احادیث
#3919
سنن ابن ماجہ - Interpretation of Dreams
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکا تھا، اور رات میں مسجد میں سویا کرتا تھا، اور ہم میں سے جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ اس کی تعبیر آپ سے پوچھا کرتا، میں نے ( ایک دن دل میں ) کہا: اے اللہ! اگر میرے لیے تیرے پاس خیر ہے تو مجھے بھی ایک خواب دکھا جس کی تعبیر میرے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیں، پھر میں سویا تو میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے، اور مجھے لے کر چلے، ( راستے میں ) ان دونوں کو ایک اور فرشتہ ملا اور اس نے کہا: تم خوفزدہ نہ ہو، بالآخر وہ دونوں فرشتے مجھ کو جہنم کی طرف لے گئے، میں نے اسے ایک کنویں کی طرح گھرا ہوا پایا، ( اور میں نے اس میں اوپر نیچے بہت سے درجے دیکھے ) اور مجھے بہت سے جانے پہچانے لوگ بھی نظر آئے، اس کے بعد وہ فرشتے مجھے دائیں طرف لے کر چلے، پھر صبح ہوئی تو میں نے یہ خواب حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، حفصہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ ایک نیک آدمی ہے، اگر وہ رات کو نماز زیادہ پڑھا کرے ۔ راوی کہتے ہیں اس کے بعد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات کو نماز زیادہ پڑھنے لگے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا عبد الله بن معاذ الصنعاني، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال كنت غلاما شابا عزبا في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فكنت ابيت في المسجد فكان من راى منا رويا يقصها على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت اللهم ان كان لي عندك خير فارني رويا يعبرها لي النبي صلى الله عليه وسلم . فنمت فرايت ملكين اتياني فانطلقا بي فلقيهما ملك اخر فقال لم ترع . فانطلقا بي الى النار فاذا هي مطوية كطى البير واذا فيها ناس قد عرفت بعضهم فاخذوا بي ذات اليمين فلما اصبحت ذكرت ذلك لحفصة فزعمت حفصة انها قصتها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان عبد الله رجل صالح لو كان يكثر الصلاة من الليل " . قال فكان عبد الله يكثر الصلاة من الليل
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Interpretation of Dreams
- Hadith Index
- #3919
- Book Index
- 27
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
