Loading...

Loading...
کتب
۱۰ احادیث
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالملک نے قزعہ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے چار باتیں سنیں اور انہوں نے بتلایا کہ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہاد کئے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال اخبرني عبد الملك بن عمير، عن قزعة، قال سمعت ابا سعيد رضى الله عنه اربعا قال سمعت من النبي، صلى الله عليه وسلم وكان غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثنتى عشرة غزوة ح
(دوسری سند) ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ ( یعنی سفر نہ کیا جائے ) ایک مسجد الحرام، دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ( مسجد نبوی ) اور تیسری مسجد الاقصیٰ یعنی بیت المقدس۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد المسجد الحرام، ومسجد الرسول صلى الله عليه وسلم ومسجد الاقصى
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبیداللہ بن ابی عبداللہ اغر سے خبر دی، انہیں ابوعبدللہ اغر نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اس مسجد میں نماز مسجد الحرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن زيد بن رباح، وعبيد الله بن ابي عبد الله الاغر، عن ابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في مسجدي هذا خير من الف صلاة فيما سواه الا المسجد الحرام
حدثنا يعقوب بن ابراهيم هو الدورقي حدثنا ابن علية، اخبرنا ايوب، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان لا يصلي من الضحى الا في يومين يوم يقدم بمكة، فانه كان يقدمها ضحى، فيطوف بالبيت، ثم يصلي ركعتين خلف المقام، ويوم ياتي مسجد قباء، فانه كان ياتيه كل سبت، فاذا دخل المسجد كره ان يخرج منه حتى يصلي فيه. قال وكان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يزوره راكبا وماشيا. قال وكان يقول انما اصنع كما رايت اصحابي يصنعون، ولا امنع احدا ان يصلي في اى ساعة شاء من ليل او نهار، غير ان لا تتحروا طلوع الشمس ولا غروبها
حدثنا يعقوب بن ابراهيم هو الدورقي حدثنا ابن علية، اخبرنا ايوب، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان لا يصلي من الضحى الا في يومين يوم يقدم بمكة، فانه كان يقدمها ضحى، فيطوف بالبيت، ثم يصلي ركعتين خلف المقام، ويوم ياتي مسجد قباء، فانه كان ياتيه كل سبت، فاذا دخل المسجد كره ان يخرج منه حتى يصلي فيه. قال وكان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يزوره راكبا وماشيا. قال وكان يقول انما اصنع كما رايت اصحابي يصنعون، ولا امنع احدا ان يصلي في اى ساعة شاء من ليل او نهار، غير ان لا تتحروا طلوع الشمس ولا غروبها
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو مسجد قباء آتے پیدل بھی ( بعض دفعہ ) اور سواری پر بھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتي مسجد قباء كل سبت ماشيا وراكبا. وكان عبد الله رضى الله عنهما يفعله
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، اور ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء آتے کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔ ابن نمیر نے اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے عبیداللہ بن عمیر نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ياتي قباء راكبا وماشيا. زاد ابن نمير حدثنا عبيد الله عن نافع فيصلي فيه ركعتين
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے، انہیں عباد بن تمیم نے اور انہیں (ان کے چچا) عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے اس منبر کے درمیان کا حصہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد المازني رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر ہو گا۔
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة، ومنبري على حوضي
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، انہوں نے زیاد کے غلام قزعہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے چار حدیثیں بیان کرتے ہوئے سنا جو مجھے بہت پسند آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت اپنے شوہر یا کسی ذی رحم محرم کے بغیر دو دن کا بھی سفر نہ کرے اور دوسری یہ کہ عیدالفطر اور عید الاضحی دونوں دن روزے نہ رکھے جائیں۔ تیسری بات یہ کہ صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کے بعد سورج چھپنے تک کوئی نفل نماز نہ پڑھی جائے۔ چوتھی یہ کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) ۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، سمعت قزعة، مولى زياد قال سمعت ابا سعيد الخدري رضى الله عنه يحدث باربع عن النبي صلى الله عليه وسلم فاعجبنني وانقنني قال " لا تسافر المراة يومين الا معها زوجها او ذو محرم. ولا صوم في يومين الفطر والاضحى، ولا صلاة بعد صلاتين بعد الصبح حتى تطلع الشمس، وبعد العصر حتى تغرب، ولا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام ومسجد الاقصى ومسجدي