Loading...

Loading...
کتب
۲۷۳ احادیث
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا، کہا کہ مجھے ابومسعود انصاری نے خبر دی کہ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! قسم اللہ کی میں صبح کی نماز میں فلاں کی وجہ سے دیر میں جاتا ہوں، کیونکہ وہ نماز کو بہت لمبا کر دیتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ ( کبھی بھی ) غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ( عوام کو عبادت سے یا دین سے ) نفرت دلا دیں، خبردار تم میں لوگوں کو جو شخص بھی نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے۔ کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، قال حدثنا زهير، قال حدثنا اسماعيل، قال سمعت قيسا، قال اخبرني ابو مسعود، ان رجلا، قال والله يا رسول الله اني لاتاخر عن صلاة الغداة من اجل فلان مما يطيل بنا. فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في موعظة اشد غضبا منه يوميذ ثم قال " ان منكم منفرين، فايكم ما صلى بالناس فليتجوز، فان فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں ضعیف بیمار اور بوڑھے ( سب ہی ) ہوتے ہیں، لیکن اکیلا پڑھے تو جس قدر جی چاہے طول دے سکتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم للناس فليخفف، فان منهم الضعيف والسقيم والكبير، واذا صلى احدكم لنفسه فليطول ما شاء
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے، انہوں نے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں فجر کی نماز میں تاخیر کر کے اس لیے شریک ہوتا ہوں کہ فلاں صاحب فجر کی نماز بہت طویل کر دیتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر غصہ ہوئے کہ میں نے نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ غضب ناک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو! تم میں بعض لوگ ( نماز سے لوگوں کو ) دور کرنے کا باعث ہیں۔ پس جو شخص امام ہو اسے ہلکی نماز پڑھنی چاہئے اس لیے کہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی ہوتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي مسعود، قال قال رجل يا رسول الله اني لاتاخر عن الصلاة في الفجر مما يطيل بنا فلان فيها. فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رايته غضب في موضع كان اشد غضبا منه يوميذ ثم قال " يا ايها الناس ان منكم منفرين، فمن ام الناس فليتجوز، فان خلفه الضعيف والكبير وذا الحاجة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا، آپ نے بتلایا کہ ایک شخص پانی اٹھانے والا دو اونٹ لیے ہوئے آیا، رات تاریک ہو چکی تھی۔ اس نے معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھاتے ہوئے پایا۔ اس لیے اپنے اونٹوں کو بٹھا کر ( نماز میں شریک ہونے کے لیے ) معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں سورۃ البقرہ یا سورۃ نساء شروع کی۔ چنانچہ وہ شخص نیت توڑ کر چل دیا۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو برا بھلا کہا ہے۔ اس لیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور معاذ کی شکایت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا، معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ( «فتان» یا «فاتن» ) فرمایا: «سبح اسم ربك، والشمس وضحاها، والليل إذا يغشى» ( سورتیں ) تم نے کیوں نہ پڑھیں، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور اور حاجت مند نماز پڑھتے ہیں۔ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آخری جملہ ( کیونکہ تمہارے پیچھے الخ ) حدیث میں داخل ہے۔ شعبہ کے ساتھ اس کی متابعت سعید بن مسروق، مسعر اور شیبانی نے کی ہے اور عمرو بن دینار، عبیداللہ بن مقسم اور ابوالزبیر نے بھی اس حدیث کو جابر کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ معاذ نے عشاء میں سورۃ البقرہ پڑھی تھی اور شعبہ کے ساتھ اس روایت کی متابعت اعمش نے محارب کے واسطہ سے کی ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا محارب بن دثار، قال سمعت جابر بن عبد الله الانصاري، قال اقبل رجل بناضحين وقد جنح الليل، فوافق معاذا يصلي، فترك ناضحه واقبل الى معاذ، فقرا بسورة البقرة او النساء، فانطلق الرجل، وبلغه ان معاذا نال منه، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فشكا اليه معاذا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا معاذ افتان انت او فاتن ثلاث مرار فلولا صليت بسبح اسم ربك، والشمس وضحاها، والليل اذا يغشى، فانه يصلي وراءك الكبير والضعيف وذو الحاجة ". احسب هذا في الحديث. قال ابو عبد الله وتابعه سعيد بن مسروق ومسعر والشيباني. قال عمرو وعبيد الله بن مقسم وابو الزبير عن جابر قرا معاذ في العشاء بالبقرة. وتابعه الاعمش عن محارب
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر اور پوری پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يوجز الصلاة ويكملها
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ حارث بن ربعی سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز دیر تک پڑھنے کے ارادہ سے کھڑا ہوتا ہوں۔ لیکن کسی بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو ہلکی کر دیتا ہوں، کیونکہ اس کی ماں کو ( جو نماز میں شریک ہو گی ) تکلیف میں ڈالنا برا سمجھتا ہوں۔ ولید بن مسلم کے ساتھ اس روایت کی متابعت بشر بن بکر، بقیہ بن ولید اور ابن مبارک نے اوزاعی کے واسطہ سے کی ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا الوليد، قال حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه ابي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اني لاقوم في الصلاة اريد ان اطول فيها، فاسمع بكاء الصبي، فاتجوز في صلاتي كراهية ان اشق على امه ". تابعه بشر بن بكر وابن المبارك وبقية عن الاوزاعي
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر قریشی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہلکی لیکن کامل نماز میں نے کسی امام کے پیچھے کبھی نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال تھا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سن لیتے تو اس خیال سے کہ اس کی ماں کہیں پریشانی میں نہ مبتلا ہو جائے نماز مختصر کر دیتے۔
حدثنا خالد بن مخلد، قال حدثنا سليمان بن بلال، قال حدثنا شريك بن عبد الله، قال سمعت انس بن مالك، يقول ما صليت وراء امام قط اخف صلاة ولا اتم من النبي صلى الله عليه وسلم، وان كان ليسمع بكاء الصبي فيخفف مخافة ان تفتن امه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز شروع کر دیتا ہوں۔ ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز طویل کروں، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ماں کے دل پر بچے کے رونے سے کیسی چوٹ پڑتی ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا سعيد، قال حدثنا قتادة، ان انس بن مالك، حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اني لادخل في الصلاة وانا اريد اطالتها، فاسمع بكاء الصبي، فاتجوز في صلاتي مما اعلم من شدة وجد امه من بكايه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن ابراہیم بن عدی نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نماز کی نیت باندھتا ہوں، ارادہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کو طویل کروں گا، لیکن بچے کے رونے کی آواز سن کر مختصر کر دیتا ہوں کیونکہ میں اس درد کو سمجھتا ہوں جو بچے کے رونے کی وجہ سے ماں کو ہو جاتا ہے۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے کہا ہم سے ابان بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اني لادخل في الصلاة فاريد اطالتها، فاسمع بكاء الصبي، فاتجوز مما اعلم من شدة وجد امه من بكايه ". وقال موسى حدثنا ابان، حدثنا قتادة، حدثنا انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ہم سے سلیمان بن حرب اور ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ معاذ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر واپس آ کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے۔
حدثنا سليمان بن حرب، وابو النعمان، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عمرو بن دينار، عن جابر، قال كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم ياتي قومه فيصلي بهم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لیے حاضر خدمت ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ میں نے عرض کیا کہ ابوبکر کچے دل کے آدمی ہیں اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رو دیں گے اور قرآت نہ کر سکیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو وہ نماز پڑھائیں۔ میں نے وہی عذر پھر دہرایا۔ پھر آپ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ تو بالکل صواحب یوسف کی طرح ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کرا دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنا مزاج ذرا ہلکا پا کر ) دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے باہر تشریف لائے۔ گویا میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے کہ آپ کے قدم زمین پر نشان کر رہے تھے۔ ابوبکر آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ لیکن آپ نے اشارہ سے انہیں نماز پڑھانے کے لیے کہا۔ ابوبکر پیچھے ہٹ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بازو میں بیٹھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر سنا رہے تھے۔ عبداللہ بن داؤد کے ساتھ اس حدیث کو محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا عبد الله بن داود، قال حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما مرض النبي صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه اتاه بلال يوذنه بالصلاة فقال " مروا ابا بكر فليصل ". قلت ان ابا بكر رجل اسيف، ان يقم مقامك يبكي فلا يقدر على القراءة. قال " مروا ابا بكر فليصل ". فقلت مثله فقال في الثالثة او الرابعة " انكن صواحب يوسف، مروا ابا بكر فليصل ". فصلى وخرج النبي صلى الله عليه وسلم يهادى بين رجلين، كاني انظر اليه يخط برجليه الارض، فلما راه ابو بكر ذهب يتاخر، فاشار اليه ان صل، فتاخر ابو بكر رضى الله عنه وقعد النبي صلى الله عليه وسلم الى جنبه، وابو بكر يسمع الناس التكبير. تابعه محاضر عن الاعمش
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومعاویہ محمد بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تھے تو بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی خبر دینے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر ایک نرم دل آدمی ہیں اور جب بھی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے لوگوں کو ( شدت گریہ کی وجہ سے ) آواز نہیں سنا سکیں گے۔ اس لیے اگر عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے تو بہتر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم کہو کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں اور اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا سکیں گے۔ اس لیے اگر عمر سے کہیں تو بہتر ہو گا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ صواحب یوسف سے کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں کچھ ہلکا پن محسوس فرمایا اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر نشان کر رہے تھے۔ اس طرح چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ جب ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے روکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھ گئے تو ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء بلال يوذنه بالصلاة فقال " مروا ابا بكر ان يصلي بالناس ". فقلت يا رسول الله، ان ابا بكر رجل اسيف، وانه متى ما يقم مقامك لا يسمع الناس، فلو امرت عمر. فقال " مروا ابا بكر يصلي بالناس ". فقلت لحفصة قولي له ان ابا بكر رجل اسيف، وانه متى يقم مقامك لا يسمع الناس، فلو امرت عمر. قال " انكن لانتن صواحب يوسف، مروا ابا بكر ان يصلي بالناس ". فلما دخل في الصلاة وجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفسه خفة، فقام يهادى بين رجلين، ورجلاه يخطان في الارض حتى دخل المسجد، فلما سمع ابو بكر حسه ذهب ابو بكر يتاخر، فاوما اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جلس عن يسار ابي بكر، فكان ابو بكر يصلي قايما، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قاعدا، يقتدي ابو بكر بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس مقتدون بصلاة ابي بكر رضى الله عنه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک بن انس سے بیان کیا، انہوں نے ایوب بن ابی تمیمہ سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ظہر کی نماز میں ) دو رکعت پڑھ کر نماز ختم کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالیدین نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اور لوگوں کی طرف دیکھ کر ) پوچھا کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دوسری دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر سلام پھیرا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا پہلے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك بن انس، عن ايوب بن ابي تميمة السختياني، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين، فقال له ذو اليدين اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصدق ذو اليدين ". فقال الناس نعم. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين اخريين ثم سلم، ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ ) ظہر کی صرف دو ہی رکعتیں پڑھیں ( اور بھول سے سلام پھیر دیا ) پھر کہا گیا کہ آپ نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں اور پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ پھر دو سجدے کئے۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر ركعتين، فقيل صليت ركعتين. فصلى ركعتين، ثم سلم ثم سجد سجدتين
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک بن انس نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں فرمایا کہ ابوبکر سے لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ ابوبکر اگر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنی آواز نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے آپ عمر رضی اللہ عنہ سے فرمائیے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آپ نے پھر فرمایا کہ نہیں ابوبکر ہی سے نماز پڑھانے کے لیے کہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم بھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ اگر ابوبکر آپ کی جگہ کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد کر کے گریہ و زاری کی وجہ سے لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے۔ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ سے کہئے کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہہ دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بس چپ رہو، تم لوگ صواحب یوسف سے کسی طرح کم نہیں ہو۔ ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ بعد میں حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔ بھلا مجھ کو تم سے کہیں بھلائی ہونی ہے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثنا مالك بن انس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة ام المومنين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في مرضه " مروا ابا بكر يصلي بالناس ". قالت عايشة قلت ان ابا بكر اذا قام في مقامك لم يسمع الناس من البكاء، فمر عمر فليصل. فقال " مروا ابا بكر فليصل للناس ". قالت عايشة لحفصة قولي له ان ابا بكر اذا قام في مقامك لم يسمع الناس من البكاء، فمر عمر فليصل للناس. ففعلت حفصة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مه، انكن لانتن صواحب يوسف، مروا ابا بكر فليصل للناس ". قالت حفصة لعايشة ما كنت لاصيب منك خيرا
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن ابوالجعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نماز میں اپنی صفوں کو برابر کر لو، نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارا منہ الٹ دے گا۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك قال حدثنا شعبة، قال اخبرني عمرو بن مرة، قال سمعت سالم بن ابي الجعد، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے عبدالعزیز بن صہیب سے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صفیں سیدھی کر لو۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اقيموا الصفوف فاني اراكم خلف ظهري
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ ہماری طرف کیا اور فرمایا کہ اپنی صفیں برابر کر لو اور مل کر کھڑے ہو جاؤ۔ میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔
حدثنا احمد بن ابي رجاء، قال حدثنا معاوية بن عمرو، قال حدثنا زايدة بن قدامة، قال حدثنا حميد الطويل، حدثنا انس، قال اقيمت الصلاة فاقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه فقال " اقيموا صفوفكم وتراصوا، فاني اراكم من وراء ظهري
حدثنا ابو عاصم، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الشهداء الغرق والمطعون والمبطون والهدم ". وقال " ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا {اليه} ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا، ولو يعلمون ما في الصف المقدم لاستهموا
حدثنا ابو عاصم، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الشهداء الغرق والمطعون والمبطون والهدم ". وقال " ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا {اليه} ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا، ولو يعلمون ما في الصف المقدم لاستهموا