احادیث
#4730
صحیح بخاری - Prophetic Commentary on the Qur'an
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ہم سے اعمش نے، ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمام جنتی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے، آواز دینے والا فرشتہ پوچھے گا۔ تم اس مینڈھے کو بھی پہچانتے ہو؟ وہ بولیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے اور ان سے ہر شخص اس کا ذائقہ چکھ چکا ہو گا۔ پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا اور آواز دینے والا جنتیوں سے کہے گا کہ اب تمہارے لیے ہمیشگی ہے، موت تم پر کبھی نہ آئے گی اور اے جہنم والو! تمہیں بھی ہمیشہ اسی طرح رہنا ہے، تم پر بھی موت کبھی نہیں آئے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «وأنذرهم يوم الحسرة إذ قضي الأمر وهم في غفلة» الخ ”اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا دو۔ جبکہ اخیر فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ( یعنی دنیادار لوگ ) اور ایمان نہیں لاتے۔“
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوتى بالموت كهيية كبش املح فينادي مناد يا اهل الجنة، فيشريبون وينظرون فيقول هل تعرفون هذا فيقولون نعم هذا الموت، وكلهم قد راه، ثم ينادي يا اهل النار، فيشريبون وينظرون، فيقول هل تعرفون هذا فيقولون نعم هذا الموت، وكلهم قد راه، فيذبح ثم يقول يا اهل الجنة، خلود فلا موت، ويا اهل النار، خلود فلا موت ثم قرا {وانذرهم يوم الحسرة اذ قضي الامر وهم في غفلة} وهولاء في غفلة اهل الدنيا {وهم لا يومنون}
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Prophetic Commentary on the Qur'an
- Hadith Index
- #4730
- Book Index
- 252
Grades
- -
