رسول الله عندك. فاعطاه الاعرابي الذي على يمينه، ثم قال " الايمن فالايمن
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچے ہوئے پانی سے کسی کو اس لیے نہ روکا جائے کہ اس طرح جو ضرورت سے زیادہ گھاس ہو وہ بھی رکی رہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنع فضل الماء ليمنع به الكلا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب اور ابوسلمہ نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فالتو پانی سے کسی کو اس غرض سے نہ روکو کہ جو گھاس ضرورت سے زیادہ ہو اسے بھی روک لو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنعوا فضل الماء لتمنعوا به فضل الكلا
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کان ( میں مرنے والے ) کا تاوان نہیں، کنویں ( میں گر کر مر جانے والے ) کا تاوان نہیں۔ اور کسی کا جانور ( اگر کسی آدمی کو مارے تو اس کا ) تاوان نہیں۔ گڑھے ہوئے مال میں سے پانچواں حصہ دینا ہو گا۔
حدثنا محمود، اخبرنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المعدن جبار، والبير جبار، والعجماء جبار، وفي الركاز الخمس
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين يقتطع بها مال امري، هو عليها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان" فانزل الله تعالى {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الاية. فجاء الاشعث فقال ما حدثكم ابو عبد الرحمن، في انزلت هذه الاية، كانت لي بير في ارض ابن عم لي فقال لي " شهودك ". قلت ما لي شهود. قال " فيمينه ". قلت يا رسول الله اذا يحلف. فذكر النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث، فانزل الله ذلك تصديقا له
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين يقتطع بها مال امري، هو عليها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان" فانزل الله تعالى {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الاية. فجاء الاشعث فقال ما حدثكم ابو عبد الرحمن، في انزلت هذه الاية، كانت لي بير في ارض ابن عم لي فقال لي " شهودك ". قلت ما لي شهود. قال " فيمينه ". قلت يا رسول الله اذا يحلف. فذكر النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث، فانزل الله ذلك تصديقا له
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین طرح کے لوگ وہ ہوں گے جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر بھی نہیں اٹھائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا۔ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور اس نے کسی مسافر کو اس کے استعمال سے روک دیا۔ دوسرا وہ شخص جو کسی حاکم سے بیعت صرف دنیا کے لیے کرے کہ اگر وہ حاکم اسے کچھ دے تو وہ راضی رہے ورنہ خفا ہو جائے۔ تیسرے وہ شخص جو اپنا ( بیچنے کا ) سامان عصر کے بعد لے کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، مجھے اس سامان کی قیمت اتنی اتنی مل رہی تھی، اس پر ایک شخص نے اسے سچ سمجھا ( اور اس کی بتائی ہوئی قیمت پر اس سامان کو خرید لیا ) پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کو درمیان میں دے کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا کا تھوڑا سا مال مول لیتے ہیں“ آخر تک۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن الاعمش، قال سمعت ابا صالح، يقول سمعت ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا ينظر الله اليهم يوم القيامة، ولا يزكيهم، ولهم عذاب اليم رجل كان له فضل ماء بالطريق، فمنعه من ابن السبيل، ورجل بايع اماما لا يبايعه الا لدنيا، فان اعطاه منها رضي، وان لم يعطه منها سخط، ورجل اقام سلعته بعد العصر، فقال والله الذي لا اله غيره لقد اعطيت بها كذا وكذا، فصدقه رجل" ثم قرا هذه الاية {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا}
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابن شهاب، عن عروة، عن عبد الله بن الزبير رضى الله عنهما انه حدثه ان رجلا من الانصار خاصم الزبير عند النبي صلى الله عليه وسلم في شراج الحرة التي يسقون بها النخل فقال الانصاري سرح الماء يمر فابى عليه، فاختصما عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للزبير " اسق يا زبير، ثم ارسل الماء الى جارك ". فغضب الانصاري، فقال ان كان ابن عمتك. فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " اسق يا زبير، ثم احبس الماء، حتى يرجع الى الجدر ". فقال الزبير والله اني لاحسب هذه الاية نزلت في ذلك {فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم}
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابن شهاب، عن عروة، عن عبد الله بن الزبير رضى الله عنهما انه حدثه ان رجلا من الانصار خاصم الزبير عند النبي صلى الله عليه وسلم في شراج الحرة التي يسقون بها النخل فقال الانصاري سرح الماء يمر فابى عليه، فاختصما عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للزبير " اسق يا زبير، ثم ارسل الماء الى جارك ". فغضب الانصاري، فقال ان كان ابن عمتك. فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " اسق يا زبير، ثم احبس الماء، حتى يرجع الى الجدر ". فقال الزبير والله اني لاحسب هذه الاية نزلت في ذلك {فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم}
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، کہ زبیر رضی اللہ عنہ سے ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جھگڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زبیر! پہلے تم ( اپنا باغ ) سیراب کر لو، پھر پانی آگے کے لیے چھوڑ دینا، اس پر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زبیر! اپنا باغ اتنا سیراب کر لو کہ پانی اس کی منڈیروں تک پہنچ جائے اتنے روک رکھو، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت «لا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک آپ کو اپنے تمام اختلافات میں حکم نہ تسلیم کر لیں۔“ اسی باب میں نازل ہوئی۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، قال خاصم الزبير رجل من الانصار، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا زبير اسق ثم ارسل ". فقال الانصاري انه ابن عمتك. فقال عليه السلام " اسق يا زبير، ثم يبلغ الماء الجدر، ثم امسك ". فقال الزبير فاحسب هذه الاية نزلت في ذلك {لا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم}. قال محمد بن العباس قال ابو عبد الله ليس احد يذكر عروة عن عبد الله، الا الليث فقط
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو مخلد نے خبر دی کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک انصاری مرد نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے ندی کے بارے میں جس سے کھجوروں کے باغ سیراب ہوا کرتے تھے، جھگڑا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر! تم سیراب کر لو۔ پھر اپنے پڑوسی بھائی کے لیے جلد پانی چھوڑ دینا۔ اس پر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا۔ جی ہاں! آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے زبیر! تم سیراب کرو، یہاں تک کہ پانی کھیت کی مینڈوں تک پہنچ جائے۔ اس طرح آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوا دیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ قسم اللہ کی یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی تھی «لا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! اس وقت تک یہ ایمان والے نہیں ہوں گے جب تک اپنے جملہ اختلافات میں آپ کو حکم نہ تسلیم کر لیں۔“ ابن شہاب نے کہا کہ انصار اور تمام لوگوں نے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی بنا پر کہ ”سیراب کرو اور پھر اس وقت تک رک جاؤ، جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے۔“ ایک اندازہ لگا لیا، یعنی پانی ٹخنوں تک بھر جائے۔
حدثنا محمد، اخبرنا مخلد، قال اخبرني ابن جريج، قال حدثني ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، انه حدثه ان رجلا من الانصار خاصم الزبير في شراج من الحرة يسقي بها النخل. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسق يا زبير فامره بالمعروف ثم ارسل الى جارك ". فقال الانصاري ان كان ابن عمتك. فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " اسق ثم احبس حتى يرجع الماء الى الجدر ". واستوعى له حقه. فقال الزبير والله ان هذه الاية انزلت في ذلك {لا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم}. قال لي ابن شهاب فقدرت الانصار والناس قول النبي صلى الله عليه وسلم " اسق ثم احبس حتى يرجع الى الجدر ". وكان ذلك الى الكعبين
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا۔ پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے ( اپنے دل میں ) کہا، یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسے ابھی مجھے لگی ہوئی تھی۔ ( چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور ) اپنے چمڑے کے موزے کو ( پانی سے ) بھر کر اسے اپنے منہ سے پکڑے ہوئے اوپر آیا، اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کو قبول کیا اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہمیں چوپاؤں پر بھی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر جاندار میں ثواب ہے۔ اس روایت کی متابعت حماد بن سلمہ اور ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا رجل يمشي فاشتد عليه العطش، فنزل بيرا فشرب منها، ثم خرج فاذا هو بكلب يلهث، ياكل الثرى من العطش، فقال لقد بلغ هذا مثل الذي بلغ بي فملا خفه ثم امسكه بفيه، ثم رقي، فسقى الكلب فشكر الله له، فغفر له ". قالوا يا رسول الله، وان لنا في البهايم اجرا قال " في كل كبد رطبة اجر ". تابعه حماد بن سلمة والربيع بن مسلم عن محمد بن زياد
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملکیہ نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ سورج گرہن کی نماز پڑھی پھر فرمایا ( ابھی ابھی ) دوزخ مجھ سے اتنی قریب آ گئی تھی کہ میں نے چونک کر کہا۔ اے رب! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں۔ اتنے میں دوزخ میں میری نظر ایک عورت پر پڑی۔ ( اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ) مجھے یاد ہے کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ) اس عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس پر اس عذاب کی کیا وجہ ہے؟ آپ کے ساتھ والے فرشتوں نے کہا کہ اس عورت نے اس بلی کو اتنی دیر تک باندھے رکھا کہ وہ بھوک کے مارے مر گئی۔
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الكسوف، فقال " دنت مني النار حتى قلت اى رب، وانا معهم فاذا امراة حسبت انه قال تخدشها هرة قال ما شان هذه قالوا حبستها حتى ماتت جوعا
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک عورت کو عذاب، ایک بلی کی وجہ سے ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ جب تو نے اس بلی کو باندھے رکھا اس وقت تک نہ تو نے اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عذبت امراة في هرة حبستها، حتى ماتت جوعا، فدخلت فيها النار قال فقال والله اعلم لا انت اطعمتها ولا سقيتها حين حبستيها، ولا انت ارسلتيها فاكلت من خشاش الارض
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ آپ کی دائیں طرف ایک لڑکا تھا جو حاضرین میں سب سے کم عمر تھا۔ بڑی عمر والے صحابہ آپ کی بائیں طرف تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے لڑکے! کیا تمہاری اجازت ہے کہ میں اس پیالے کا بچا ہوا پانی بوڑھوں کو دوں؟ اس نے جواب دیا، یا رسول اللہ! میں تو آپ کا جھوٹا اپنے حصہ کا کسی کو دینے والا نہیں ہوں۔ آخر آپ نے وہ پیالہ اسی کو دے دیا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدح فشرب وعن يمينه غلام، هو احدث القوم، والاشياخ عن يساره قال " يا غلام اتاذن لي ان اعطي الاشياخ ". فقال ما كنت لاوثر بنصيبي منك احدا يا رسول الله. فاعطاه اياه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں ( قیامت کے دن ) اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہانک دوں گا جیسے اجنبی اونٹ حوض سے ہانک دیئے جاتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن محمد بن زياد، سمعت ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لاذودن رجالا عن حوضي كما تذاد الغريبة من الابل عن الحوض
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ایوب اور کثیر بن کثیر نے، دونوں کی روایتوں میں ایک دوسرے کی بہ نسبت کمی اور زیادتی ہے، اور ان سے سعید بن جبیر نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہا السلام ) پر اللہ رحم فرمائے کہ اگر انہوں نے زمزم کو چھوڑ دیا ہوتا، یا یوں فرمایا کہ اگر وہ زمزم سے چلو بھر بھر کر نہ لیتیں تو وہ ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ پھر جب قبیلہ جرہم کے لوگ آئے اور ( ہاجرہ علیہا السلام سے ) کہا کہ آپ ہمیں اپنے پڑوس میں قیام کی اجازت دیں تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اس شرط پر کہ پانی پر ان کا کوئی حق نہ ہو گا۔ قبیلہ والوں نے یہ شرط مان لی تھی۔
حدثنا عبد الله بن محمد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ايوب، وكثير بن كثير يزيد احدهما على الاخر عن سعيد بن جبير، قال قال ابن عباس رضى الله عنهما قال النبي صلى الله عليه وسلم " يرحم الله ام اسماعيل، لو تركت زمزم او قال لو لم تغرف من الماء لكانت عينا معينا، واقبل جرهم فقالوا اتاذنين ان ننزل عندك قالت نعم ولا حق لكم في الماء. قالوا نعم
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابوصالح سمان نے، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات بھی نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھے گا۔ وہ شخص جو کسی سامان کے متعلق قسم کھائے کہ اسے اس کی قیمت اس سے زیادہ دی جا رہی تھی جتنی اب دی جا رہی ہے حالانکہ وہ جھوٹا ہے۔ وہ شخص جس نے جھوٹی قسم عصر کے بعد اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ ایک مسلمان کے مال کو ہضم کر جائے۔ وہ شخص جو اپنی ضرورت سے بچے پانی سے کسی کو روکے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج میں اپنا فضل اسی طرح تمہیں نہیں دوں گا جس طرح تم نے ایک ایسی چیز کے فالتو حصے کو نہیں دیا تھا جسے خود تمہارے ہاتھوں نے بنایا بھی نہ تھا۔ علی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو سے کئی مرتبہ بیان کیا کہ انہوں نے ابوصالح سے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اس حدیث کی سند پہنچاتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا ينظر اليهم رجل حلف على سلعة لقد اعطى بها اكثر مما اعطى وهو كاذب، ورجل حلف على يمين كاذبة بعد العصر ليقتطع بها مال رجل مسلم، ورجل منع فضل ماء، فيقول الله اليوم امنعك فضلي، كما منعت فضل ما لم تعمل يداك ". قال علي حدثنا سفيان غير مرة عن عمرو سمع ابا صالح يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، چراگاہ اللہ اور اس کا رسول ہی محفوظ کر سکتا ہے۔ ( ابن شہاب نے ) بیان کیا کہ ہم تک یہ بھی پہنچا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع میں چراگاہ بنوائی تھی اور عمر رضی اللہ عنہ نے سرف اور ربذہ کو چراگاہ بنایا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان الصعب بن جثامة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا حمى الا لله ولرسوله ". وقال بلغنا ان النبي صلى الله عليه وسلم حمى النقيع، وان عمر حمى السرف والربذة