احادیث
#3920
سنن ابن ماجہ - Interpretation of Dreams
خرشہ بن حرر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو مسجد نبوی میں چند بوڑھوں کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک بوڑھا اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آیا، تو لوگوں نے کہا: جسے کوئی جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے، پھر اس نے ایک ستون کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز ادا کی، تو میں ان کے پاس گیا، اور ان سے عرض کیا کہ آپ کی نسبت کچھ لوگوں کا ایسا ایسا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا: الحمدللہ! جنت اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل فرمائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا، گویا ایک شخص میرے پاس آیا، اور کہنے لگا: میرے ساتھ چلو، تو میں اس کے ساتھ ہو گیا، پھر وہ مجھے ایک بڑے میدان میں لے کر چلا، پھر میرے بائیں جانب ایک راستہ سامنے آیا، میں نے اس پر چلنا چاہا تو اس نے کہا: یہ تمہارا راستہ نہیں، پھر دائیں طرف ایک راستہ سامنے آیا تو میں اس پر چل پڑا یہاں تک کہ جب میں ایک ایسے پہاڑ کے پاس پہنچا جس پر پیر نہیں ٹکتا تھا، تو اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھ کو دھکیلا یہاں تک کہ میں اس چوٹی پر پہنچ گیا، لیکن وہاں پر میں ٹھہر نہ سکا اور نہ وہاں کوئی ایسی چیز تھی جسے میں پکڑ سکتا، اچانک مجھے لوہے کا ایک کھمبا نظر آیا جس کے سرے پر سونے کا ایک کڑا تھا، پھر اس شخص نے میرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے دھکا دیا یہاں تک کہ میں نے وہ کڑا پکڑ لیا، تو اس نے مجھ سے پوچھا: کیا تم نے مضبوطی سے پکڑ لیا؟ میں نے کہا: ہاں، میں نے پکڑ لیا، پھر اس نے کھمبے کو پاؤں سے ٹھوکر ماری، لیکن میں کڑا پکڑے رہا۔ میں نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے خواب تو بہت ہی اچھا دیکھا، وہ بڑا میدان میدان حشر تھا، اور جو راستہ تمہارے بائیں جانب دکھایا گیا وہ جہنمیوں کا راستہ تھا، لیکن تم جہنم والوں میں سے نہیں ہو اور وہ راستہ جو تمہارے دائیں جانب دکھایا گیا وہ جنتیوں کا راستہ ہے، اور جو پھسلنے والا پہاڑ تم نے دیکھا وہ شہیدوں کا مقام ہے، اور وہ کڑا جو تم نے تھاما وہ اسلام کا کڑا ہے، لہٰذا تم اسے مرتے دم تک مضبوطی سے پکڑے رہو، تو مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں ہوں گا اور وہ ( بوڑھے آدمی ) عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسن بن موسى الاشيب، حدثنا حماد بن سلمة، عن عاصم بن بهدلة، عن المسيب بن رافع، عن خرشة بن الحر، قال قدمت المدينة فجلست الى اشيخة في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم فجاء شيخ يتوكا على عصا له فقال القوم من سره ان ينظر الى رجل من اهل الجنة فلينظر الى هذا . فقام خلف سارية فصلى ركعتين فقمت اليه فقلت له قال بعض القوم كذا وكذا . قال الحمد لله الجنة لله يدخلها من يشاء واني رايت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم رويا رايت كان رجلا اتاني فقال لي انطلق . فذهبت معه فسلك بي في منهج عظيم فعرضت على طريق على يساري فاردت ان اسلكها فقال انك لست من اهلها . ثم عرضت على طريق عن يميني فسلكتها حتى اذا انتهيت الى جبل زلق فاخذ بيدي فزجل بي فاذا انا على ذروته فلم اتقار ولم اتماسك واذا عمود من حديد في ذروته حلقة من ذهب فاخذ بيدي فزجل بي حتى اخذت بالعروة فقال استمسكت قلت نعم فضرب العمود برجله . فاستمسكت بالعروة . فقال قصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم . قال " رايت خيرا اما المنهج العظيم فالمحشر واما الطريق التي عرضت عن يسارك فطريق اهل النار ولست من اهلها واما الطريق التي عرضت عن يمينك فطريق اهل الجنة واما الجبل الزلق فمنزل الشهداء واما العروة التي استمسكت بها فعروة الاسلام فاستمسك بها حتى تموت " . فانا ارجو ان اكون من اهل الجنة فاذا هو عبد الله بن سلام
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Interpretation of Dreams
- Hadith Index
- #3920
- Book Index
- 28
Grades
- Al-AlbaniHasan
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiHasan
- Shuaib Al ArnautHasan
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
