Loading...

Loading...
کتب
۱۳ احادیث
ہم سے عبداللہ یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( چار رکعت ) نماز کی دو رکعت پڑھانے کے بعد ( قعدہ تشہد کے بغیر ) کھڑے ہو گئے، پہلا قعدہ نہیں کیا۔ اس لیے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے «الله اكبر» کہا اور سلام ہی سے پہلے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کیے پھر سلام پھیرا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبد الله ابن بحينة رضى الله عنه انه قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين من بعض الصلوات ثم قام فلم يجلس، فقام الناس معه، فلما قضى صلاته ونظرنا تسليمه كبر قبل التسليم فسجد سجدتين وهو جالس ثم سلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن اعرج نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے اور قعدہ اولیٰ نہیں کیا، جب نماز پوری کر چکے تو دو سجدے کئے، پھر ان کے بعد سلام پھیرا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبد الله ابن بحينة رضى الله عنه انه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام من اثنتين من الظهر لم يجلس بينهما، فلما قضى صلاته سجد سجدتين ثم سلم بعد ذلك
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں پانچ رکعت پڑھ لیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہو گئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ کہنے والے نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کئے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر خمسا فقيل له ازيد في الصلاة فقال " وما ذاك ". قال صليت خمسا. فسجد سجدتين بعد ما سلم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ذوالیدین کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر صرف دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے کہا جی ہاں، اس نے صحیح کہا ہے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھائیں پھر دو سجدے کئے۔ سعد نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر کو میں نے دیکھا کہ آپ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں۔ پھر باقی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم الظهر او العصر فسلم، فقال له ذو اليدين الصلاة يا رسول الله انقصت فقال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " احق ما يقول ". قالوا نعم. فصلى ركعتين اخريين ثم سجد سجدتين. قال سعد ورايت عروة بن الزبير صلى من المغرب ركعتين فسلم وتكلم ثم صلى ما بقي وسجد سجدتين وقال هكذا فعل النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی نے خبر دی، انہیں محمد بن سیرین نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تو ذوالیدین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذوالیدین سچ کہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا جی ہاں! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعت جو رہ گئی تھیں ان کو پڑھا، پھر سلام پھیرا، پھر «الله اكبر» کہا اور اپنے سجدے کی طرح ( یعنی نماز کے معمولی سجدے کی طرح ) سجدہ کیا یا اس سے لمبا پھر سر اٹھایا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن ايوب بن ابي تميمة السختياني، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة رضى الله عنه . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين فقال له ذو اليدين اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصدق ذو اليدين ". فقال الناس نعم. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين اخريين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن سلمة بن علقمة، قال قلت لمحمد في سجدتى السهو تشهد قال ليس في حديث ابي هريرة
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے پہر کی دو نمازوں ( ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز پڑھی۔ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر ہی کی نماز تھی۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے سے جو مسجد کی اگلی صف میں تھا، ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس پر رکھے ہوئے تھے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن انہیں بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جو ( جلد باز قسم کے ) لوگ نماز پڑھتے ہی مسجد سے نکل جانے کے عادی تھے۔ وہ باہر جا چکے تھے۔ لوگوں نے کہا کیا نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں۔ ایک شخص جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہتے تھے۔ وہ بولے یا رسول اللہ! آپ بھول گئے یا نماز میں کمی ہو گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعتیں کم ہوئیں۔ ذوالیدین بولے کہ نہیں آپ بھول گئے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت اور پڑھی اور سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل سجدہ کیا۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو پھر تکبیر کہی اور پھر تکبیر کہہ کر سجدہ میں گئے۔ یہ سجدہ بھی معمول کی طرح یا اس سے طویل تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا يزيد بن ابراهيم، عن محمد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم احدى صلاتى العشي قال محمد واكثر ظني العصر ركعتين ثم سلم ثم قام الى خشبة في مقدم المسجد فوضع يده عليها وفيهم ابو بكر وعمر رضى الله عنهما فهابا ان يكلماه وخرج سرعان الناس فقالوا اقصرت الصلاة ورجل يدعوه النبي صلى الله عليه وسلم ذو اليدين فقال انسيت ام قصرت فقال " لم انس ولم تقصر ". قال بلى قد نسيت. فصلى ركعتين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع راسه فكبر، ثم وضع راسه فكبر فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع راسه وكبر
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے اعرج نے، ان سے عبداللہ بن بحینہ اسدی نے جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں قعدہ اولیٰ کئے بغیر کھڑے ہو گئے۔ حالانکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھنا چاہئے تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے ہی سلام سے پہلے دو سجدے سہو کے کئے اور ہر سجدے میں «الله اكبر» کہا۔ مقتدیوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دو سجدے کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنا بھول گئے تھے، اس لیے یہ سجدے اسی کے بدلہ میں کئے تھے۔ اس روایت کی مطابعت ابن جریج نے ابن شہاب سے تکبیر کے ذکر میں کی ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن عبد الله ابن بحينة الاسدي، حليف بني عبد المطلب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام في صلاة الظهر وعليه جلوس، فلما اتم صلاته سجد سجدتين فكبر في كل سجدة وهو جالس قبل ان يسلم، وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس. تابعه ابن جريج عن ابن شهاب في التكبير
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے۔ لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں۔ لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں اس نے پڑھی ہیں۔ اس لیے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام بن ابي عبد الله الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نودي بالصلاة ادبر الشيطان وله ضراط حتى لا يسمع الاذان، فاذا قضي الاذان اقبل، فاذا ثوب بها ادبر فاذا قضي التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه يقول اذكر كذا وكذا ما لم يكن يذكر حتى يظل الرجل ان يدري كم صلى، فاذا لم يدر احدكم كم صلى ثلاثا او اربعا فليسجد سجدتين وهو جالس
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اس کی نماز میں شبہ پیدا کر دیتا ہے پھر اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ تم میں سے جب کسی کو ایسا اتفاق ہو تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان احدكم اذا قام يصلي جاء الشيطان فلبس عليه حتى لا يدري كم صلى، فاذا وجد ذلك احدكم فليسجد سجدتين وهو جالس
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے کہ ابن عباس، مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہم نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہم سب کا سلام کہنا اور اس کے بعد عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرنا۔ انہیں یہ بھی بتا دینا کہ ہمیں خبر ہوئی ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں۔ حالانکہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں سے منع کیا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان رکعتوں کے پڑھنے پر لوگوں کو مارا بھی تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پیغام پہنچایا۔ اس کا جواب آپ نے یہ دیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق دریافت کر۔ چنانچہ میں ان حضرات کی خدمت میں واپس ہوا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو نقل کر دی، انہوں نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا انہیں پیغامات کے ساتھ جن کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں بھیجا تھا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے تھے لیکن ایک دن میں نے دیکھا کہ عصر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود یہ دو رکعتیں پڑھ رہے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے۔ میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس لیے میں نے ایک باندی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ میں نے اس سے کہہ دیا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں ہو کر یہ پوچھے کہ ام سلمہ کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ! آپ تو ان دو رکعتوں سے منع کیا کرتے تھے حالانکہ میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود انہیں پڑھتے ہیں۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کریں تو تم پیچھے ہٹ جانا۔ باندی نے پھر اسی طرح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو ( آپ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا کہ اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا، بات یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس کے کچھ لوگ آ گئے تھے اور ان کے ساتھ بات کرنے میں میں ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا تھا سو یہ وہی دو رکعت ہیں۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، عن بكير، عن كريب، ان ابن عباس، والمسور بن مخرمة، وعبد الرحمن بن ازهر رضى الله عنهم ارسلوه الى عايشة رضى الله عنها فقالوا اقرا عليها السلام منا جميعا وسلها عن الركعتين بعد صلاة العصر وقل لها انا اخبرنا انك تصلينهما وقد بلغنا ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنها. وقال ابن عباس وكنت اضرب الناس مع عمر بن الخطاب عنهما. فقال كريب فدخلت على عايشة رضى الله عنها فبلغتها ما ارسلوني. فقالت سل ام سلمة. فخرجت اليهم فاخبرتهم بقولها فردوني الى ام سلمة بمثل ما ارسلوني به الى عايشة. فقالت ام سلمة رضى الله عنها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عنها ثم رايته يصليهما حين صلى العصر، ثم دخل على وعندي نسوة من بني حرام من الانصار فارسلت اليه الجارية فقلت قومي بجنبه قولي له تقول لك ام سلمة يا رسول الله سمعتك تنهى عن هاتين واراك تصليهما. فان اشار بيده فاستاخري عنه. ففعلت الجارية فاشار بيده فاستاخرت عنه فلما انصرف قال " يا بنت ابي امية سالت عن الركعتين بعد العصر وانه اتاني ناس من عبد القيس فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں باہم کوئی جھگڑا پیدا ہو گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ ملاپ کرانے کے لیے وہاں تشریف لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مشغول ہی تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔ اس لیے بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک تشریف نہیں لائے۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر تکبیر ( تحریمہ ) کہی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صفوں سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے کے لیے ) ہاتھ پر ہاتھ بجانے شروع کر دیئے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف دھیان نہیں دیا کرتے تھے۔ جب لوگوں نے بہت تالیاں بجائیں تو آپ متوجہ ہوئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کے لیے کہا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے پاؤں پیچھے کی طرف آ کر صف میں کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لوگو! نماز میں ایک امر پیش آیا تو تم لوگ ہاتھ پر ہاتھ کیوں مارنے لگے تھے، یہ دستک دینا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔ جس کو نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو «سبحان الله» کہے کیونکہ جب بھی کوئی «سبحان الله» سنے گا وہ ادھر خیال کرے گا اور اے ابوبکر! میرے اشارے کے باوجود تم لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بھلا ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز پڑھائے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بلغه ان بني عمرو بن عوف كان بينهم شىء فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح بينهم في اناس معه، فحبس رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت الصلاة فجاء بلال الى ابي بكر رضى الله عنه فقال يا ابا بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حبس وقد حانت الصلاة فهل لك ان توم الناس قال نعم ان شيت. فاقام بلال وتقدم ابو بكر رضى الله عنه فكبر للناس وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف حتى قام في الصف، فاخذ الناس في التصفيق، وكان ابو بكر رضى الله عنه لا يلتفت في صلاته، فلما اكثر الناس التفت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يامره ان يصلي، فرفع ابو بكر رضى الله عنه يديه فحمد الله ورجع القهقرى وراءه حتى قام في الصف، فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى للناس فلما فرغ اقبل على الناس فقال " يا ايها الناس ما لكم حين نابكم شىء في الصلاة اخذتم في التصفيق، انما التصفيق للنساء، من نابه شىء في صلاته فليقل سبحان الله. فانه لا يسمعه احد حين يقول سبحان الله الا التفت، يا ابا بكر ما منعك ان تصلي للناس حين اشرت اليك ". فقال ابو بكر رضى الله عنه ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يصلي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ اس وقت وہ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ لوگ بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی؟ تو انہوں نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے کہا کہ ہاں۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، حدثنا الثوري، عن هشام، عن فاطمة، عن اسماء، قالت دخلت على عايشة رضى الله عنها وهي تصلي قايمة والناس قيام فقلت ما شان الناس فاشارت براسها الى السماء. فقلت اية. فقالت براسها اى نعم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر ہی میں بیٹھ کر نماز پڑھی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز کے بعد فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو شاك جالسا، وصلى وراءه قوم قياما فاشار اليهم ان اجلسوا فلما انصرف قال " انما جعل الامام ليوتم به، فاذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا