Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ نے حصین سے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی جعد نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں غلہ لادے ہوئے ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر ادھر چل دیئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کل بارہ آدمی رہ گئے۔ اس وقت سورۃ الجمعہ کی یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» ”اور جب یہ لوگ تجارت اور کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔“
حدثنا معاوية بن عمرو، قال حدثنا زايدة، عن حصين، عن سالم بن ابي الجعد، قال حدثنا جابر بن عبد الله، قال بينما نحن نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم اذ اقبلت عير تحمل طعاما، فالتفتوا اليها حتى ما بقي مع النبي صلى الله عليه وسلم الا اثنا عشر رجلا، فنزلت هذه الاية {واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها وتركوك قايما}
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں جب گھر واپس ہوتے تب پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين في بيته، وبعد العشاء ركعتين وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطر مدنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے سہل بن سعد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمارے یہاں ایک عورت تھی جو نالوں پر اپنے ایک کھیت میں چقندر بوتی۔ جمعہ کا دن آتا تو وہ چقندر اکھاڑ لاتیں اور اسے ایک ہانڈی میں پکاتیں پھر اوپر سے ایک مٹھی جو کا آٹا چھڑک دیتیں۔ اس طرح یہ چقندر گوشت کی طرح ہو جاتے۔ جمعہ سے واپسی میں ہم انہیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتے تو یہی پکوان ہمارے آگے کر دیتیں اور ہم اسے چاٹ جاتے۔ ہم لوگ ہر جمعہ کو ان کے اس کھانے کے آرزومند رہا کرتے تھے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل، قال كانت فينا امراة تجعل على اربعاء في مزرعة لها سلقا، فكانت اذا كان يوم جمعة تنزع اصول السلق فتجعله في قدر، ثم تجعل عليه قبضة من شعير تطحنها، فتكون اصول السلق عرقه، وكنا ننصرف من صلاة الجمعة فنسلم عليها، فتقرب ذلك الطعام الينا فنلعقه، وكنا نتمنى يوم الجمعة لطعامها ذلك
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد العزیز بن ابی حازم نے بیان کیا اپنے باپ سے اور ان سے سہل بن سعد نے یہی بیان کیا اور فرمایا کہ دوپہر کا سونا اور دوپہر کا کھانا جمعہ کی نماز کے بعد رکھتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل، بهذا وقال ما كنا نقيل ولا نتغدى الا بعد الجمعة
ہم سے محمد بن عقبہ شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری ابراہیم بن محمد نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے کہ ہم جمعہ سویرے پڑھتے، اس کے بعد دوپہر کی نیند لیتے تھے۔
حدثنا محمد بن عقبة الشيباني، قال حدثنا ابو اسحاق الفزاري، عن حميد، قال سمعت انسا، يقول كنا نبكر الى الجمعة ثم نقيل
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے بتلایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھتے، پھر دوپہر کی نیند لیا کرتے تھے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل، قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم الجمعة ثم تكون القايلة