احادیث
#2763
صحیح بخاری - Wills and Testaments
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان سے حدیث بیان کرتے تھے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء» ”اور اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو ( اور ) عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔“ کا مطلب پوچھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی زیر پرورش ہو ‘ پھر ولی کے دل میں اس کا حسن اور اس کے مال کی طرف سے رغبت نکاح پیدا ہو جائے مگر اس کم مہر پر جو ویسی لڑکیوں کا ہونا چاہئے تو اس طرح نکاح کرنے سے روکا گیا لیکن یہ کہ ولی ان کے ساتھ پورے مہر کی ادائیگی میں انصاف سے کام لیں ( تو نکاح کر سکتے ہیں ) اور انہیں لڑکیوں کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن» ”آپ سے لوگ عورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں ہدایت کرتا ہے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کر دیا کہ یتیم لڑکی اگر جمال اور مال والی ہو اور ( ان کے ولی ) ان سے نکاح کرنے کے خواہشمند ہوں لیکن پورا مہر دینے میں ان کے ( خاندان کے ) طریقوں کی پابندی نہ کر سکیں تو ( وہ ان سے نکاح مت کریں ) جبکہ مال اور حسن کی کمی کی وجہ سے ان کی طرف انہیں کوئی رغبت نہ ہوتی ہو تو انہیں وہ چھوڑ دیتے اور ان کے سوا کسی دوسری عورت کو تلاش کرتے۔ راوی نے کہا جس طرح ایسے لوگ رغبت نہ ہونے کی صورت میں ان یتیم لڑکیوں کو چھوڑ دیتے ‘ اسی طرح ان کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ جب ان لڑکیوں کی طرف انہیں رغبت ہو تو ان کے پورے مہر کے معاملے میں اور ان کے حقوق ادا کرنے میں انصاف سے کام لیے بغیر ان سے نکاح کریں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال كان عروة بن الزبير يحدث انه سال عايشة رضى الله عنها – {وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء} قالت هي اليتيمة في حجر وليها، فيرغب في جمالها ومالها، ويريد ان يتزوجها بادنى من سنة نسايها، فنهوا عن نكاحهن، الا ان يقسطوا لهن في اكمال الصداق، وامروا بنكاح من سواهن من النساء قالت عايشة ثم استفتى الناس رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد فانزل الله عز وجل {ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن} قالت فبين الله في هذه ان اليتيمة اذا كانت ذات جمال ومال رغبوا في نكاحها، ولم يلحقوها بسنتها باكمال الصداق، فاذا كانت مرغوبة عنها في قلة المال والجمال تركوها والتمسوا غيرها من النساء، قال فكما يتركونها حين يرغبون عنها فليس لهم ان ينكحوها اذا رغبوا فيها الا ان يقسطوا لها الاوفى من الصداق ويعطوها حقها
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Wills and Testaments
- Hadith Index
- #2763
- Book Index
- 26
Grades
- -
