احادیث
#632
سنن نسائی - The Call to Prayer
(عبداللہ بن محیریز جو ابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا ) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جا رہا ہوں، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے ( اور میں جواب نہ دے پاؤں، اس لیے مجھے اذان سکھا دو ) ، تو آپ نے کہا: میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ہی ) اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی، تو ہم اس کی نقل اتارنے، اور اس کا مذاق اڑانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں نے ( ابھی ) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے؟ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا تھا، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا، اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو، تو میں اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اپنی آواز کھینچو ( بلند کرو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»،«أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، ويوسف بن سعيد، - واللفظ له - قالا حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال حدثني عبد العزيز بن عبد الملك بن ابي محذورة، ان عبد الله بن محيريز، اخبره - وكان، يتيما في حجر ابي محذورة حتى جهزه الى الشام - قال قلت لابي محذورة اني خارج الى الشام واخشى ان اسال عن تاذينك فاخبرني ان ابا محذورة قال له خرجت في نفر فكنا ببعض طريق حنين مقفل رسول الله صلى الله عليه وسلم من حنين فلقينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض الطريق فاذن موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعنا صوت الموذن ونحن عنه متنكبون فظللنا نحكيه ونهزا به فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم الصوت فارسل الينا حتى وقفنا بين يديه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايكم الذي سمعت صوته قد ارتفع " . فاشار القوم الى وصدقوا فارسلهم كلهم وحبسني فقال " قم فاذن بالصلاة " . فقمت فالقى على رسول الله صلى الله عليه وسلم التاذين هو بنفسه قال " قل الله اكبر الله اكبر الله اكبر الله اكبر اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله " . ثم قال " ارجع فامدد صوتك " . ثم قال " قل اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمدا رسول الله اشهد ان محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله اكبر الله اكبر لا اله الا الله " . ثم دعاني حين قضيت التاذين فاعطاني صرة فيها شىء من فضة فقلت يا رسول الله مرني بالتاذين بمكة . فقال " قد امرتك به " . فقدمت على عتاب بن اسيد عامل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فاذنت معه بالصلاة عن امر رسول الله صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- The Call to Prayer
- Hadith Index
- #632
- Book Index
- 7
Grades
- Abu GhuddahHasan Sahih
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
