احادیث
#4101
صحیح بخاری - Military Expeditions
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ایمن حبشی نے بیان کیا کہ میں جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی ( جس پر کدال اور پھاوڑے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اس لیے خندق کی کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی ) صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اندر اترتا ہوں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور اس وقت ( بھوک کی شدت کی وجہ سے ) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر اس سے مارا۔ چٹان ( ایک ہی ضرب میں ) بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئیے۔ ( گھر آ کر ) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فاقوں کی وجہ سے ) اس حالت میں دیکھا کہ صبر نہ ہو سکا۔ کیا تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے۔ پھر گوشت کو ہم نے چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا گھر کھانے کے لیے مختصر کھانا تیار ہے۔ یا رسول اللہ! آپ اپنے ساتھ ایک دو آدمیوں کو لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے؟ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ و طیب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتاریں اور نہ تنور سے روٹی نکالیں میں ابھی آ رہا ہوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے انہوں نے کہا اب کیا ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ لیکن اژدہام نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کا چورا کرنے لگے اور گوشت اس پر ڈالنے لگے۔ ہانڈی اور تنور دونوں ڈھکے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور صحابہ کے قریب کر دیا۔ پھر آپ نے گوشت اور روٹی نکالی۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روٹی چورا کرتے جاتے اور گوشت اس میں ڈالتے جاتے۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے ) فرمایا کہ اب یہ کھانا تم خود کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو کیونکہ لوگ آج کل فاقہ میں مبتلا ہیں۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا عبد الواحد بن ايمن، عن ابيه، قال اتيت جابرا رضى الله عنه فقال انا يوم الخندق نحفر فعرضت كدية شديدة، فجاءوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا هذه كدية عرضت في الخندق، فقال " انا نازل ". ثم قام وبطنه معصوب بحجر، ولبثنا ثلاثة ايام لا نذوق ذواقا، فاخذ النبي صلى الله عليه وسلم المعول فضرب، فعاد كثيبا اهيل او اهيم، فقلت يا رسول الله ايذن لي الى البيت. فقلت لامراتي رايت بالنبي صلى الله عليه وسلم شييا، ما كان في ذلك صبر، فعندك شىء قالت عندي شعير وعناق. فذبحت العناق وطحنت الشعير، حتى جعلنا اللحم في البرمة، ثم جيت النبي صلى الله عليه وسلم والعجين قد انكسر، والبرمة بين الاثافي قد كادت ان تنضج فقلت طعيم لي، فقم انت يا رسول الله ورجل او رجلان. قال " كم هو ". فذكرت له، قال " كثير طيب ". قال " قل لها لا تنزع البرمة ولا الخبز من التنور حتى اتي ". فقال " قوموا ". فقام المهاجرون والانصار، فلما دخل على امراته قال ويحك جاء النبي صلى الله عليه وسلم بالمهاجرين والانصار ومن معهم. قالت هل سالك قلت نعم. فقال " ادخلوا ولا تضاغطوا ". فجعل يكسر الخبز ويجعل عليه اللحم، ويخمر البرمة والتنور اذا اخذ منه، ويقرب الى اصحابه ثم ينزع، فلم يزل يكسر الخبز ويغرف حتى شبعوا وبقي بقية قال " كلي هذا واهدي، فان الناس اصابتهم مجاعة
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Military Expeditions
- Hadith Index
- #4101
- Book Index
- 145
Grades
- -
