احادیث
#1192
سنن ترمذی - Divorce and Mutual Imprecation
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینی چاہتا دے دینا رجوع کر لینے کی صورت میں وہ اس کی بیوی بنی رہتی، اگرچہ اس نے سویا اس سے زائد بار اسے طلاق دی ہو، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہ طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو جائے اور نہ تجھے کبھی پناہ ہی دوں گا۔ اس نے کہا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس نے کہا: میں تجھے طلاق دوں گا پھر جب عدت پوری ہونے کو ہو گی تو رجعت کر لوں گا۔ اس عورت نے عائشہ رضی الله عنہا کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو عائشہ رضی الله عنہا خاموش رہیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو عائشہ رضی الله عنہا نے آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش رہے یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”طلاق ( رجعی ) دو ہیں، پھر یا تو معروف اور بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا بھلائی سے رخصت کر دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) ۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو لوگوں نے طلاق کو آئندہ نئے سرے سے شمار کرنا شروع کیا، جس نے طلاق دے رکھی تھی اس نے بھی، اور جس نے نہیں دی تھی اس نے بھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعلى بن شبيب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان الناس والرجل يطلق امراته ما شاء ان يطلقها وهي امراته اذا ارتجعها وهي في العدة وان طلقها ماية مرة او اكثر حتى قال رجل لامراته والله لا اطلقك فتبيني مني ولا اويك ابدا . قالت وكيف ذاك قال اطلقك فكلما همت عدتك ان تنقضي راجعتك . فذهبت المراة حتى دخلت على عايشة فاخبرتها فسكتت عايشة حتى جاء النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فسكت النبي صلى الله عليه وسلم حتى نزل القران : ( الطلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان ) قالت عايشة فاستانف الناس الطلاق مستقبلا من كان طلق ومن لم يكن طلق . حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، نحو هذا الحديث بمعناه ولم يذكر فيه عن عايشة . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث يعلى بن شبيب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Divorce and Mutual Imprecation
- Hadith Index
- #1192
- Book Index
- 19
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiHasan
