احادیث
#1171
سنن ترمذی - Suckling
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے سے بچو“، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! دیور ( شوہر کے بھائی ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دیور موت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، جابر اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت ( تنہائی ) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے“، ۴- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والدخول على النساء " . فقال رجل من الانصار يا رسول الله افرايت الحمو قال " الحمو الموت " . قال وفي الباب عن عمر وجابر وعمرو بن العاص . قال ابو عيسى حديث عقبة بن عامر حديث حسن صحيح . وانما معنى كراهية الدخول على النساء على نحو ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يخلون رجل بامراة الا كان ثالثهما الشيطان " . ومعنى قوله " الحمو " . يقال هو اخو الزوج كانه كره له ان يخلو بها
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Suckling
- Hadith Index
- #1171
- Book Index
- 26
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
