احادیث
#5372
صحیح بخاری - Supporting the Family
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے خبر دی، ان کو ابوسلمہ کی صاحبزادی زینب نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن ( عزہ بنت ابی سفیان ) بنت ابی سفیان سے نکاح کر لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تم اسے پسند بھی کرو گی ( کہ تمہاری بہن تمہاری سوکن بن جائے ) ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، اس سے خالی تو میں اب بھی نہیں ہوں اور میں پسند کرتی ہوں کہ اپنی بہن کو بھی بھلائی میں اپنے ساتھ شریک کر لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ یہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔ ( دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! واللہ اس طرح کی باتیں ہو رہی ہیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی بیٹی۔ جب میں نے عرض کیا، جی ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی وہ تو میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا تھا۔ پس تم میرے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ اور شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے عروہ نے، کہا کہ ثوبیہ کو ابولہب نے آزاد کیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني عروة، ان زينب ابنة ابي سلمة، اخبرته ان ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قلت يا رسول الله انكح اختي ابنة ابي سفيان. قال " وتحبين ذلك ". قلت نعم لست لك بمخلية، واحب من شاركني في الخير اختي. فقال " ان ذلك لا يحل لي ". فقلت يا رسول الله فوالله انا نتحدث انك تريد ان تنكح درة ابنة ابي سلمة. فقال " ابنة ام سلمة ". فقلت نعم. قال "فوالله لو لم تكن ربيبتي في حجري ما حلت لي، انها ابنة اخي من الرضاعة، ارضعتني وابا سلمة ثويبة، فلا تعرضن على بناتكن ولا اخواتكن ". وقال شعيب عن الزهري قال عروة ثويبة اعتقها ابو لهب
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Supporting the Family
- Hadith Index
- #5372
- Book Index
- 22
Grades
- -
