احادیث
#3552
سنن نسائی - Divorce
زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے سعید بن زید کی بیٹی کو طلاق بتہ دی ۱؎ لڑکی کی ماں کا نام حمنہ بنت قیس تھا، لڑکی کی خالہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا کہ عبداللہ بن عمرو کے گھر سے ( کہیں اور ) منتقل ہو جا، یہ بات مروان ( مروان بن حکم ) نے سنی تو انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی بیوی کو کہلا بھیجا کہ اپنے گھر میں آ کر اس وقت تک رہو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے، ( اس کے جواب میں ) اس نے مروان کو یہ خبر بھیجی کہ مجھے میری خالہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھر چھوڑ دینے کا فتویٰ دیا تھا اور بتایا تھا کہ جب ان کے شوہر ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر سے منتقل ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ ( یہ قصہ سن کر ) مروان نے قبیصہ بن ذویب ( نامی شخص ) کو ( تحقیق واقعہ کے لیے ) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا۔ ( وہ آئے ) اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ وہ ابوعمرو کی بیوی تھیں اور وہ اس وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر ( گورنر ) بنا کر بھیجا تھا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن چلے گئے تھے اور وہاں سے انہوں نے انہیں وہ طلاق دے کر بھیجی جو باقی رہ گئی تھی اور حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما کو کہلا بھیجا تھا کہ وہ انہیں نفقہ دے دیں گے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حارث اور عیاش سے اس نفقہ کا مطالبہ کیا جسے انہیں دینے کے لیے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا، ان دونوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جواب دیا: قسم اللہ کی! ان کے لیے ہمارے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے، ( یعنی ان کے لیے نفقہ کا حق ہی نہیں تھا ) ہاں اگر وہ حاملہ ہوں ( تو انہیں بیشک وضع حمل تک نفقہ مل سکتا ہے ) اور اب ان کے لیے ہمارے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں بنتا، الا یہ کہ ہم انہیں ( ازراہ عنایت ) اپنے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ( یہ باتیں سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور یہ ساری باتیں آپ کو بتائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی تصدیق کی ( کہ انہوں نے صحیح بات بتائی ہے ) ۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں چلی جاؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ“۔ یہ ابن ام مکتوم وہی نابینا شخص ہیں جن کی خاطر اللہ نے اپنی کتاب ( قرآن پاک کی سورۃ عبس ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عتاب فرمایا تھا۔ تو میں ان کے یہاں چلی گئی۔ ( ان کے نہ دیکھ پانے کی وجہ سے بغیر کسی دقت و پریشانی کے ) میں وہاں اپنے کپڑے اتار لیتی ( اور تبدیل کر لیتی ) تھی ۲؎ اور یہ سلسلہ اس وقت تک رہا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نہ کرا دی۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، قال حدثنا ابي، عن شعيب، قال قال الزهري اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عمرو بن عثمان، طلق ابنة سعيد بن زيد - وامها حمنة بنت قيس - البتة فامرتها خالتها فاطمة بنت قيس بالانتقال من بيت عبد الله بن عمرو وسمع بذلك، مروان فارسل اليها فامرها ان ترجع الى مسكنها حتى تنقضي عدتها فارسلت اليه تخبره ان خالتها فاطمة افتتها بذلك واخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افتاها بالانتقال حين طلقها ابو عمرو بن حفص المخزومي فارسل مروان قبيصة بن ذويب الى فاطمة فسالها عن ذلك فزعمت انها كانت تحت ابي عمرو لما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب على اليمن خرج معه فارسل اليها بتطليقة وهي بقية طلاقها فامر لها الحارث بن هشام وعياش بن ابي ربيعة بنفقتها فارسلت الى الحارث وعياش تسالهما النفقة التي امر لها بها زوجها فقالا والله ما لها علينا نفقة الا ان تكون حاملا وما لها ان تسكن في مسكننا الا باذننا . فزعمت فاطمة انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فصدقهما قالت فقلت اين انتقل يا رسول الله فقال " انتقلي عند ابن ام مكتوم " . وهو الاعمى الذي عاتبه الله عز وجل في كتابه فانتقلت عنده فكنت اضع ثيابي عنده حتى انكحها رسول الله صلى الله عليه وسلم زعمت اسامة بن زيد
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3552
- Book Index
- 166
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
