احادیث
#834
سنن نسائی - Leading the Prayer
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے ( ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ) نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔ ( عبیداللہ کہتے ہیں ) میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی ( کرم اللہ وجہہ ) تھے۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم العنبري، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا زايدة، عن موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، قال دخلت على عايشة فقلت الا تحدثيني عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اصلى الناس " . فقلنا لا وهم ينتظرونك يا رسول الله . فقال " ضعوا لي ماء في المخضب " . ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء فاغمي عليه ثم افاق فقال " اصلى الناس " . قلنا لا هم ينتظرونك يا رسول الله . فقال " ضعوا لي ماء في المخضب " . ففعلنا فاغتسل ثم ذهب لينوء ثم اغمي عليه ثم قال في الثالثة مثل قوله قالت والناس عكوف في المسجد ينتظرون رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابي بكر " ان صل بالناس " . فجاءه الرسول فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تصلي بالناس وكان ابو بكر رجلا رقيقا فقال يا عمر صل بالناس . فقال انت احق بذلك . فصلى بهم ابو بكر تلك الايام ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد من نفسه خفة فجاء يهادى بين رجلين احدهما العباس لصلاة الظهر فلما راه ابو بكر ذهب ليتاخر فاوما اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا يتاخر وامرهما فاجلساه الى جنبه فجعل ابو بكر يصلي قايما والناس يصلون بصلاة ابي بكر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قاعدا . فدخلت على ابن عباس فقلت الا اعرض عليك ما حدثتني عايشة عن مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم . فحدثته فما انكر منه شييا غير انه قال اسمت لك الرجل الذي كان مع العباس قلت لا . قال هو علي كرم الله وجهه
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Leading the Prayer
- Hadith Index
- #834
- Book Index
- 58
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
