Loading...

Loading...
کتب
۱۱۸ احادیث
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث آپ لوگوں میں کس کو یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا میں اس طرح یاد رکھتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا تھا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہیں اس کے بیان پر جرات ہے۔ اچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ میں نے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) انسان کی آزمائش ( فتنہ ) اس کے خاندان ‘ اولاد اور پڑوسیوں میں ہوتی ہے اور نماز ‘ صدقہ اور اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے منع کرنا اس فتنے کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اعمش نے کہا ابووائل کبھی یوں کہتے تھے۔ نماز اور صدقہ اور اچھی باتوں کا حکم دینا بری بات سے روکنا ‘ یہ اس فتنے کو مٹا دینے والے نیک کام ہیں۔ پھر اس فتنے کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری مراد اس فتنہ سے نہیں۔ میں اس فتنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جو سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا پھیلے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ میں نے کہا کہ امیرالمؤمنین آپ اس فتنے کی فکر نہ کیجئے آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا صرف کھولا جائے گا۔ انہوں نے بتلایا نہیں بلکہ وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب دروازہ توڑ دیا جائے گا تو پھر کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا ابووائل نے کہا کہ ہاں پھر ہم رعب کی وجہ سے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ نہ پوچھ سکے کہ وہ دروازہ کون ہے؟ اس لیے ہم نے مسروق سے کہا کہ تم پوچھو۔ انہوں نے کہا کہ مسروق رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دروازہ سے مراد خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ ہم نے پھر پوچھا تو کیا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ آپ کی مراد کون تھی؟ انہوں نے کہا ہاں جیسے دن کے بعد رات کے آنے کو جانتے ہیں اور یہ اس لیے کہ میں نے جو حدیث بیان کی وہ غلط نہیں تھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن حذيفة رضى الله عنه قال قال عمر رضى الله عنه ايكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الفتنة قال قلت انا احفظه كما قال. قال انك عليه لجريء فكيف قال قلت فتنة الرجل في اهله وولده وجاره تكفرها الصلاة والصدقة والمعروف. قال سليمان قد كان يقول " الصلاة والصدقة، والامر بالمعروف والنهى عن المنكر ". قال ليس هذه اريد، ولكني اريد التي تموج كموج البحر. قال قلت ليس عليك بها يا امير المومنين باس، بينك وبينها باب مغلق. قال فيكسر الباب او يفتح. قال قلت لا. بل يكسر. قال فانه اذا كسر لم يغلق ابدا. قال قلت اجل. فهبنا ان نساله من الباب فقلنا لمسروق سله. قال فساله. فقال عمر رضى الله عنه . قال قلنا فعلم عمر من تعني قال نعم، كما ان دون غد ليلة، وذلك اني حدثته حديثا ليس بالاغاليط
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ‘ انہیں عروہ نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں سے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صدقہ ‘ غلام آزاد کرنے اور صلہ رحمی کی صورت میں کیا کرتا تھا۔ کیا ان کا مجھے ثواب ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی ان تمام نیکیوں کے ساتھ اسلام لائے ہو جو پہلے گزر چکی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن حكيم بن حزام رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله ارايت اشياء كنت اتحنث بها في الجاهلية من صدقة او عتاقة وصلة رحم فهل فيها من اجر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اسلمت على ما سلف من خير
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہیں ہوتی تو اسے بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تصدقت المراة من طعام زوجها غير مفسدة كان لها اجرها، ولزوجها بما كسب، وللخازن مثل ذلك
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «خازن» مسلمان امانتدار جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا وہ چیز پوری طرح دیتا ہے جس کا اسے سرمایہ کے مالک کی طرف سے حکم دیا گیا اور اس کا دل بھی اس سے خوش ہے اور اسی کو دیا ہے جسے دینے کے لیے مالک نے کہا تھا تو وہ دینے والا بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخازن المسلم الامين الذي ينفذ وربما قال يعطي ما امر به كاملا موفرا طيب به نفسه، فيدفعه الى الذي امر له به، احد المتصدقين
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے منصور بن معمر اور اعمش دونوں نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر ( کے مال ) سے صدقہ کرے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا منصور، والاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم تعني اذا تصدقت المراة من بيت زوجها
(دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے ابووائل شقیق نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بیوی اپنے شوہر کے مال میں سے کسی کو کھلائے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا بھی نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ملتا ہے اور شوہر کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے اور خزانچی کو بھی ویسا ہی ثواب ملتا ہے۔ شوہر کو کمانے کی وجہ سے ثواب ملتا ہے اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اطعمت المراة من بيت زوجها غير مفسدة، لها اجرها، وله مثله، وللخازن مثل ذلك، له بما اكتسب، ولها بما انفقت
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے منصور سے بیان کیا، ان سے ابووائل شقیق نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کے کھانے کی چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس کا ارادہ گھر کو بگاڑنے کا نہ ہو تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور شوہر کو کمانے کا ثواب ملے گا ‘ اسی طرح خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملے گا۔
حدثنا يحيى بن يحيى، اخبرنا جرير، عن منصور، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا انفقت المراة من طعام بيتها غير مفسدة فلها اجرها، وللزوج بما اكتسب، وللخازن مثل ذلك
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے بھائی ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے ‘ ان سے ابوالحباب سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! «ممسك» اور بخیل کے مال کو تلف کر دے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن معاوية بن ابي مزرد، عن ابي الحباب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من يوم يصبح العباد فيه الا ملكان ينزلان فيقول احدهما اللهم اعط منفقا خلفا، ويقول الاخر اللهم اعط ممسكا تلفا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی طرح ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہیں۔ ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں ابوالزناد نے خبر دی کہ عبداللہ بن ہرمز اعرج نے ان سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی سی ہے جن کے بدن پر لوہے کے دو کرتے ہوں چھاتیوں سے ہنسلی تک۔ خرچ کرنے کا عادی ( سخی ) خرچ کرتا ہے تو اس کے تمام جسم کو ( وہ کرتہ ) چھپا لیتا ہے یا ( راوی نے یہ کہا کہ ) تمام جسم پر وہ پھیل جاتا ہے اور اس کی انگلیاں اس میں چھپ جاتی ہے اور چلنے میں اس کے پاؤں کا نشان مٹتا جاتا ہے۔ لیکن بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کرتے کا ہر حلقہ اپنی جگہ سے چمٹ جاتا ہے۔ بخیل اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہو پاتا۔ عبداللہ بن طاؤس کے ساتھ اس حدیث کو حسن بن مسلم نے بھی طاؤس سے روایت کیا ‘ اس میں دو کرتے ہیں۔
حدثنا موسى، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " مثل البخيل والمتصدق كمثل رجلين، عليهما جبتان من حديد ". وحدثنا ابو اليمان اخبرنا شعيب حدثنا ابو الزناد ان عبد الرحمن حدثه انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " مثل البخيل والمنفق كمثل رجلين، عليهما جبتان من حديد، من ثديهما الى تراقيهما، فاما المنفق فلا ينفق الا سبغت او وفرت على جلده حتى تخفي بنانه وتعفو اثره، واما البخيل فلا يريد ان ينفق شييا الا لزقت كل حلقة مكانها، فهو يوسعها ولا تتسع ". تابعه الحسن بن مسلم عن طاوس في الجبتين
اور حنظلہ نے طاؤس سے دو زرہیں نقل کیا ہے اور لیث بن سعد نے کہا مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہر مز سے سنا کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث بیان کی اس میں دو زرہیں ہیں۔
وقال حنظلة عن طاوس، " جنتان ". وقال الليث حدثني جعفر، عن ابن هرمز، سمعت ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " جنتان
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ ابوبردہ نے ان کے دادا ابوموسیٰ اشعری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی! اگر کسی کے پاس کچھ نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کچھ کما کر خود کو بھی نفع پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ لوگوں نے کہا اگر اس کی طاقت نہ ہو؟ فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند فریادی کی مدد کرے۔ لوگوں نے کہا اگر اس کی بھی سکت نہ ہو۔ فرمایا پھر اچھی بات پر عمل کرے اور بری باتوں سے باز رہے۔ اس کا یہی صدقہ ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، حدثنا سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " على كل مسلم صدقة ". فقالوا يا نبي الله فمن لم يجد قال " يعمل بيده فينفع نفسه ويتصدق ". قالوا فان لم يجد قال " يعين ذا الحاجة الملهوف ". قالوا فان لم يجد. قال " فليعمل بالمعروف، وليمسك عن الشر فانها له صدقة
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ نسیبہ نامی ایک انصاری عورت کے ہاں کسی نے ایک بکری بھیجی ( یہ نسیبہ نامی انصاری عورت خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا ہی کا نام ہے ) ۔ اس بکری کا گوشت انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی بھیج دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارے پاس کھانے کو کوئی چیز ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اور تو کوئی چیز نہیں البتہ اس بکری کا گوشت جو نسیبہ رضی اللہ عنہا نے بھیجا تھا ‘ وہ موجود ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہی لاؤ اب اس کا کھانا درست ہو گیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن خالد الحذاء، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية رضى الله عنها قالت بعث الى نسيبة الانصارية بشاة فارسلت الى عايشة رضى الله عنها منها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عندكم شىء ". فقلت لا الا ما ارسلت به نسيبة من تلك الشاة فقال " هات فقد بلغت محلها
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عمرو بن یحییٰ مازنی نے ‘ انہیں ان کے باپ یحییٰ نے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح پانچ وسق سے کم ( غلہ ) میں زکوٰۃ نہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، قال سمعت ابا سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمس ذود صدقة من الابل، وليس فيما دون خمس اواق صدقة، وليس فيما دون خمسة اوسق صدقة ". حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، قال حدثني يحيى بن سعيد، قال اخبرني عمرو، سمع اباه، عن ابي سعيد رضى الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا۔ ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں ( اپنے دور خلافت میں فرض زکوٰۃ سے متعلق ہدایت دیتے ہوئے ) اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق یہ فرمان لکھا کہ جس کا صدقہ ”بنت مخاض“ تک پہنچ گیا ہو اور اس کے پاس ”بنت مخاض“ نہیں بلکہ ”بنت لبون“ ہے۔ تو اس سے وہی لے لیا جائے گا اور اس کے بدلہ میں صدقہ وصول کرنے والا بیس درہم یا دو بکریاں زائد دیدے گا اور اگر اس کے پاس ”بنت مخاض“ نہیں ہے بلکہ ”ابن لبون“ ہے تو یہ ”ابن لبون“ ہی لے لیا جائے گا اور اس صورت میں کچھ نہیں دیا جائے گا ‘ وہ مادہ یا نر اونٹ جو تیسرے سال میں لگا ہو۔
حدثنا محمد بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ثمامة، ان انسا رضى الله عنه حدثه ان ابا بكر رضى الله عنه كتب له التي امر الله رسوله صلى الله عليه وسلم " ومن بلغت صدقته بنت مخاض وليست عنده وعنده بنت لبون فانها تقبل منه، ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين، فان لم يكن عنده بنت مخاض على وجهها، وعنده ابن لبون فانه يقبل منه وليس معه شىء
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ایوب سے بیان کیا اور ان سے عطاء بن ابی رباح نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا اس وقت میں موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز ( عید ) پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ عورتوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچی ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بھی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے جو اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو وعظ سنایا اور ان سے صدقہ کرنے کے لیے فرمایا اور عورتیں ( اپنا صدقہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ) ڈالنے لگیں۔ یہ کہتے وقت ایوب نے اپنے کان اور گلے کی طرف اشارہ کیا۔
حدثنا مومل، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن عطاء بن ابي رباح، قال قال ابن عباس رضى الله عنهما اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلى قبل الخطبة، فراى انه لم يسمع النساء، فاتاهن ومعه بلال ناشر ثوبه فوعظهن، وامرهن ان يتصدقن، فجعلت المراة تلقي، واشار ايوب الى اذنه والى حلقه
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہی چیز لکھی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری قرار دیا تھا۔ یہ کہ زکوٰۃ ( کی زیادتی ) کے خوف سے جدا جدا مال کو یکجا اور یکجا مال کو جدا جدا نہ کیا جائے۔
حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي قال، حدثني ثمامة، ان انسا رضى الله عنه حدثه ان ابا بكر رضى الله عنه كتب له التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم " ولا يجمع بين متفرق، ولا يفرق بين مجتمع، خشية الصدقة
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں فرض زکوٰۃ میں وہی بات لکھی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی تھی اس میں یہ بھی لکھوایا تھا کہ جب دو شریک ہوں تو وہ اپنا حساب برابر کر لیں۔
حدثنا محمد بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ثمامة، ان انسا، حدثه ان ابا بكر رضى الله عنه كتب له التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم " وما كان من خليطين فانهما يتراجعان بينهما بالسوية
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن یزید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا ( یعنی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں مدینہ میں ہجرت کر آؤں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ افسوس! اس کی تو شان بڑی ہے۔ کیا تیرے پاس زکوٰۃ دینے کے لیے کچھ اونٹ ہیں جن کی تو زکوٰۃ دیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا ہے سمندروں کے اس پار ( جس ملک میں تو رہے وہاں ) عمل کرتا رہ اللہ تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، قال حدثني ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان اعرابيا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الهجرة فقال " ويحك، ان شانها شديد، فهل لك من ابل تودي صدقتها ". قال نعم. قال " فاعمل من وراء البحار فان الله لن يترك من عملك شييا
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس فرض زکوٰۃ کے ان فریضوں کے متعلق لکھا تھا جن کا اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے۔ یہ کہ جس کے اونٹوں کی زکوٰۃ ”جذعہ“ تک پہنچ جائے اور وہ ”جذعہ“ اس کے پاس نہ ہو بلکہ ”حقہ“ ہو تو اس سے زکوٰۃ میں ”حقہ“ ہی لے لیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ دو بکریاں بھی لی جائیں گی ‘ اگر ان کے دینے میں اسے آسانی ہو ورنہ بیس درہم لیے جائیں گے۔ ( تاکہ ”حقہ“ کی کمی پوری ہو جائے ) اور اگر کسی پر زکوٰۃ میں ”حقہ“ واجب ہو اور ”حقہ“ اس کے پاس نہ ہو بلکہ ”جذعہ“ ہو تو اس سے ”جذعہ“ ہی لے لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا زکوٰۃ دینے والے کو بیس درہم یا دو بکریاں دے گا اور اگر کسی پر زکوٰۃ ”حقہ“ کے برابر واجب ہو گئی اور اس کے پاس صرف ”بنت لبون“ ہے تو اس سے ”بنت لبون“ لے لی جائے گی اور زکوٰۃ دینے والے کو دو بکریاں یا بیس درہم ساتھ میں اور دینے پڑیں گے اور اگر کسی پر زکوٰۃ ”بنت لبون“ واجب ہو اور اس کے پاس ”حقہ“ ہو تو ”حقہ“ ہی اس سے لے لیا جائے گا اور اس صورت میں زکوٰۃ وصول کرنے والا بیس درہم یا دو بکریاں زکوٰۃ دینے والے کو دے گا اور کسی کے پاس زکوٰۃ میں ”بنت لبون“ واجب ہوا اور ”بنت لبون“ اس کے پاس نہیں بلکہ ”بنت مخاض“ ہے تو اس سے ”بنت مخاض“ ہی لے لیا جائے گا۔ لیکن زکوٰۃ دینے والا اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے گا۔
حدثنا محمد بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ثمامة، ان انسا رضى الله عنه حدثه ان ابا بكر رضى الله عنه كتب له فريضة الصدقة التي امر الله رسوله صلى الله عليه وسلم " من بلغت عنده من الابل صدقة الجذعة، وليست عنده جذعة وعنده حقة، فانها تقبل منه الحقة ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما، ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الحقة وعنده الجذعة، فانها تقبل منه الجذعة، ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين، ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الا بنت لبون فانها تقبل منه بنت لبون، ويعطي شاتين او عشرين درهما، ومن بلغت صدقته بنت لبون وعنده حقة فانها تقبل منه الحقة ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين، ومن بلغت صدقته بنت لبون وليست عنده وعنده بنت مخاض، فانها تقبل منه بنت مخاض ويعطي معها عشرين درهما او شاتين
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ انصاری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب انہیں بحرین ( کا حاکم بنا کر ) بھیجا تو ان کو یہ پروانہ لکھ دیا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لیے فرض قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا۔ اس لیے جو شخص مسلمانوں سے اس پروانہ کے مطابق زکوٰۃ مانگے تو مسلمانوں کو اسے دے دینا چاہیے اور اگر کوئی اس سے زیادہ مانگے تو ہرگز نہ دے۔ چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری دینی ہو گی۔ ( پانچ سے کم میں کچھ نہیں ) لیکن جب اونٹوں کی تعداد پچیس تک پہنچ جائے تو پچیس سے پینتیس تک ایک ایک برس کی اونٹنی واجب ہو گی جو مادہ ہوتی ہے۔ جب اونٹ کی تعداد چھتیس تک پہنچ جائے ( تو چھتیس سے ) پینتالیس تک دو برس کی مادہ واجب ہو گی۔ جب تعداد چھیالیس تک پہنچ جائے ( تو چھیالیس سے ) ساٹھ تک میں تین برس کی اونٹنی واجب ہو گی جو جفتی کے قابل ہوتی ہے۔ جب تعداد اکسٹھ تک پہنچ جائے ( تو اکسٹھ سے ) پچھتر تک چار برس کی مادہ واجب ہو گی۔ جب تعداد چھہتر تک پہنچ جائے ( تو چھہتر سے ) نوے تک دو دو برس کی دو اونٹنیاں واجب ہوں گی۔ جب تعداد اکیانوے تک پہنچ جائے تو ( اکیانوے سے ) ایک سو بیس تک تین تین برس کی دو اونٹنیاں واجب ہوں گی جو جفتی کے قابل ہوں۔ پھر ایک سو بیس سے بھی تعداد آگے بڑھ جائے تو ہر چالیس پر دو برس کی اونٹنی واجب ہو گی اور ہر پچاس پر ایک تین برس کی۔ اور اگر کسی کے پاس چار اونٹ سے زیادہ نہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو گی مگر جب ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دے اور ان بکریوں کی زکوٰۃ جو ( سال کے اکثر حصے جنگل یا میدان وغیرہ میں ) چر کر گزارتی ہیں اگر ان کی تعداد چالیس تک پہنچ گئی ہو تو ( چالیس سے ) ایک سو بیس تک ایک بکری واجب ہو گی اور جب ایک سو بیس سے تعداد بڑھ جائے ( تو ایک سو بیس سے ) سے دو سو تک دو بکریاں واجب ہوں گی۔ اگر دو سو سے بھی تعداد بڑھ جائے تو ( تو دو سو سے ) تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی اور جب تین سو سے بھی تعداد آگے نکل جائے تو اب ہر ایک سو پر ایک بکری واجب ہو گی۔ اگر کسی شخص کی چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی مگر اپنی خوشی سے مالک کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ اور چاندی میں زکوٰۃ چالیسواں حصہ واجب ہو گی لیکن اگر کسی کے پاس ایک سو نوے ( درہم ) سے زیادہ نہیں ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی مگر خوشی سے کچھ اگر مالک دینا چاہیے تو اور بات ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن المثنى الانصاري، قال حدثني ابي قال، حدثني ثمامة بن عبد الله بن انس، ان انسا، حدثه ان ابا بكر رضى الله عنه كتب له هذا الكتاب لما وجهه الى البحرين بسم الله الرحمن الرحيم " هذه فريضة الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين، والتي امر الله بها رسوله، فمن سيلها من المسلمين على وجهها فليعطها، ومن سيل فوقها فلا يعط في اربع وعشرين من الابل فما دونها من الغنم من كل خمس شاة، اذا بلغت خمسا وعشرين الى خمس وثلاثين ففيها بنت مخاض انثى، فاذا بلغت ستا وثلاثين الى خمس واربعين ففيها بنت لبون انثى، فاذا بلغت ستا واربعين الى ستين ففيها حقة طروقة الجمل، فاذا بلغت واحدة وستين الى خمس وسبعين ففيها جذعة، فاذا بلغت يعني ستا وسبعين الى تسعين ففيها بنتا لبون، فاذا بلغت احدى وتسعين الى عشرين وماية ففيها حقتان طروقتا الجمل، فاذا زادت على عشرين وماية ففي كل اربعين بنت لبون، وفي كل خمسين حقة، ومن لم يكن معه الا اربع من الابل فليس فيها صدقة، الا ان يشاء ربها، فاذا بلغت خمسا من الابل ففيها شاة، وفي صدقة الغنم في سايمتها اذا كانت اربعين الى عشرين وماية شاة، فاذا زادت على عشرين وماية الى مايتين شاتان، فاذا زادت على مايتين الى ثلاثماية ففيها ثلاث، فاذا زادت على ثلاثماية ففي كل ماية شاة، فاذا كانت سايمة الرجل ناقصة من اربعين شاة واحدة فليس فيها صدقة، الا ان يشاء ربها، وفي الرقة ربع العشر، فان لم تكن الا تسعين وماية فليس فيها شىء، الا ان يشاء ربها