Loading...

Loading...
کتب
۱۵ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے نافع اور عبداللہ ابن دینار سے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات میں نماز کے متعلق معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، وعبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى، فاذا خشي احدكم الصبح صلى ركعة واحدة، توتر له ما قد صلى
اور اسی سند کے ساتھ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وتر کی جب تین رکعتیں پڑھتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ ضرورت سے بات بھی کرتے۔
وعن نافع، ان عبد الله بن عمر، كان يسلم بين الركعة والركعتين في الوتر، حتى يامر ببعض حاجته
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ آپ ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سوئے ( آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ) میں تکیہ کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی لمبائی میں لیٹیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے جب آدھی رات گزر گئی یا اس کے لگ بھگ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نیند کے اثر کو چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور کیا۔ اس کے بعد آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں۔ پھر ایک پرانی مشک پانی کی بھری ہوئی لٹک رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اور اچھی طرح وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیار سے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر رکھ کر اور میرا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت سب بارہ رکعتیں پھر ایک رکعت وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ مؤذن صبح صادق کی اطلاع دینے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کھڑے ہو کر دو رکعت سنت نماز پڑھی۔ پھر باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، ان ابن عباس، اخبره انه، بات عند ميمونة، وهى خالته، فاضطجعت في عرض وسادة، واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها، فنام حتى انتصف الليل او قريبا منه، فاستيقظ يمسح النوم عن وجهه، ثم قرا عشر ايات من ال عمران، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى شن معلقة، فتوضا فاحسن الوضوء، ثم قام يصلي فصنعت مثله فقمت الى جنبه، فوضع يده اليمنى على راسي، واخذ باذني يفتلها، ثم صلى ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم اوتر، ثم اضطجع حتى جاءه الموذن فقام فصلى ركعتين ثم، خرج فصلى الصبح
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ قاسم سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک ( رکعت وتر ) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " صلاة الليل مثنى مثنى، فاذا اردت ان تنصرف فاركع ركعة توتر لك ما صليت ". قال القاسم وراينا اناسا منذ ادركنا يوترون بثلاث، وان كلا لواسع ارجو ان لا يكون بشىء منه باس
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعتیں ( وتر اور تہجد کی ) پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز تھی۔ مراد ان کی رات کی نماز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ ان رکعتوں میں اتنا لمبا ہوتا تھا کہ سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص بھی پچاس آیتیں پڑھ سکتا اور فجر کی نماز فرض سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنت دو رکعتیں پڑھتے تھے اس کے بعد ( ذرا دیر ) داہنے پہلو پر لیٹ رہتے یہاں تک کہ مئوذن بلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، عن عروة، ان عايشة، اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي احدى عشرة ركعة، كانت تلك صلاته تعني بالليل فيسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرا احدكم خمسين اية قبل ان يرفع راسه، ويركع ركعتين قبل صلاة الفجر، ثم يضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه الموذن للصلاة
ہم سے ابو نعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نماز صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں ان میں لمبی قرآت کر سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو رات کی نماز ( تہجد ) دو، دو رکعت کر کے پڑھتے تھے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق بنا لیتے اور صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ( سنت فجر تو ) اس طرح پڑھتے گویا اذان ( اقامت ) کی آواز آپ کے کان میں پڑ رہی ہے۔ حماد کی اس سے مراد یہ ہے کہ آپ جلدی پڑھ لیتے۔
حدثنا ابو النعمان، قال حدثنا حماد بن زيد، قال حدثنا انس بن سيرين، قال قلت لابن عمر ارايت الركعتين قبل صلاة الغداة اطيل فيهما القراءة فقال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل مثنى مثنى، ويوتر بركعة ويصلي الركعتين قبل صلاة الغداة وكان الاذان باذنيه. قال حماد اى سرعة
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مسلم بن کیسان نے بیان کیا، ان سے مسروق نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں بھی وتر پڑھی ہے اور آخیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي قال، حدثنا الاعمش، قال حدثني مسلم، عن مسروق، عن عايشة، قالت كل الليل اوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتهى وتره الى السحر
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( تہجد کی ) نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر عرض میں لیٹی رہتی۔ جب وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي، وانا راقدة معترضة على فراشه، فاذا اراد ان يوتر ايقظني فاوترت
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھا کرو۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اجعلوا اخر صلاتكم بالليل وترا
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے بیان کیا اور ان کو سعید بن یسار نے بتلایا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا۔ سعید نے کہا کہ جب راستے میں مجھے طلوع فجر کا خطرہ ہوا تو سواری سے اتر کر میں نے وتر پڑھ لیا اور پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔ آپ نے پوچھا کہ کہاں رک گئے تھے؟ میں نے کہا کہ اب صبح کا وقت ہونے ہی والا تھا اس لیے میں سواری سے اتر کر وتر پڑھنے لگا۔ اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اچھا نمونہ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں بیشک ہے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابي بكر بن عمر بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، عن سعيد بن يسار، انه قال كنت اسير مع عبد الله بن عمر بطريق مكة فقال سعيد فلما خشيت الصبح نزلت فاوترت، ثم لحقته فقال عبد الله بن عمر اين كنت فقلت خشيت الصبح، فنزلت فاوترت. فقال عبد الله اليس لك في رسول الله صلى الله عليه وسلم اسوة حسنة فقلت بلى والله. قال فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر على البعير
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا جويرية بن اسماء، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في السفر على راحلته، حيث توجهت به، يومي ايماء، صلاة الليل الا الفرايض، ويوتر على راحلته
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے محمد بن سیرین نے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد تھوڑے دنوں تک۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، قال سيل انس اقنت النبي صلى الله عليه وسلم في الصبح قال نعم. فقيل له اوقنت قبل الركوع قال بعد الركوع يسيرا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ دعائے قنوت ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ) پڑھی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے۔ عاصم نے کہا کہ آپ ہی کے حوالے سے فلاں شخص نے خبر دی ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد فرمایا تھا۔ اس کا جواب انس نے یہ دیا کہ انہوں نے غلط سمجھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کے قریب مشرکوں کی ایک قوم ( بنی عامر ) کی طرف سے ان کو تعلیم دینے کے لیے بھیجے تھے، یہ لوگ ان کے سوا تھے جن پر آپ نے بددعا کی تھی۔ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا، لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ( اور قاریوں کو مار ڈالا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ( رکوع کے بعد ) قنوت پڑھتے رہے ان پر بددعا کرتے رہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا عبد الواحد، قال حدثنا عاصم، قال سالت انس بن مالك عن القنوت،. فقال قد كان القنوت. قلت قبل الركوع او بعده قال قبله. قال فان فلانا اخبرني عنك انك قلت بعد الركوع. فقال كذب، انما قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد الركوع شهرا اراه كان بعث قوما يقال لهم القراء زهاء سبعين رجلا الى قوم من المشركين دون اوليك، وكان بينهم وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد فقنت رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا يدعو عليهم
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے تیمی نے، ان سے ابومجلز نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعا قنوت پڑھی اور اس میں قبائل رعل و ذکوان پر بددعا کی تھی۔
اخبرنا احمد بن يونس، قال حدثنا زايدة، عن التيمي، عن ابي مجلز، عن انس، قال قنت النبي صلى الله عليه وسلم شهرا يدعو على رعل وذكوان
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، کہا کہ ہمیں خالد حذاء نے خبر دی، انہیں ابوقلابہ نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قنوت مغرب اور فجر میں پڑھی جاتی تھی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن انس، قال كان القنوت في المغرب والفجر