احادیث
#511
سنن ترمذی - The Day of Friday
عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی الله عنہ جمعہ کے دن ( مسجد میں ) داخل ہوئے، مروان بن حکم خطبہ دے رہے تھے، وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، پہریدار آئے تاکہ انہیں بٹھا دیں لیکن وہ نہیں مانے اور نماز پڑھ ہی لی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان کے پاس آ کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے ہاتھا پائی کر بیٹھتے، تو انہوں نے کہا: میں تو یہ دونوں رکعتیں ہرگز چھوڑنے والا تھا نہیں، بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص جمعہ کے دن پراگندہ حالت میں آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ جب مسجد میں آتے اور امام خطبہ دے رہا ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے تھے، وہ اس کا حکم بھی دیتے تھے، اور ابوعبدالرحمٰن المقری بھی اسے درست سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے سنا کہ سفیان بن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ ہیں اور حدیث میں مامون ہیں، ۳- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جب کوئی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھ جائے نماز نہ پڑھے، یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ۵- پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ علاء بن خالد قرشی کہتے ہیں: میں نے حسن بصری کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوئے اور امام خطبہ دے رہا تھا، تو انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر بیٹھے، حسن بصری نے ایسا حدیث کی اتباع میں کیا، یہ حدیث انہوں نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عجلان، عن عياض بن عبد الله بن ابي سرح، ان ابا سعيد الخدري، دخل يوم الجمعة ومروان يخطب فقام يصلي فجاء الحرس ليجلسوه فابى حتى صلى فلما انصرف اتيناه فقلنا رحمك الله ان كادوا ليقعوا بك . فقال ما كنت لاتركهما بعد شيء رايته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . ثم ذكر ان رجلا جاء يوم الجمعة في هيية بذة والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب يوم الجمعة فامره فصلى ركعتين والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب . قال ابن ابي عمر كان سفيان بن عيينة يصلي ركعتين اذا جاء والامام يخطب وكان يامر به وكان ابو عبد الرحمن المقري يراه . قال ابو عيسى وسمعت ابن ابي عمر يقول قال سفيان بن عيينة كان محمد بن عجلان ثقة مامونا في الحديث . قال وفي الباب عن جابر وابي هريرة وسهل بن سعد . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد الخدري حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم اذا دخل والامام يخطب فانه يجلس ولا يصلي . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة . والقول الاول اصح . حدثنا قتيبة حدثنا العلاء بن خالد القرشي قال رايت الحسن البصري دخل المسجد يوم الجمعة والامام يخطب فصلى ركعتين ثم جلس . انما فعل الحسن اتباعا للحديث وهو روى عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- The Day of Friday
- Hadith Index
- #511
- Book Index
- 24
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan Sahih
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiHasan
