احادیث
#2641
صحیح بخاری - Witnesses
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، کہا کہ مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عتبہ نے اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا وحی کے ذریعہ مواخذہ ہو جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا اور ہم صرف انہیں امور میں مواخذہ کریں گے جو تمہارے عمل سے ہمارے سامنے ظاہر ہوں گے۔ اس لیے جو کوئی ظاہر میں ہمارے سامنے خیر کرے گا، ہم اسے امن دیں گے اور اپنے قریب رکھیں گے۔ اس کے باطن سے ہمیں کوئی سروکار نہ ہو گا۔ اس کا حساب تو اللہ تعالیٰ کرے گا اور جو کوئی ہمارے سامنے ظاہر میں برائی کرے گا تو ہم بھی اسے امن نہیں دیں گے اور نہ ہم اس کی تصدیق کریں گے خواہ وہ یہی کہتا رہے کہ اس کا باطن اچھا ہے۔
حدثنا الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني حميد بن عبد الرحمن بن عوف، ان عبد الله بن عتبة، قال سمعت عمر بن الخطاب رضى الله عنه يقول ان اناسا كانوا يوخذون بالوحى في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وان الوحى قد انقطع، وانما ناخذكم الان بما ظهر لنا من اعمالكم، فمن اظهر لنا خيرا امناه وقربناه، وليس الينا من سريرته شىء، الله يحاسبه في سريرته، ومن اظهر لنا سوءا لم نامنه ولم نصدقه، وان قال ان سريرته حسنة
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Witnesses
- Hadith Index
- #2641
- Book Index
- 5
Grades
- -
