احادیث
#1499
سنن نسائی - Eclipses
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو ہم حجرے کی طرف چلے، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور یہ چاشت کا وقت تھا، ( آپ نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے، تو آپ نے ایک لمبا قیام کیا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو بھی ایسے ہی کیا، مگر آپ کا یہ قیام اور رکوع پہلی والی رکعت کے قیام اور رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر بیٹھے، اور منبر پر جو باتیں آپ نے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ لوگوں کو ان کی قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمایا جائے گا ، یہ حدیث مختصر ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن يحيى بن سعيد، ان عمرة، حدثته ان عايشة قالت ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج مخرجا فخسف بالشمس فخرجنا الى الحجرة فاجتمع الينا نساء واقبل الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك ضحوة فقام قياما طويلا ثم ركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقام دون القيام الاول ثم ركع دون ركوعه ثم سجد ثم قام الثانية فصنع مثل ذلك الا ان قيامه وركوعه دون الركعة الاولى ثم سجد وتجلت الشمس فلما انصرف قعد على المنبر فقال فيما يقول " ان الناس يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال " . مختصر
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Eclipses
- Hadith Index
- #1499
- Book Index
- 41
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
