Loading...

Loading...
کتب
۱۱۸ احادیث
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ ان سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا۔
حدثنا ابو عاصم الضحاك بن مخلد، عن زكرياء بن اسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا رضى الله عنه الى اليمن فقال " ادعهم الى شهادة ان لا اله الا الله، واني رسول الله، فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم صدقة في اموالهم، توخذ من اغنيايهم وترد على فقرايهم
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب سے بیان کیا ہے ‘ ان سے موسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ آخر یہ کیا چاہتا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت اہم ضرورت ہے۔ ( سنو ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراو۔ نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ دو اور صلہ رحمی کرو۔ اور بہز نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن عثمان اور ان کے باپ عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ ان دونوں صاحبان نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح ( سنا ) ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ محمد سے روایت غیر محفوظ ہے اور روایت عمرو بن عثمان سے ( محفوظ ہے ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابن عثمان بن عبد الله بن موهب، عن موسى بن طلحة، عن ابي ايوب، رضى الله عنه ان رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم اخبرني بعمل يدخلني الجنة. قال ما له ما له وقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارب ماله، تعبد الله، ولا تشرك به شييا، وتقيم الصلاة، وتوتي الزكاة، وتصل الرحم ". وقال بهز حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن عثمان، وابوه، عثمان بن عبد الله انهما سمعا موسى بن طلحة، عن ابي ايوب، بهذا. قال ابو عبد الله اخشى ان يكون، محمد غير محفوظ انما هو عمرو
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید بن حیان نے ‘ ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر ‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ فرض نماز قائم کر ‘ فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ۔ دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا وهيب، عن يحيى بن سعيد بن حيان، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان اعرابيا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال دلني على عمل اذا عملته دخلت الجنة. قال " تعبد الله لا تشرك به شييا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتودي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان ". قال والذي نفسي بيده لا ازيد على هذا. فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم " من سره ان ينظر الى رجل من اهل الجنة فلينظر الى هذا ". حدثنا مسدد، عن يحيى، عن ابي حيان، قال اخبرني ابو زرعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
ہم سے حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور قبیلہ مضر کے کافر ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت کے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( کیونکہ ان مہینوں میں لڑائیاں بند ہو جاتی ہیں اور راستے پرامن ہو جاتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کچھ ایسی باتیں بتلا دیجئیے جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ کے لوگوں سے بھی ان پر عمل کرنے کے لیے کہیں جو ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کی شہادت دینے کا ( یہ کہتے ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے ایک طرف اشارہ کیا۔ نماز قائم کرنا ‘ پھر زکوٰۃ ادا کرنا اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنے ( کا حکم دیتا ہوں ) اور میں تمہیں کدو کے تونبی سے اور حنتم ( سبز رنگ کا چھوٹا سا مرتبان جیسا گھڑا ) فقیر ( کھجور کی جڑ سے کھودا ہوا ایک برتن ) اور زفت لگا ہوا برتن ( زفت بصرہ میں ایک قسم کا تیل ہوتا تھا ) کے استعمال سے منع کرتا ہوں۔ سلیمان اور ابوالنعمان نے حماد کے واسطہ سے یہی روایت اس طرح بیان کی ہے۔ «الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله» یعنی اللہ پر ایمان لانے کا مطلب «لا إله إلا الله» کی گواہی دینا۔
حدثنا حجاج، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ابو جمرة، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله ان هذا الحى من ربيعة قد حالت بيننا وبينك كفار مضر، ولسنا نخلص اليك الا في الشهر الحرام، فمرنا بشىء ناخذه عنك، وندعو اليه من وراءنا. قال " امركم باربع، وانهاكم عن اربع الايمان بالله وشهادة ان لا اله الا الله وعقد بيده هكذا واقام الصلاة، وايتاء الزكاة، وان تودوا خمس ما غنمتم، وانهاكم عن الدباء والحنتم والنقير والمزفت ". وقال سليمان وابو النعمان عن حماد " الايمان بالله شهادة ان لا اله الا الله
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے ( اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں ”مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دیدے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا۔ سوا اسی کے حق کے ( یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے ) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔
حدثنا ابو اليمان الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب بن ابي حمزة، عن الزهري، حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ابو بكر رضى الله عنه وكفر من كفر من العرب فقال عمر رضى الله عنه كيف تقاتل الناس، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله. فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه الا بحقه، وحسابه على الله ". فقال والله لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فان الزكاة حق المال، والله لو منعوني عناقا كانوا يودونها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها. قال عمر رضى الله عنه فوالله ما هو الا ان قد شرح الله صدر ابي بكر رضى الله عنه فعرفت انه الحق
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے ( اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں ”مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دیدے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا۔ سوا اسی کے حق کے ( یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے ) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔
حدثنا ابو اليمان الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب بن ابي حمزة، عن الزهري، حدثنا عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ابو بكر رضى الله عنه وكفر من كفر من العرب فقال عمر رضى الله عنه كيف تقاتل الناس، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله. فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه الا بحقه، وحسابه على الله ". فقال والله لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فان الزكاة حق المال، والله لو منعوني عناقا كانوا يودونها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعها. قال عمر رضى الله عنه فوالله ما هو الا ان قد شرح الله صدر ابي بكر رضى الله عنه فعرفت انه الحق
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے ‘ زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی تھی۔
حدثنا ابن نمير، قال حدثني ابي، حدثنا اسماعيل، عن قيس، قال قال جرير بن عبد الله بايعت النبي صلى الله عليه وسلم على اقام الصلاة، وايتاء الزكاة، والنصح لكل مسلم
ہم سے ابولیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ ( قیامت کے دن ) اپنے مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کا حق ( زکوٰۃ ) نہ ادا کیا کہ اس سے زیادہ موٹے تازے ہو کر آئیں گے ( جیسے دنیا میں تھے ) اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گے۔ بکریاں بھی اپنے ان مالکوں کے پاس جنہوں نے ان کے حق نہیں دئیے تھے پہلے سے زیادہ موٹی تازی ہو کر آئیں گی اور انہیں اپنے کھروں سے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے ماریں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حق یہ بھی ہے کہ اسے پانی ہی پر ( یعنی جہاں وہ چراگاہ میں چر رہی ہوں ) دوہا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص قیامت کے دن اس طرح نہ آئے کہ وہ اپنی گردن پر ایک ایسی بکری اٹھائے ہوئے ہو جو چلا رہی ہو اور وہ ( شخص ) مجھ سے کہے کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مجھے عذاب سے بچائیے میں اسے یہ جواب دوں گا کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا ( میرا کام پہنچانا تھا ) سو میں نے پہنچا دیا۔ اسی طرح کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ لیے ہوئے قیامت کے دن نہ آئے کہ اونٹ چلا رہا ہو اور وہ خود مجھ سے فریاد کرے ‘ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مجھے بچائیے اور میں یہ جواب دے دوں کہ تیرے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تجھ کو ( اللہ کا حکم زکوٰۃ ) پہنچا دیا تھا۔
حدثنا الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " تاتي الابل على صاحبها، على خير ما كانت، اذا هو لم يعط فيها حقها، تطوه باخفافها، وتاتي الغنم على صاحبها على خير ما كانت، اذا لم يعط فيها حقها، تطوه باظلافها، وتنطحه بقرونها ". وقال " ومن حقها ان تحلب على الماء ". قال " ولا ياتي احدكم يوم القيامة بشاة يحملها على رقبته لها يعار، فيقول يا محمد. فاقول لا املك لك شييا قد بلغت. ولا ياتي ببعير، يحمله على رقبته له رغاء، فيقول يا محمد. فاقول لا املك لك شييا قد بلغت
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن قاسم نے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے اپنے والد سے بیان کیا ‘ ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس کی آنکھوں کے پاس دو سیاہ نقطے ہوں گے۔ جیسے سانپ کے ہوتے ہیں ‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال اور خزانہ ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ”اور وہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے۔ قیامت میں اس کا طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈالا جائے گا۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اتاه الله مالا، فلم يود زكاته مثل له يوم القيامة شجاعا اقرع، له زبيبتان، يطوقه يوم القيامة، ثم ياخذ بلهزمتيه يعني شدقيه ثم يقول انا مالك، انا كنزك " ثم تلا {لا يحسبن الذين يبخلون} الاية
ہم سے احمد بن شبیب بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے میرے والد شبیب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے خالد بن اسلم نے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ ایک اعرابی نے آپ سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر بتلائیے ”جو لوگ سونے اور چاندی کا خزانہ بنا کر رکھتے ہیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا جواب دیا کہ اگر کسی نے سونا چاندی جمع کیا اور اس کی زکوٰۃ نہ دی تو اس کے لیے «ويل» ( خرابی ) ہے۔ یہ حکم زکوٰۃ کے احکام نازل ہونے سے پہلے تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا حکم نازل کر دیا تو اب وہی زکوٰۃ مال و دولت کو پاک کر دینے والی ہے۔
وقال احمد بن شبيب بن سعيد حدثنا ابي، عن يونس، عن ابن شهاب، عن خالد بن اسلم، قال خرجنا مع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما فقال اعرابي اخبرني قول الله، {والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله} قال ابن عمر رضى الله عنهما من كنزها فلم يود زكاتها فويل له، انما كان هذا قبل ان تنزل الزكاة فلما انزلت جعلها الله طهرا للاموال
ہم سے اسحاق بن یزید نے حدیث بیان کی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن اسحاق نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی کہ عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے انہیں خبر دی اپنے والد یحییٰ بن عمارہ بن ابوالحسن سے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم ( غلہ ) میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدثنا اسحاق بن يزيد، اخبرنا شعيب بن اسحاق، قال الاوزاعي اخبرني يحيى بن ابي كثير، ان عمرو بن يحيى بن عمارة، اخبره عن ابيه، يحيى بن عمارة بن ابي الحسن انه سمع ابا سعيد رضى الله عنه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمس اواق صدقة، وليس فيما دون خمس ذود صدقة، وليس فيما دون خمس اوسق صدقة
ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا ‘ انہوں نے ہشیم سے سنا ‘ کہا کہ ہمیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں زید بن وہب نے کہا کہ میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آ گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں شام میں تھا تو معاویہ رضی اللہ عنہ سے میرا اختلاف ( قرآن کی آیت ) ”جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ کے متعلق ہو گیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ ( جو ان دنوں خلیفۃ المسلمین تھے ) کے یہاں میری شکایت لکھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں۔ چنانچہ میں چلا آیا۔ ( وہاں جب پہنچا ) تو لوگوں کا میرے یہاں اس طرح ہجوم ہونے لگا جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ الگ قیام اختیار کر لو۔ یہی بات ہے جو مجھے یہاں ( ربذہ ) تک لے آئی ہے۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔
حدثنا علي، سمع هشيما، اخبرنا حصين، عن زيد بن وهب، قال مررت بالربذة فاذا انا بابي، ذر رضى الله عنه فقلت له ما انزلك منزلك هذا قال كنت بالشام، فاختلفت انا ومعاوية في الذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله. قال معاوية نزلت في اهل الكتاب. فقلت نزلت فينا وفيهم. فكان بيني وبينه في ذاك، وكتب الى عثمان رضى الله عنه يشكوني، فكتب الى عثمان ان اقدم المدينة. فقدمتها فكثر على الناس حتى كانهم لم يروني قبل ذلك، فذكرت ذاك لعثمان فقال لي ان شيت تنحيت فكنت قريبا. فذاك الذي انزلني هذا المنزل، ولو امروا على حبشيا لسمعت واطعت
حدثنا عياش، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا الجريري، عن ابي العلاء، عن الاحنف بن قيس، قال جلست. وحدثني اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الصمد، قال حدثني ابي، حدثنا الجريري، حدثنا ابو العلاء بن الشخير، ان الاحنف بن قيس، حدثهم قال جلست الى ملا من قريش، فجاء رجل خشن الشعر والثياب والهيية حتى قام عليهم فسلم ثم قال بشر الكانزين برضف يحمى عليه في نار جهنم، ثم يوضع على حلمة ثدى احدهم حتى يخرج من نغض كتفه، ويوضع على نغض كتفه حتى يخرج من حلمة ثديه يتزلزل، ثم ولى فجلس الى سارية، وتبعته وجلست اليه، وانا لا ادري من هو فقلت له لا ارى القوم الا قد كرهوا الذي قلت. قال انهم لا يعقلون شييا. قال لي خليلي قال قلت من خليلك قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر اتبصر احدا ". قال فنظرت الى الشمس ما بقي من النهار وانا ارى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرسلني في حاجة له، قلت نعم. قال " ما احب ان لي مثل احد ذهبا انفقه كله الا ثلاثة دنانير ". وان هولاء لا يعقلون، انما يجمعون الدنيا. لا والله لا اسالهم دنيا، ولا استفتيهم عن دين حتى القى الله
حدثنا عياش، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا الجريري، عن ابي العلاء، عن الاحنف بن قيس، قال جلست. وحدثني اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الصمد، قال حدثني ابي، حدثنا الجريري، حدثنا ابو العلاء بن الشخير، ان الاحنف بن قيس، حدثهم قال جلست الى ملا من قريش، فجاء رجل خشن الشعر والثياب والهيية حتى قام عليهم فسلم ثم قال بشر الكانزين برضف يحمى عليه في نار جهنم، ثم يوضع على حلمة ثدى احدهم حتى يخرج من نغض كتفه، ويوضع على نغض كتفه حتى يخرج من حلمة ثديه يتزلزل، ثم ولى فجلس الى سارية، وتبعته وجلست اليه، وانا لا ادري من هو فقلت له لا ارى القوم الا قد كرهوا الذي قلت. قال انهم لا يعقلون شييا. قال لي خليلي قال قلت من خليلك قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر اتبصر احدا ". قال فنظرت الى الشمس ما بقي من النهار وانا ارى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرسلني في حاجة له، قلت نعم. قال " ما احب ان لي مثل احد ذهبا انفقه كله الا ثلاثة دنانير ". وان هولاء لا يعقلون، انما يجمعون الدنيا. لا والله لا اسالهم دنيا، ولا استفتيهم عن دين حتى القى الله
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے اسماعیل بن ابی خالد سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حسد ( رشک ) کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی ) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابن مسعود رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا حسد الا في اثنتين رجل اتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، ورجل اتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوالنضر سالم بن ابی امیہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ عبدالرحمٰن کے ساتھ اس روایت کی متابعت سلیمان نے عبداللہ بن دینار کی روایت سے کی ہے اور ورقاء نے ابن دینار سے کہا ‘ ان سے سعید بن یسار نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت مسلم بن ابی مریم ‘ زید بن اسلم اور سہیل نے ابوصالح سے کی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا عبد الله بن منير، سمع ابا النضر، حدثنا عبد الرحمن هو ابن عبد الله بن دينار عن ابيه، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله الا الطيب وان الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبه كما يربي احدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل ". تابعه سليمان عن ابن دينار. وقال ورقاء عن ابن دينار، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم. ورواه مسلم بن ابي مريم وزيد بن اسلم وسهيل عن ابي صالح عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن خالد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ صدقہ کرو ‘ ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں پائے گا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا معبد بن خالد، قال سمعت حارثة بن وهب، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " تصدقوا فانه ياتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته، فلا يجد من يقبلها يقول الرجل لو جيت بها بالامس لقبلتها، فاما اليوم فلا حاجة لي بها
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت آنے سے پہلے مال و دولت کی اس قدر کثرت ہو جائے گی اور لوگ اس قدر مالدار ہو جائیں گے کہ اس وقت صاحب مال کو اس کی فکر ہو گی کہ اس کی زکوٰۃ کون قبول کرے اور اگر کسی کو دینا بھی چاہے گا تو اس کو یہ جواب ملے گا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يكثر فيكم المال فيفيض، حتى يهم رب المال من يقبل صدقته، وحتى يعرضه فيقول الذي يعرضه عليه لا ارب لي
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں سعدان بن بشیر نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے ابومجاہد سعد طائی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محل بن خلیفہ طائی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ دو شخص آئے ‘ ایک فقر و فاقہ کی شکایت لیے ہوئے تھا اور دوسرے کو راستوں کے غیر محفوظ ہونے کی شکایت تھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں تک راستوں کے غیر محفوظ ہونے کا تعلق ہے تو بہت جلد ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک قافلہ مکہ سے کسی محافظ کے بغیر نکلے گا۔ ( اور اسے راستے میں کوئی خطرہ نہ ہو گا ) اور رہا فقر و فاقہ تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ( مال و دولت کی کثرت کی وجہ سے یہ حال نہ ہو جائے کہ ) ایک شخص اپنا صدقہ لے کر تلاش کرے لیکن کوئی اسے لینے والا نہ ملے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہ ہو گا اور نہ ترجمانی کے لیے کوئی ترجمان ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ کیا میں نے تجھے دنیا میں مال نہیں دیا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا میں نے تیرے پاس پیغمبر نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا کہ ہاں بھیجا تھا۔ پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا پھر بائیں طرف دیکھے گا اور ادھر بھی آگ ہی آگ ہو گی۔ پس تمہیں جہنم سے ڈرنا چاہیے خواہ ایک کھجور کے ٹکڑے ہی ( کا صدقہ کر کے اس سے اپنا بچاؤ کر سکو ) اگر یہ بھی میسر نہ آ سکے تو اچھی بات ہی منہ سے نکالے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عاصم النبيل، اخبرنا سعدان بن بشر، حدثنا ابو مجاهد، حدثنا محل بن خليفة الطايي، قال سمعت عدي بن حاتم رضى الله عنه يقول كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءه رجلان احدهما يشكو العيلة، والاخر يشكو قطع السبيل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما قطع السبيل فانه لا ياتي عليك الا قليل حتى تخرج العير الى مكة بغير خفير، واما العيلة فان الساعة لا تقوم حتى يطوف احدكم بصدقته لا يجد من يقبلها منه، ثم ليقفن احدكم بين يدى الله ليس بينه وبينه حجاب ولا ترجمان يترجم له، ثم ليقولن له الم اوتك مالا فليقولن بلى. ثم ليقولن الم ارسل اليك رسولا فليقولن بلى. فينظر عن يمينه فلا يرى الا النار، ثم ينظر عن شماله فلا يرى الا النار، فليتقين احدكم النار ولو بشق تمرة، فان لم يجد فبكلمة طيبة
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آ جائے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی کیونکہ مردوں کی کمی ہو جائے گی اور عورتوں کی زیادتی ہو گی۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لياتين على الناس زمان يطوف الرجل فيه بالصدقة من الذهب ثم لا يجد احدا ياخذها منه، ويرى الرجل الواحد يتبعه اربعون امراة، يلذن به من قلة الرجال وكثرة النساء