احادیث
#6509
صحیح بخاری - To make the Heart Tender
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل بن خالد نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے چند علم والوں کے سامنے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ خاصے تندرست تھے فرمایا تھا کسی نبی کی اس وقت تک روح قبض نہیں کی جاتی جب تک جنت میں اس کے رہنے کی جگہ اسے دکھا نہ دی جاتی ہو اور پھر اسے ( دنیا یا آخرت کے لیے ) اختیار دیا جاتا ہے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا تو آپ پر تھوڑی دیر کے لیے غشی چھا گئی، پھر جب آپ کو ہوش آیا تو آپ چھت کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگے۔ پھر فرمایا «اللهم الرفيق الأعلى» میں نے کہا کہ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ترجیح نہیں دے سکتے اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی حدیث ہے جو آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمائی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے اپنی زبان مبارک سے ادا فرمایا یعنی یہ ارشاد کہ «اللهم الرفيق الأعلى» یعنی یا اللہ! مجھ کو بلند رفیقوں کا ساتھ پسند ہے۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد بن المسيب، وعروة بن الزبير، في رجال من اهل العلم ان عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو صحيح " انه لم يقبض نبي قط حتى يرى مقعده من الجنة ثم يخير ". فلما نزل به، وراسه على فخذي، غشي عليه ساعة، ثم افاق، فاشخص بصره الى السقف ثم قال " اللهم الرفيق الاعلى ". قلت اذا لا يختارنا، وعرفت انه الحديث الذي كان يحدثنا به قالت فكانت تلك اخر كلمة تكلم بها النبي صلى الله عليه وسلم قوله " اللهم الرفيق الاعلى
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- To make the Heart Tender
- Hadith Index
- #6509
- Book Index
- 98
Grades
- -
