احادیث
#7490
صحیح بخاری - Oneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے، ان سے ابی بشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (سورۃ بنی اسرائیل کی) آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے بارے میں کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ جب آپ نماز میں آواز بلند کرتے تو مشرکین سنتے اور قرآن مجید اور اس کے نازل کرنے والے اللہ کو اور اس کے لانے والے جبرائیل علیہ السلام کو گالی دیتے ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ) اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کہ ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بالکل آہستہ یعنی آواز اتنی بلند بھی نہ کر کہ مشرکین سن لیں اور اتنی آہستہ بھی نہ کر کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کر۔“ مطلب یہ ہے کہ اتنی آواز سے پڑھ کہ تیرے اصحاب سن لیں اور قرآن سیکھ لیں، اس سے زیادہ چلا کر نہ پڑھ۔
حدثنا مسدد، عن هشيم، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما {ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها} قال انزلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم متوار بمكة، فكان اذا رفع صوته سمع المشركون فسبوا القران ومن انزله ومن جاء به. وقال الله تعالى {ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها} لا تجهر بصلاتك حتى يسمع المشركون، ولا تخافت بها عن اصحابك فلا تسمعهم {وابتغ بين ذلك سبيلا} اسمعهم ولا تجهر حتى ياخذوا عنك القران
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Oneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)
- Hadith Index
- #7490
- Book Index
- 116
Grades
- -
