احادیث
#3549
سنن نسائی - Divorce
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی تو میں نے ( شوہر کے گھر سے ) منتقل ہو جانے کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( اجازت طلب کرنے کی غرض سے ) آئی، آپ نے ( اجازت عطا فرمائی ) فرمایا: ”اپنے چچا زاد بھائی عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ اور وہیں عدت کے دن گزارو“۔ ( یہ سن کر ) اسود نے ان کی طرف ( انہیں متوجہ کرنے کے لیے ) کنکری پھینکی اور کہا: تمہارے لیے خرابی ہے ایسا فتویٰ کیوں دیتی ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم دو ایسے گواہ پیش کر دو جو اس بات کی گواہی دیں کہ جو تم کہہ رہی ہو اسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو ہم تمہاری بات قبول کر لیں گے۔ اور اگر دو گواہ نہیں پیش کر سکتیں تو ہم کسی عورت کے کہنے سے کلام پاک کی آیت: «لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» ”نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں“۔ ( الطلاق: ۱ ) پر عمل کرنا ترک نہیں کر سکتے۔
اخبرني ابو بكر بن اسحاق الصاغاني، قال حدثنا ابو الجواب، قال حدثنا عمار، - هو ابن رزيق - عن ابي اسحاق، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، قالت طلقني زوجي فاردت النقلة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انتقلي الى بيت ابن عمك عمرو ابن ام مكتوم فاعتدي فيه " . فحصبه الاسود وقال ويلك لم تفتي بمثل هذا . قال عمر ان جيت بشاهدين يشهدان انهما سمعاه من رسول الله صلى الله عليه وسلم والا لم نترك كتاب الله لقول امراة { لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن الا ان ياتين بفاحشة مبينة}
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Divorce
- Hadith Index
- #3549
- Book Index
- 163
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
