احادیث
#1930
سنن نسائی - Funerals
ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ( یہ ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، تو لوگوں نے پوچھا: «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ مومن ( موت کے بعد ) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن معبد بن كعب بن مالك، عن ابي قتادة بن ربعي، انه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر عليه بجنازة فقال " مستريح ومستراح منه " . فقالوا ما المستريح وما المستراح منه قال " العبد المومن يستريح من نصب الدنيا واذاها والعبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1930
- Book Index
- 113
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
