Loading...

Loading...
کتب
۲۴ احادیث
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ نے چاہا کہ اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی سے قریب اقامت اختیار کر لیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ کیا کہ مدینہ کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو سلمہ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے، چنانچہ بنو سلمہ نے ( اپنی اصلی اقامت گاہ میں ) رہائش باقی رکھی۔
حدثنا ابن سلام، اخبرنا الفزاري، عن حميد الطويل، عن انس رضى الله عنه قال اراد بنو سلمة ان يتحولوا، الى قرب المسجد، فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تعرى المدينة، وقال " يا بني سلمة. الا تحتسبون اثاركم ". فاقاموا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( والی جگہ ) جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض ( کوثر ) پر ہو گا۔
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن عبيد الله بن عمر، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة، ومنبري على حوضي
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما بخار میں مبتلا ہو گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ جب بخار میں مبتلا ہوئے تو یہ شعر پڑھتے: ہر آدمی اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے حالانکہ اس کی موت اس کی جوتی کے تسمہ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور بلال رضی اللہ عنہ کا جب بخار اترتا تو آپ بلند آواز سے یہ اشعار پڑھتے: کاش! میں ایک رات مکہ کی وادی میں گزار سکتا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( گھاس ) ہوتیں۔ کاش! ایک دن میں مجنہ کے پانی پر پہنچتا اور کاش! میں شامہ اور طفیل ( پہاڑوں ) کو دیکھ سکتا۔ کہا کہ اے میرے اللہ! شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف مردودوں پر لعنت کر۔ انہوں نے اپنے وطن سے اس وبا کی زمین میں نکالا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح پیدا کر دے جس طرح مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ! اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور مدینہ کی آب و ہوا ہمارے لیے صحت خیز کر دے یہاں کے بخار کو جحیفہ میں بھیج دے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو یہ اللہ کی سب سے زیادہ وبا والی سر زمین تھی۔ انہوں نے کہا مدینہ میں بطحان نامی ایک نالہ سے ذرا ذرا بدمزہ اور بدبودار پانی بہا کرتا تھا۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وعك ابو بكر وبلال، فكان ابو بكر اذا اخذته الحمى يقول كل امري مصبح في اهله والموت ادنى من شراك نعله وكان بلال اذا اقلع عنه الحمى يرفع عقيرته يقول الا ليت شعري هل ابيتن ليلة بواد وحولي اذخر وجليل وهل اردن يوما مياه مجنة وهل يبدون لي شامة وطفيل قال اللهم العن شيبة بن ربيعة، وعتبة بن ربيعة، وامية بن خلف، كما اخرجونا من ارضنا الى ارض الوباء ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم حبب الينا المدينة كحبنا مكة او اشد، اللهم بارك لنا في صاعنا، وفي مدنا، وصححها لنا وانقل حماها الى الجحفة ". قالت وقدمنا المدينة، وهى اوبا ارض الله. قالت فكان بطحان يجري نجلا. تعني ماء اجنا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا کرتے تھے اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں مقدر کر دے۔ ابن زریع نے روح بن قاسم سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنی والدہ سے، انہوں نے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا تھا، ہشام نے بیان کیا، ان سے زید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث روایت کی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر رضى الله عنه قال اللهم ارزقني شهادة في سبيلك، واجعل موتي في بلد رسولك صلى الله عليه وسلم. وقال ابن زريع عن روح بن القاسم، عن زيد بن اسلم، عن امه، عن حفصة بنت عمر رضى الله عنهما قالت سمعت عمر، نحوه. وقال هشام عن زيد، عن ابيه، عن حفصة، سمعت عمر، رضى الله عنه