احادیث
#3554
سنن نسائی - Divorce
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما قرآن پاک کی آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» یعنی ”ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس کی جگہ اس سے بہتر یا اسی جیسی کوئی اور آیت لے آتے ہیں“ ( البقرہ: ۱۰۶ ) اور دوسری آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» یعنی ”جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں تو تو گڑھ لاتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سمجھتے ہی نہیں ہیں“ ( النحل: ۱۰۱ ) ، اور تیسری آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے باقی اور ثابت رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ( یعنی لوح محفوظ ) ہے“ ( الرعد: ۳۹ ) ۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: پہلی چیز جو قرآن سے منسوخ ہوئی ہے وہ قبلہ ہے۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق اللہ في أرحامهن» سے لے کر «إن أرادوا إصلاحا» تک یعنی ”اور طلاق یافتہ عورتیں تین حیض کے آ جانے کا انتظار کریں گی اور ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ ان کی بچہ دانیوں میں اللہ نے جو تخلیق کر دی ہو اسے چھپائیں اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، البتہ ان کے خاوند اگر اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ انہیں لوٹا لینے کا پورا حق رکھتے ہیں“ ( البقرہ: ۲۲۸ ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں ( پہلے معاملہ یوں تھا ) کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو اسے لوٹا لینے کا بھی پورا پورا حق رکھتا تھا خواہ اس نے اسے تین طلاقیں ہی کیوں نہ دی ہوں، ابن عباس کہتے ہیں: یہ چیز منسوخ ہو گئی کلام پاک کی اس آیت «الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان» ”یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی کے ساتھ روک لینا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ ( البقرہ: ۲۲۹ ) سے ( یعنی وہ صرف دو طلاق تک رجوع کر سکتا ہے اس سے زائد طلاق دینے پر رجوع کرنا جائز نہیں ) ۔
حدثنا زكريا بن يحيى، قال حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا علي بن الحسين بن واقد، قال حدثني ابي قال، حدثنا يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قوله { ما ننسخ من اية او ننسها نات بخير منها او مثلها } وقال { واذا بدلنا اية مكان اية والله اعلم بما ينزل } الاية وقال { يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتاب } فاول ما نسخ من القران القبلة وقال { والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن ان يكتمن ما خلق الله في ارحامهن } الى قوله { ان ارادوا اصلاحا } وذلك بان الرجل كان اذا طلق امراته فهو احق برجعتها وان طلقها ثلاثا فنسخ ذلك وقال { الطلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان}
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3554
- Book Index
- 168
Grades
- Abu GhuddahHasan Sahih
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
