احادیث
#1934
سنن نسائی - Funerals
ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی ( بھی ) تعریف کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، تو میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہو گئی؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: ”جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا“، ہم نے پوچھا: ( اگر ) تین گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ہی سہی“، ( پھر ) ہم نے پوچھا: ( اگر ) دو گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہی سہی“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا هشام بن عبد الملك، وعبد الله بن يزيد، قالا حدثنا داود بن ابي الفرات، قال حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابي الاسود الديلي، قال اتيت المدينة فجلست الى عمر بن الخطاب فمر بجنازة فاثني على صاحبها خيرا فقال عمر وجبت . ثم مر باخرى فاثني على صاحبها خيرا فقال عمر وجبت . ثم مر بالثالث فاثني على صاحبها شرا فقال عمر وجبت . فقلت وما وجبت يا امير المومنين قال قلت كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما مسلم شهد له اربعة قالوا خيرا ادخله الله الجنة " . قلنا او ثلاثة قال " او ثلاثة " . قلنا او اثنان قال " او اثنان
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1934
- Book Index
- 117
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari
