احادیث
#2690
صحیح بخاری - Peacemaking
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( قباء کے ) بنو عمرو بن عوف میں آپس میں کچھ تکرار ہو گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئی اصحاب کو ساتھ لے کر ان کے یہاں ان میں صلح کرانے کے لیے گئے اور نماز کا وقت ہو گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لا سکے۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اذان دی، ابھی تک چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے اس لیے وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہدایت کے مطابق ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہو گیا ہے، کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر تم چاہو۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ( نماز کے درمیان ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پہلی صف میں آ پہنچے۔ لوگ باربار ہاتھ پر ہاتھ مارنے لگے۔ مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ( مگر جب باربار ایسا ہوا تو ) آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پیچھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے انہیں حکم دیا کہ جس طرح وہ نماز پڑھا رہے ہیں، اسے جاری رکھیں۔ لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد بیان کی اور الٹے پاؤں پیچھے آ گئے اور صف میں مل گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ہدایت کی کہ لوگو! جب نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم ہاتھ پر ہاتھ مارنے لگتے ہو۔ ہاتھ پر ہاتھ مارنا عورتوں کے لیے ہے ( مردوں کو ) جس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے تو اسے سبحان اللہ کہنا چاہئے، کیونکہ یہ لفظ جو بھی سنے گا وہ متوجہ ہو جائے گا۔ اے ابوبکر! جب میں نے اشارہ بھی کر دیا تھا تو پھر آپ لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھاتے رہے؟ انہوں نے عرض کیا، ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے یہ بات مناسب نہ تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے نماز پڑھائے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه ان اناسا، من بني عمرو بن عوف كان بينهم شىء، فخرج اليهم النبي صلى الله عليه وسلم في اناس من اصحابه يصلح بينهم، فحضرت الصلاة، ولم يات النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء بلال، فاذن بلال بالصلاة، ولم يات النبي صلى الله عليه وسلم فجاء الى ابي بكر فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم حبس، وقد حضرت الصلاة فهل لك ان توم الناس فقال نعم ان شيت. فاقام الصلاة فتقدم ابو بكر، ثم جاء النبي صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف، حتى قام في الصف الاول، فاخذ الناس بالتصفيح حتى اكثروا، وكان ابو بكر لا يكاد يلتفت في الصلاة، فالتفت فاذا هو بالنبي صلى الله عليه وسلم وراءه فاشار اليه بيده، فامره يصلي كما هو، فرفع ابو بكر يده، فحمد الله، ثم رجع القهقرى وراءه حتى دخل في الصف، وتقدم النبي صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس، فلما فرغ اقبل على الناس فقال " يا ايها الناس ما لكم اذا نابكم شىء في صلاتكم اخذتم بالتصفيح، انما التصفيح للنساء، من نابه شىء في صلاته فليقل سبحان الله، فانه لا يسمعه احد الا التفت، يا ابا بكر ما منعك حين اشرت اليك لم تصل بالناس ". فقال ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يصلي بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Peacemaking
- Hadith Index
- #2690
- Book Index
- 1
Grades
- -
