Loading...

Loading...
کتب
۱۱ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس روایت کو یاد کیا تھا اور یہ روایت انہوں نے زہری سے (سن کر) یاد کی تھی۔ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب ( حصول اجر و ثواب کی نیت ) کے ساتھ رکھے، اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ اور جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ نماز میں کھڑا رہے اس کے بھی اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، سفیان کے ساتھ سلیمان بن کثیر نے بھی اس حدیث کو زہری سے روایت کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظناه وانما حفظ من الزهري عن ابي سلمة عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه، ومن قام ليلة القدر ايمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ". تابعه سليمان بن كثير عن الزهري
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں ( رمضان کی ) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری ( طاق ) راتوں میں تلاش کرے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رجالا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اروا ليلة القدر في المنام في السبع الاواخر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارى روياكم قد تواطات في السبع الاواخر، فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الاواخر
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا، وہ میرے دوست تھے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھے۔ پھر بیس تاریخ کی صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے نکلے اور ہمیں خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، لیکن بھلا دلی گئی یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) میں خود بھول گیا۔ اس لیے تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے ( خواب میں ) کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ اس لیے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ پھر لوٹ آئے اور اعتکاف میں بیٹھے۔ خیر ہم نے پھر اعتکاف کیا۔ اس وقت آسمان پر بادلوں کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بادل آیا اور بارش اتنی ہوئی کہ مسجد کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا جو کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیچڑ میں سجدہ کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ کیچڑ کا نشان میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر دیکھا۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال سالت ابا سعيد وكان لي صديقا فقال اعتكفنا مع النبي صلى الله عليه وسلم العشر الاوسط من رمضان، فخرج صبيحة عشرين، فخطبنا وقال " اني اريت ليلة القدر، ثم انسيتها او نسيتها، فالتمسوها في العشر الاواخر في الوتر، واني رايت اني اسجد في ماء وطين، فمن كان اعتكف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فليرجع ". فرجعنا وما نرى في السماء قزعة، فجاءت سحابة فمطرت حتى سال سقف المسجد وكان من جريد النخل، واقيمت الصلاة، فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد في الماء والطين، حتى رايت اثر الطين في جبهته
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوسہیل نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ مالک بن عامر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، حدثنا ابو سهيل، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الاواخر من رمضان
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی حازم اور عبدالعزیز دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے جو مہینے کے بیج میں پڑتا ہے۔ بیس راتوں کے گزر جانے کے بعد جب اکیسویں تاریخ کی رات آتی تو شام کو آپ گھر واپس آ جاتے۔ جو لوگ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی اپنے گھروں میں واپس آ جاتے۔ ایک رمضان میں آپ جب اعتکاف کئے ہوئے تھے تو اس رات میں بھی ( مسجد ہی میں ) مقیم رہے جس میں آپ کی عادت گھر آ جانے کی تھی، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو کچھ اللہ پاک نے چاہا، آپ نے لوگوں کو اس کا حکم دیا، پھر فرمایا کہ میں اس ( دوسرے ) عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا، لیکن اب مجھ پر یہ ظاہراً ہوا کہ اب اس آخری عشرہ میں مجھے اعتکاف کرنا چاہئے۔ اس لیے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے معتکف ہی میں ٹھہرا رہے اور مجھے یہ رات ( شب قدر ) دکھائی گئی لیکن پھر بھلوا دی گئی۔ اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ ( کی طاق راتوں ) میں تلاش کرو۔ میں نے ( خواب میں ) اپنے کو دیکھا کہ اس رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پھر اس رات آسمان پر ابر ہوا اور بارش برسی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ ( چھت سے ) پانی ٹپکنے لگا۔ یہ اکیسویں کی رات کا ذکر ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد واپس ہو رہے تھے۔ اور آپ کے چہرہ مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة، قال حدثني ابن ابي حازم، والدراوردي، عن يزيد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه . كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في رمضان العشر التي في وسط الشهر، فاذا كان حين يمسي من عشرين ليلة تمضي، ويستقبل احدى وعشرين، رجع الى مسكنه ورجع من كان يجاور معه. وانه اقام في شهر جاور فيه الليلة التي كان يرجع فيها، فخطب الناس، فامرهم ما شاء الله، ثم قال " كنت اجاور هذه العشر، ثم قد بدا لي ان اجاور هذه العشر الاواخر، فمن كان اعتكف معي فليثبت في معتكفه، وقد اريت هذه الليلة ثم انسيتها فابتغوها في العشر الاواخر وابتغوها في كل وتر، وقد رايتني اسجد في ماء وطين ". فاستهلت السماء في تلك الليلة، فامطرت، فوكف المسجد في مصلى النبي صلى الله عليه وسلم ليلة احدى وعشرين، فبصرت عيني رسول الله صلى الله عليه وسلم ونظرت اليه انصرف من الصبح، ووجهه ممتلي طينا وماء
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( شب قدر کو ) تلاش کرو۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " التمسوا
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا ہمیں عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو۔
حدثني محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في العشر الاواخر من رمضان، ويقول " تحروا ليلة القدر في العشر الاواخر من رمضان
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔ ( یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " التمسوها في العشر الاواخر من رمضان ليلة القدر في تاسعة تبقى، في سابعة تبقى، في خامسة تبقى
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابومجلز اور عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب قدر رمضان کے ( آخری ) عشرہ میں پڑتی ہے۔ جب نو راتیں گزر جائیں یا سات باقی رہ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد شب قدر سے تھی۔ عبدالوہاب نے ایوب اور خالد سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ شب قدر کو چوبیس تاریخ ( کی رات ) میں تلاش کرو۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا عبد الواحد، حدثنا عاصم، عن ابي مجلز، وعكرمة، قال ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي في العشر، هي في تسع يمضين او في سبع يبقين ". يعني ليلة القدر. قال عبد الوهاب عن ايوب. وعن خالد عن عكرمة عن ابن عباس التمسوا في اربع وعشرين
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، ان سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب قدر کی خبر دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑا کرنے لگے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آیا تھا کہ تمہیں شب قدر بتا دوں لیکن فلاں فلاں نے آپس میں جھگڑا کر لیا۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا اور امید یہی ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو گا۔ پس اب تم اس کی تلاش ( آخری عشرہ کی ) نو یا سات یا پانچ ( کی راتوں ) میں کیا کرو۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، حدثنا انس، عن عبادة بن الصامت، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم ليخبرنا بليلة القدر، فتلاحى رجلان من المسلمين، فقال " خرجت لاخبركم بليلة القدر، فتلاحى فلان وفلان، فرفعت، وعسى ان يكون خيرا لكم، فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابویعفور نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ( رمضان کا ) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تہبند مضبوط باندھتے ( یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے ) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي يعفور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل العشر شد ميزره، واحيا ليله، وايقظ اهله