احادیث
#3925
سنن ابن ماجہ - Interpretation of Dreams
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دور دراز کے دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ دونوں ایک ساتھ اسلام لائے تھے، ان میں ایک دوسرے کی نسبت بہت ہی محنتی تھا، تو محنتی نے جہاد کیا اور شہید ہو گیا، پھر دوسرا شخص اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا، اس کے بعد وہ بھی مر گیا، طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں، اتنے میں وہ دونوں شخص نظر آئے اور جنت کے اندر سے ایک شخص نکلا، اور اس شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جس کا انتقال آخر میں ہوا تھا، پھر دوسری بار نکلا، اور اس کو اجازت دی جو شہید کر دیا گیا تھا، اس کے بعد اس شخص نے میرے پاس آ کر کہا: تم واپس چلے جاؤ، ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، صبح اٹھ کر طلحہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے خواب بیان کرنے لگے تو لوگوں نے بڑی حیرت ظاہر کی، پھر خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، اور لوگوں نے یہ سارا قصہ اور واقعہ آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہے ؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! پہلا شخص نہایت عبادت گزار تھا، پھر وہ شہید بھی کر دیا گیا، اور یہ دوسرا اس سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اس کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا؟ ، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور زندہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال میں تو اس نے رمضان کا مہینہ پایا، روزے رکھے، اور نماز بھی پڑھی اور اتنے سجدے کئے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی وجہ سے ان دونوں ( کے درجوں ) میں زمین و آسمان کے فاصلہ سے بھی زیادہ دوری ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن طلحة بن عبيد الله، ان رجلين، من بلي قدما على رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان اسلامهما جميعا فكان احدهما اشد اجتهادا من الاخر فغزا المجتهد منهما فاستشهد ثم مكث الاخر بعده سنة ثم توفي . قال طلحة فرايت في المنام بينا انا عند باب الجنة اذا انا بهما فخرج خارج من الجنة فاذن للذي توفي الاخر منهما ثم خرج فاذن للذي استشهد ثم رجع الى فقال ارجع فانك لم يان لك بعد . فاصبح طلحة يحدث به الناس فعجبوا لذلك فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم . وحدثوه الحديث فقال " من اى ذلك تعجبون " فقالوا يا رسول الله هذا كان اشد الرجلين اجتهادا ثم استشهد ودخل هذا الاخر الجنة قبله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اليس قد مكث هذا بعده سنة " . قالوا بلى . قال " وادرك رمضان فصامه وصلى كذا وكذا من سجدة في السنة " . قالوا بلى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فما بينهما ابعد مما بين السماء والارض
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Interpretation of Dreams
- Hadith Index
- #3925
- Book Index
- 33
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
