احادیث
#506
سنن ابی داؤد - Prayer
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ نماز تین حالتوں سے گزری، ہمارے صحابہ کرام نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات بھلی معلوم ہوئی کہ سارے مسلمان یا سارے مومن مل کر ایک ساتھ نماز پڑھا کریں، اور ایک جماعت ہوا کرے، یہاں تک کہ میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو بھیج دیا کروں کہ وہ نماز کے وقت لوگوں کے گھروں اور محلوں میں جا کر پکار آیا کریں کہ نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ پھر میں نے قصد کیا کہ کچھ لوگوں کو حکم دوں کہ وہ ٹیلوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو نماز کے وقت سے باخبر کریں، یہاں تک کہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا قریب تھا کہ بجانے لگ جائیں ، اتنے میں ایک انصاری ( عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ) آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب میں آپ کے پاس سے گیا تو میں اسی فکر میں تھا، جس میں آپ تھے کہ اچانک میں نے ( خواب میں ) ایک شخص ( فرشتہ ) کو دیکھا، گویا وہ سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہے، وہ مسجد پر کھڑا ہوا، اور اذان دی، پھر تھوڑی دیر بیٹھا پھر کھڑا ہوا اور جو کلمات اذان میں کہے تھے، وہی اس نے پھر دہرائے، البتہ: «قد قامت الصلاة» کا اس میں اضافہ کیا۔ اگر مجھے اندیشہ نہ ہو تاکہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے ( اور ابن مثنی کی روایت میں ہے کہ تم ( لوگ ) جھوٹا کہو گے ) تو میں یہ کہتا کہ میں بیدار تھا، سو نہیں رہا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے تمہیں بہتر خواب دکھایا ہے ( یہ ابن مثنی کی روایت میں ہے اور عمرو بن مرزوق کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہتر خواب دکھایا ہے ) ، ( پھر فرمایا ) : تم بلال سے کہو کہ وہ اذان دیں ۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ ( آ کر ) کہنے لگے: میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہے، لیکن چونکہ میں پیچھے رہ گیا، اس لیے شرم سے نہیں کہہ سکا۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ہم سے ہمارے صحابہ کرام نے بیان کیا کہ جب کوئی شخص ( نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں آتا اور دیکھتا کہ نماز باجماعت ہو رہی ہے ) تو امام کے ساتھ نماز پڑھنے والوں سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں، وہ مصلی اشارے سے پڑھی ہوئی رکعتیں بتا دیتا اور حال یہ ہوتا کہ لوگ جماعت میں قیام یا رکوع یا قعدے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوتے۔ ابن مثنیٰ کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا: حصین نے ابن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے مجھ سے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: یہاں تک کہ معاذ رضی اللہ عنہ آئے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی یہ حدیث حصین سے سنی ہے اس میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حالت میں دیکھوں گا ویسے ہی کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ نے تمہارے واسطے ایک سنت مقرر کر دی ہے تم ایسے ہی کیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: پھر میں عمرو بن مرزوق کی حدیث کے سیاق کی طرف پلٹتا ہوں، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے ان کو اشارہ سے بتلایا، شعبہ کہتے ہیں: اس جملے کو میں نے حصین سے سنا ہے، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: تو معاذ نے کہا: میں جس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں گا وہی کروں گا، وہ کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ نے تمہارے لیے ایک سنت جاری کر دی ہے لہٰذا تم بھی معاذ کی طرح کرو ، ( یعنی جتنی نماز امام کے ساتھ پاؤ اسے پڑھ لو، بقیہ بعد میں پوری کر لو ) ۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ہمارے صحابہ کرام نے ہم سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انہیں ( ہر ماہ ) تین دن روزے رکھنے کا حکم دیا، پھر رمضان کے روزے نازل کئے گئے، وہ لوگ روزے رکھنے کے عادی نہ تھے، اور روزہ رکھنا ان پر گراں گزرتا تھا، چنانچہ جو روزہ نہ رکھتا وہ اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا، پھر یہ آیت: «فمن شهد منكم الشهر فليصمه» ۱؎ نازل ہوئی تو رخصت عام نہ رہی، بلکہ صرف مریض اور مسافر کے لیے مخصوص ہو گئی، باقی سب لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم ہوا۔ ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ہمارے اصحاب نے ہم سے حدیث بیان کی کہ اوائل اسلام میں جب کوئی آدمی روزہ افطار کر کے سو جاتا اور کھانا نہ کھاتا تو پھر اگلے دن تک اس کے لیے کھانا درست نہ ہوتا، ایک بار عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے صحبت کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا: میں کھانے سے پہلے سو گئی تھی، عمر سمجھے کہ وہ بہانہ کر رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی، اسی طرح ایک روز ایک انصاری آئے اور انہوں نے کھانا چاہا، ان کے گھر والوں نے کہا: ذرا ٹھہرئیے ہم کھانا گرم کر لیں، اسی دوران وہ سو گئے، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ۲؎۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت ابن ابي ليلى، ح وحدثنا ابن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، سمعت ابن ابي ليلى، قال احيلت الصلاة ثلاثة احوال - قال - وحدثنا اصحابنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لقد اعجبني ان تكون صلاة المسلمين - او قال المومنين - واحدة حتى لقد هممت ان ابث رجالا في الدور ينادون الناس بحين الصلاة وحتى هممت ان امر رجالا يقومون على الاطام ينادون المسلمين بحين الصلاة حتى نقسوا او كادوا ان ينقسوا " . قال فجاء رجل من الانصار فقال يا رسول الله اني لما رجعت - لما رايت من اهتمامك - رايت رجلا كان عليه ثوبين اخضرين فقام على المسجد فاذن ثم قعد قعدة ثم قام فقال مثلها الا انه يقول قد قامت الصلاة ولولا ان يقول الناس - قال ابن المثنى ان تقولوا - لقلت اني كنت يقظانا غير نايم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال ابن المثنى " لقد اراك الله خيرا " . ولم يقل عمرو " لقد اراك الله خيرا فمر بلالا فليوذن " . قال فقال عمر اما اني قد رايت مثل الذي راى ولكني لما سبقت استحييت . قال وحدثنا اصحابنا قال وكان الرجل اذا جاء يسال فيخبر بما سبق من صلاته وانهم قاموا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين قايم وراكع وقاعد ومصل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابن المثنى قال عمرو وحدثني بها حصين عن ابن ابي ليلى حتى جاء معاذ . قال شعبة وقد سمعتها من حصين فقال لا اراه على حال الى قوله كذلك فافعلوا . قال ابو داود ثم رجعت الى حديث عمرو بن مرزوق قال فجاء معاذ فاشاروا اليه - قال شعبة وهذه سمعتها من حصين - قال فقال معاذ لا اراه على حال الا كنت عليها . قال فقال ان معاذا قد سن لكم سنة كذلك فافعلوا . قال وحدثنا اصحابنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة امرهم بصيام ثلاثة ايام ثم انزل رمضان وكانوا قوما لم يتعودوا الصيام وكان الصيام عليهم شديدا فكان من لم يصم اطعم مسكينا فنزلت هذه الاية { فمن شهد منكم الشهر فليصمه } فكانت الرخصة للمريض والمسافر فامروا بالصيام . قال وحدثنا اصحابنا قال وكان الرجل اذا افطر فنام قبل ان ياكل لم ياكل حتى يصبح . قال فجاء عمر بن الخطاب فاراد امراته فقالت اني قد نمت فظن انها تعتل فاتاها فجاء رجل من الانصار فاراد الطعام فقالوا حتى نسخن لك شييا فنام فلما اصبحوا انزلت عليه هذه الاية { احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسايكم}
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Prayer
- Hadith Index
- #506
- Book Index
- 116
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
