Loading...

Loading...
کتب
۱۱۸ احادیث
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عبيد الله بن ابي جعفر، قال سمعت حمزة بن عبد الله بن عمر، قال سمعت عبد الله بن عمر رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما يزال الرجل يسال الناس حتى ياتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم ". وقال ان الشمس تدنو يوم القيامة حتى يبلغ العرق نصف الاذن، فبينا هم كذلك استغاثوا بادم، ثم بموسى، ثم بمحمد صلى الله عليه وسلم ". وزاد عبد الله حدثني الليث حدثني ابن ابي جعفر " فيشفع ليقضى بين الخلق، فيمشي حتى ياخذ بحلقة الباب، فيوميذ يبعثه الله مقاما محمودا، يحمده اهل الجمع كلهم ". وقال معلى حدثنا وهيب، عن النعمان بن راشد، عن عبد الله بن مسلم، اخي الزهري عن حمزة، سمع ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم في المسالة
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے محمد بن زیاد نے خبر دی انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے در در پھرائیں۔ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس مال نہیں۔ لیکن اسے سوال سے شرم آتی ہے اور وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتا ( مسکین وہ جو کمائے مگر بقدر ضرورت نہ پا سکے ) ۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، اخبرني محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس المسكين الذي ترده الاكلة والاكلتان، ولكن المسكين الذي ليس له غنى ويستحيي او لا يسال الناس الحافا
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے ابن اشوع نے ‘ ان سے عامر شعبی نے۔ کہا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد نے بیان کیا۔ کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ انہیں کوئی ایسی حدیث لکھئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین باتیں پسند نہیں کرتا۔ بلاوجہ کی گپ شپ، فضول خرچی اور لوگوں سے بہت مانگنا۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا خالد الحذاء، عن ابن اشوع، عن الشعبي، حدثني كاتب المغيرة بن شعبة، قال كتب معاوية الى المغيرة بن شعبة ان اكتب، الى بشىء سمعته من النبي، صلى الله عليه وسلم. فكتب اليه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله كره لكم ثلاثا قيل وقال، واضاعة المال، وكثرة السوال
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے باپ سے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ان سے ابن شہاب نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال دیا۔ اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا۔ حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا ‘ فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا۔ لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا ‘ اور میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں ‘ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو دیتا ہوں ( اور دوسرے کو نظر انداز کر جاتا ہوں ) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔ کیونکہ ( جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں ) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور ( یعقوب بن ابراہیم ) اپنے والد سے ‘ وہ صالح سے ‘ وہ اسماعیل بن محمد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میری گردن اور مونڈھے کے بیچ میں مارا۔ اور فرمایا۔ سعد! ادھر سنو۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( قرآن مجید میں لفظ ) «كبكبوا» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے۔ اور سورۃ الملک میں جو «مكبا» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا۔ اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں کہ «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا۔ اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا صالح بن کیسان عمر میں زہری سے بڑے تھے وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے ہیں۔
حدثنا محمد بن غرير الزهري، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، عن ابيه، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، قال اخبرني عامر بن سعد، عن ابيه، قال اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا وانا جالس فيهم قال فترك رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم رجلا لم يعطه، وهو اعجبهم الى، فقمت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساررته فقلت ما لك عن فلان والله اني لاراه مومنا. قال " او مسلما " قال فسكت قليلا ثم غلبني ما اعلم فيه فقلت يا رسول الله. ما لك عن فلان والله اني لاراه مومنا. قال " او مسلما ". قال فسكت قليلا ثم غلبني ما اعلم فيه فقلت يا رسول الله ما لك عن فلان والله اني لاراه مومنا. قال " او مسلما يعني فقال اني لاعطي الرجل وغيره احب الى منه، خشية ان يكب في النار على وجهه ". وعن ابيه عن صالح عن اسماعيل بن محمد انه قال سمعت ابي يحدث هذا فقال في حديثه فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده فجمع بين عنقي وكتفي ثم قال " اقبل اى سعد اني لاعطي الرجل ". قال ابو عبد الله {فكبكبوا} قلبوا {مكبا} اكب الرجل اذا كان فعله غير واقع على احد، فاذا وقع الفعل قلت كبه الله لوجهه، وكببته انا
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے ابوالزناد سے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کا چکر کاٹتا پھرتا ہے تاکہ اسے دو ایک لقمہ یا دو ایک کھجور مل جائیں۔ بلکہ اصلی مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہیں کہ وہ اس کے ذریعہ سے بےپرواہ ہو جائے۔ اس حال میں بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کوئی اسے صدقہ ہی دیدے اور نہ وہ خود ہاتھ پھیلانے کے لیے اٹھتا ہے۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان، ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه، ولا يفطن به فيتصدق عليه، ولا يقوم فيسال الناس
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ‘ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر ( میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) پہاڑوں میں چلا جائے پھر لکڑیاں جمع کر کے انہیں فروخت کرے۔ اس سے کھائے بھی اور صدقہ بھی کرے۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لان ياخذ احدكم حبله، ثم يغدو احسبه قال الى الجبل فيحتطب، فيبيع فياكل ويتصدق خير له من ان يسال الناس ". قال ابو عبد الله صالح بن كيسان اكبر من الزهري، وهو قد ادرك ابن عمر
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب، عن عمرو بن يحيى، عن عباس الساعدي، عن ابي حميد الساعدي، قال غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك فلما جاء وادي القرى اذا امراة في حديقة لها فقال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " اخرصوا ". وخرص رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة اوسق فقال لها " احصي ما يخرج منها ". فلما اتينا تبوك قال " اما انها ستهب الليلة ريح شديدة فلا يقومن احد، ومن كان معه بعير فليعقله ". فعقلناها وهبت ريح شديدة فقام رجل فالقته بجبل طيي واهدى ملك ايلة للنبي صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء، وكساه بردا وكتب له ببحرهم فلما اتى وادي القرى قال للمراة " كم جاء حديقتك ". قالت عشرة اوسق خرص رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني متعجل الى المدينة، فمن اراد منكم ان يتعجل معي فليتعجل ". فلما قال ابن بكار كلمة معناها اشرف على المدينة قال " هذه طابة ". فلما راى احدا قال " هذا جبيل يحبنا ونحبه، الا اخبركم بخير دور الانصار ". قالوا بلى. قال " دور بني النجار، ثم دور بني عبد الاشهل، ثم دور بني ساعدة، او دور بني الحارث بن الخزرج، وفي كل دور الانصار يعني خيرا ". وقال سليمان بن بلال حدثني عمرو، " ثم دار بني الحارث، ثم بني ساعدة ". وقال سليمان عن سعد بن سعيد، عن عمارة بن غزية، عن عباس، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احد جبل يحبنا ونحبه ". قال ابو عبد الله كل بستان عليه حايط فهو حديقة، وما لم يكن عليه حايط لم يقل حديقة
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب، عن عمرو بن يحيى، عن عباس الساعدي، عن ابي حميد الساعدي، قال غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك فلما جاء وادي القرى اذا امراة في حديقة لها فقال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " اخرصوا ". وخرص رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة اوسق فقال لها " احصي ما يخرج منها ". فلما اتينا تبوك قال " اما انها ستهب الليلة ريح شديدة فلا يقومن احد، ومن كان معه بعير فليعقله ". فعقلناها وهبت ريح شديدة فقام رجل فالقته بجبل طيي واهدى ملك ايلة للنبي صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء، وكساه بردا وكتب له ببحرهم فلما اتى وادي القرى قال للمراة " كم جاء حديقتك ". قالت عشرة اوسق خرص رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني متعجل الى المدينة، فمن اراد منكم ان يتعجل معي فليتعجل ". فلما قال ابن بكار كلمة معناها اشرف على المدينة قال " هذه طابة ". فلما راى احدا قال " هذا جبيل يحبنا ونحبه، الا اخبركم بخير دور الانصار ". قالوا بلى. قال " دور بني النجار، ثم دور بني عبد الاشهل، ثم دور بني ساعدة، او دور بني الحارث بن الخزرج، وفي كل دور الانصار يعني خيرا ". وقال سليمان بن بلال حدثني عمرو، " ثم دار بني الحارث، ثم بني ساعدة ". وقال سليمان عن سعد بن سعيد، عن عمارة بن غزية، عن عباس، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احد جبل يحبنا ونحبه ". قال ابو عبد الله كل بستان عليه حايط فهو حديقة، وما لم يكن عليه حايط لم يقل حديقة
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے خبر دی ‘ انہیں شہاب نے ‘ انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ زمین جسے آسمان ( بارش کا پانی ) یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خودبخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ یہ حدیث یعنی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ جس کھیتی میں آسمان کا پانی دیا جائے ‘ دسواں حصہ ہے پہلی حدیث یعنی ابوسعید کی حدیث کی تفسیر ہے۔ اس میں زکوٰۃ کی کوئی مقدار مذکور نہیں ہے اور اس میں مذکور ہے۔ اور زیادتی قبول کی جاتی ہے۔ اور گول مول حدیث کا حکم صاف صاف حدیث کے موافق لیا جاتا ہے۔ جب اس کا راوی ثقہ ہو۔ جیسے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی۔ لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ( کعبہ میں ) پڑھی تھی۔ اس موقع پر بھی بلال رضی اللہ عنہ کی بات قبول کی گئی اور فضل رضی اللہ عنہ کا قول چھوڑ دیا گیا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني يونس بن يزيد، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فيما سقت السماء والعيون او كان عثريا العشر، وما سقي بالنضح نصف العشر ". قال ابو عبد الله هذا تفسير الاول لانه لم يوقت في الاول يعني حديث ابن عمر وفيما سقت السماء العشر وبين في هذا ووقت، والزيادة مقبولة، والمفسر يقضي على المبهم اذا رواه اهل الثبت، كما روى الفضل بن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يصل في الكعبة. وقال بلال قد صلى. فاخذ بقول بلال وترك قول الفضل
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور پانچ مہار اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ اور چاندی کے پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا مالك، قال حدثني محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما اقل من خمسة اوسق صدقة، ولا في اقل من خمسة من الابل الذود صدقة، ولا في اقل من خمس اواق من الورق صدقة ". قال ابو عبد الله هذا تفسير الاول اذا قال " ليس فيما دون خمسة اوسق صدقة ". ويوخذ ابدا في العلم بما زاد اهل الثبت او بينوا
ہم سے عمر بن محمد بن حسن اسدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس توڑنے کے وقت زکوٰۃ کی کھجور لائی جاتی، ہر شخص اپنی زکوٰۃ لاتا اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ کھجور کا ایک ڈھیر لگ جاتا۔ ( ایک مرتبہ ) حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ایسی ہی کھجوروں سے کھیل رہے تھے کہ ایک نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جونہی دیکھا تو ان کے منہ سے وہ کھجور نکال لی۔ اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد زکوٰۃ کا مال نہیں کھا سکتی۔
حدثنا عمر بن محمد بن الحسن الاسدي، حدثنا ابي، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتى بالتمر عند صرام النخل فيجيء هذا بتمره وهذا من تمره حتى يصير عنده كوما من تمر، فجعل الحسن والحسين رضى الله عنهما يلعبان بذلك التمر، فاخذ احدهما تمرة، فجعلها في فيه، فنظر اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخرجها من فيه فقال " اما علمت ان ال محمد صلى الله عليه وسلم لا ياكلون الصدقة
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو ( درخت پر ) اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب پوچھتے کہ اس کی پختگی کیا ہے، وہ کہتے کہ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اب یہ پھل آفت سے بچ رہے گا۔
حدثنا حجاج، حدثنا شعبة، اخبرني عبد الله بن دينار، سمعت ابن عمر رضى الله عنهما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها. وكان اذا سيل عن صلاحها قال حتى تذهب عاهته
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی کھل نہ جائے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثني الليث، حدثني خالد بن يزيد، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما . نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها
ہم سے قتیبہ نے امام مالک سے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک پھل پر سرخی نہ آ جائے ‘ انہیں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن حميد، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى تزهي، قال حتى تحمار
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سالم نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کے راستہ میں صدقہ کیا۔ پھر اسے آپ نے دیکھا کہ وہ بازار میں فروخت ہو رہا ہے۔ اس لیے ان کی خواہش ہوئی کہ اسے وہ خود ہی خرید لیں۔ اور اجازت لینے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ اسی وجہ سے اگر ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنا دیا ہوا کوئی صدقہ خرید لیتے ‘ تو پھر اسے صدقہ کر دیتے تھے۔ ( اپنے استعمال میں نہ رکھتے تھے۔ باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ) ۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما كان يحدث ان عمر بن الخطاب تصدق بفرس في سبيل الله فوجده يباع، فاراد ان يشتريه، ثم اتى النبي صلى الله عليه وسلم فاستامره فقال " لا تعد في صدقتك " فبذلك كان ابن عمر رضى الله عنهما لا يترك ان يبتاع شييا تصدق به الا جعله صدقة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کر دیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر رضى الله عنه يقول حملت على فرس في سبيل الله، فاضاعه الذي كان عنده، فاردت ان اشتريه، وظننت انه يبيعه برخص، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لا تشتر ولا تعد في صدقتك، وان اعطاكه بدرهم، فان العايد في صدقته كالعايد في قييه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ کی کھجوروں کے ڈھیر سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چھی چھی! نکالو اسے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگ صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة رضى الله عنه قال اخذ الحسن بن علي رضى الله عنهما تمرة من تمر الصدقة، فجعلها في فيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كخ كخ ليطرحها ثم قال اما شعرت انا لا ناكل الصدقة
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو جو بکری صدقہ میں کسی نے دی تھی وہ مری ہوئی دیکھی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے چمڑے کو کیوں نہیں کام میں لائے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال وجد النبي صلى الله عليه وسلم شاة ميتة اعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، قال النبي صلى الله عليه وسلم " هلا انتفعتم بجلدها ". قالوا انها ميتة. قال " انما حرم اكلها
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ان کا ارادہ ہوا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ( جو باندی تھیں ) آزاد کر دینے کے لیے خرید لیں۔ لیکن اس کے اصل مالک یہ چاہتے تھے کہ ولاء انہیں کے لیے رہے۔ اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم خرید کر آزاد کر دو ‘ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے ‘ جو آزاد کرے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا۔ میں نے کہا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے صدقہ کے طور پر دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھا۔ لیکن اب ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها انها ارادت ان تشتري بريرة للعتق، واراد مواليها ان يشترطوا ولاءها، فذكرت عايشة للنبي صلى الله عليه وسلم فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اشتريها، فانما الولاء لمن اعتق ". قالت واتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم فقلت هذا ما تصدق به على بريرة فقال " هو لها صدقة، ولنا هدية
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نہیں کوئی چیز نہیں۔ ہاں نسیبہ رضی اللہ عنہا کا بھیجا ہوا اس بکری کا گوشت ہے جو انہیں صدقہ کے طور پر ملی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ خیرات تو اپنے ٹھکانے پہنچ گئی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية الانصارية رضى الله عنها قالت دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عايشة رضى الله عنها فقال " هل عندكم شىء ". فقالت لا. الا شىء بعثت به الينا نسيبة من الشاة التي بعثت بها من الصدقة. فقال " انها قد بلغت محلها