Loading...

Loading...
کتب
۲۴ احادیث
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن احول عاصم نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک ( یعنی جبل عیر سے ثور تک ) اس حد میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے نہ کوئی بدعت کی جائے اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا عاصم ابو عبد الرحمن الاحول، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المدينة حرم، من كذا الى كذا، لا يقطع شجرها، ولا يحدث فيها حدث، من احدث حدثا فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ ( ہجرت کر کے ) تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنو نجار تم ( اپنی اس زمین کی ) مجھ سے قیمت لے لو لیکن انہوں نے عرض کی کہ ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق فرمایا اور وہ اکھاڑی دی گئیں، ویرانہ کے متعلق حکم دیا اور وہ برابر کر دیا گیا، کھجور کے درختوں کے متعلق حکم دیا اور وہ کاٹ دیئے گئے اور وہ درخت قبلہ کی طرف بچھا دیئے گئے۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن ابي التياح، عن انس رضى الله عنه قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فامر ببناء المسجد فقال " يا بني النجار ثامنوني ". فقالوا لا نطلب ثمنه الا الى الله. فامر بقبور المشركين، فنبشت، ثم بالخرب فسويت، وبالنخل فقطع، فصفوا النخل قبلة المسجد
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں جو زمین ہے وہ میری زبان پر حرم ٹھہرائی گئی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے اور فرمایا بنوحارثہ! میرا خیال ہے کہ تم لوگ حرم سے باہر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگ حرم کے اندر ہی ہو۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن عبيد الله، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " حرم ما بين لابتى المدينة على لساني ". قال واتى النبي صلى الله عليه وسلم بني حارثة فقال " اراكم يا بني حارثة قد خرجتم من الحرم ". ثم التفت، فقال " بل انتم فيه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس کتاب اللہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صحیفہ کے سوا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ہے اور کوئی چیز ( شرعی احکام سے متعلق ) لکھی ہوئی صورت میں نہیں ہے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ عائر پہاڑی سے لے کر فلاں مقام تک حرم ہے، جس نے اس حد میں کوئی بدعت نکالی یا کسی بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں میں سے کسی کا بھی عہد کافی ہے اس لیے اگر کسی مسلمان کی ( دی ہوئی امان میں دوسرے مسلمان نے ) بدعہدی کی تو اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل، اور جو کوئی اپنے مالک کو چھوڑ کر اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے، اس پر اللہ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت مقبول ہے نہ نفل۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن علي رضى الله عنه قال ما عندنا شىء الا كتاب الله، وهذه الصحيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم " المدينة حرم، ما بين عاير الى كذا، من احدث فيها حدثا، او اوى محدثا، فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل ". وقال " ذمة المسلمين واحدة، فمن اخفر مسلما فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل، ومن تولى قوما بغير اذن مواليه، فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوالحباب سعید بن یسار سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسے شہر ( میں ہجرت ) کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا۔ ( یعنی سب کا سردار بنے گا ) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں لیکن اس کا نام مدینہ ہے وہ ( برے ) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، قال سمعت ابا الحباب، سعيد بن يسار يقول سمعت ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. " امرت بقرية تاكل القرى يقولون يثرب. وهى المدينة، تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباس بن سہل بن سعد نے اور ان سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس ہوتے ہوئے جب مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ یہ طابہ آ گیا۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان، قال حدثني عمرو بن يحيى، عن عباس بن سهل بن سعد، عن ابي حميد رضى الله عنه اقبلنا مع النبي صلى الله عليه وسلم من تبوك حتى اشرفنا على المدينة فقال " هذه طابة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں کبھی نہ چھیڑوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کی زمین دونوں پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه انه كان يقول لو رايت الظباء بالمدينة ترتع ما ذعرتها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين لابتيها حرام
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ مدینہ کو بہتر حالت میں چھوڑ جاؤ گے پھر وہ ایسا اجاڑ ہو جائے گا کہ پھر وہاں وحشی جانور، درند اور پرند بسنے لگیں گے اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینہ آئیں گے تاکہ اپنی بکریوں کو ہانک لے جائیں لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے آخر ثنیۃ الوداع تک جب پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يتركون المدينة على خير ما كانت، لا يغشاها الا العواف يريد عوافي السباع والطير واخر من يحشر راعيان من مزينة، يريدان المدينة ينعقان بغنمهما، فيجدانها وحشا، حتى اذا بلغا ثنية الوداع خرا على وجوههما
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ یمن فتح ہو گا تو لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور ان کو جو ان کی بات مان جائیں گے سوار کر کے مدینہ سے ( واپس یمن کو ) لے جائیں گے کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا اور عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی بات مانیں گے اپنے ساتھ ( عراق واپس ) لے جائیں گے کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لیے بہتر تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، عن سفيان بن ابي زهير رضى الله عنه انه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تفتح اليمن فياتي قوم يبسون، فيتحملون باهليهم ومن اطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، وتفتح الشام، فياتي قوم يبسون فيتحملون باهليهم ومن اطاعهم، والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، وتفتح العراق، فياتي قوم يبسون فيتحملون باهليهم ومن اطاعهم. والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قیامت کے قریب ) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، قال حدثني عبيد الله، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الايمان ليارز الى المدينة كما تارز الحية الى جحرها
ہم سے حسین بن حرث نے بیان کیا، کہا ہمیں فضل بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اہل مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا وہ اس طرح گھل جائے گا جیسے نمک میں پانی گھل جایا کرتا ہے۔
حدثنا حسين بن حريث، اخبرنا الفضل، عن جعيد، عن عايشة، قالت سمعت سعدا رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يكيد اهل المدينة احد الا انماع كما ينماع الملح في الماء
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے محلات میں سے ایک محل یعنی اونچے مکان پر چڑھے پھر فرمایا کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں نظر آ رہا ہے؟ میں بوندوں کے گرنے کی جگہ کی طرح تمہارے گھروں پر فتنوں کے نازل ہونے کی جگہوں کو دیکھ رہا ہوں۔ اس روایت کی متابعت معمر اور سلیمان بن کثیر نے زہری کے واسطہ سے کی ہے۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، حدثنا ابن شهاب، قال اخبرني عروة، سمعت اسامة رضى الله عنه قال اشرف النبي صلى الله عليه وسلم على اطم من اطام المدينة فقال " هل ترون ما ارى اني لارى مواقع الفتن خلال بيوتكم كمواقع القطر ". تابعه معمر وسليمان بن كثير عن الزهري
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا اس دور میں مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن جده، عن ابي بكرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال، لها يوميذ سبعة ابواب، على كل باب ملكان
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نعیم بن عبداللہ المجمر نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے نہ دجال۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. " على انقاب المدينة ملايكة، لا يدخلها الطاعون ولا الدجال
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ولید نے بیان کیا، ان سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے اسحٰق نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا الوليد، حدثنا ابو عمرو، حدثنا اسحاق، حدثني انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس من بلد الا سيطوه الدجال، الا مكة والمدينة، ليس له من نقابها نقب الا عليه الملايكة صافين، يحرسونها، ثم ترجف المدينة باهلها ثلاث رجفات، فيخرج الله كل كافر ومنافق
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال مدینہ کی ایک کھاری شور زمین تک پہنچے گا اس پر مدینہ میں داخلہ تو حرام ہو گا۔ ( مدینہ سے ) اس دن ایک شخص اس کی طرف نکل کر بڑھے گا، یہ لوگوں میں ایک بہترین نیک مرد ہو گا یا ( یہ فرمایا کہ ) بزرگ ترین لوگوں میں سے ہو گا وہ شخص کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع دی تھی دجال کہے گا کیا میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر ڈالوں تو تم لوگوں کو میرے معاملہ میں کوئی شبہ رہ جائے گا؟ اس کے حواری کہیں گے نہیں، چنانچہ دجال انہیں قتل کر کے پھر زندہ کر دے گا۔ جب دجال انہیں زندہ کر دے گا تو وہ بندہ کہے گا بخدا اب تو مجھ کو پورا حال معلوم ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے دجال کہے گا لاؤ اسے پھر قتل کر دوں لیکن اس مرتبہ وہ قابو نہ پا سکے گا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا طويلا عن الدجال، فكان فيما حدثنا به ان قال " ياتي الدجال وهو محرم عليه ان يدخل نقاب المدينة بعض السباخ التي بالمدينة، فيخرج اليه يوميذ رجل، هو خير الناس او من خير الناس فيقول اشهد انك الدجال، الذي حدثنا عنك رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثه، فيقول الدجال ارايت ان قتلت هذا ثم احييته، هل تشكون في الامر فيقولون لا. فيقتله، ثم يحييه فيقول حين يحييه والله ما كنت قط اشد بصيرة مني اليوم، فيقول الدجال اقتله فلا اسلط عليه
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام پر بیعت کی، دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجئیے! تین بار اس نے یہی کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا پھر فرمایا کہ مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ میل کچیل کو دور کر کے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔
حدثنا عمرو بن عباس، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر رضى الله عنه جاء اعرابي النبي صلى الله عليه وسلم فبايعه على الاسلام، فجاء من الغد محموما، فقال اقلني، فابى ثلاث مرار، فقال " المدينة كالكير، تنفي خبثها، وينصع طيبها
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے ( یہ منافقین تھے ) پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ ( برے ) لوگوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ میل کچیل دور کر دیتی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، قال سمعت زيد بن ثابت رضى الله عنه يقول لما خرج النبي صلى الله عليه وسلم الى احد رجع ناس من اصحابه فقالت فرقة نقتلهم. وقالت فرقة لا نقتلهم. فنزلت {فما لكم في المنافقين فيتين} وقال النبي صلى الله عليه وسلم " انها تنفي الرجال كما تنفي النار خبث الحديد
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے یونس بن شہاب سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اے اللہ! جتنی مکہ میں برکت عطا فرمائی ہے مدینہ میں اس سے دگنی برکت کر۔ جریر کے ساتھ اس روایت کی متابعت عثمان بن عمر نے یونس کے واسطہ کے ساتھ کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، سمعت يونس، عن ابن شهاب، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم اجعل بالمدينة ضعفى ما جعلت بمكة من البركة ". تابعه عثمان بن عمر عن يونس
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی سواری تیز فرما دیتے اور اگر کسی جانور کی پشت پر ہوتے تو مدینہ کی محبت میں اسے ایڑ لگاتے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا قدم من سفر، فنظر الى جدرات المدينة اوضع راحلته، وان كان على دابة، حركها من حبها