احادیث
#1834
صحیح بخاری - Penalty of Hunting while on Pilgrimage
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت فرض نہیں رہی لیکن ( اچھی ) نیت اور جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو تیار ہو جانا۔ اس شہر ( مکہ ) کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن حرمت عطا کی تھی جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا کئے، اس لیے یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حرمت کی وجہ سے محترم ہے یہاں کسی کے لیے بھی مجھ سے پہلے لڑائی جائز نہیں تھی اور مجھے بھی صرف ایک دن گھڑی بھر کے لیے ( فتح مکہ کے دن اجازت ملی تھی ) اب ہمیشہ یہ شہر اللہ کی قائم کی ہوئی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرمت والا ہے پس اس کا کانٹا کاٹا جائے نہ اس کے شکار ہانکے جائیں اور اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! اذخر ( ایک گھاس ) کی اجازت تو دیجئیے کیونکہ یہاں یہ کاری گروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے تو آپ ے فرمایا کہ اذخر کی اجازت ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم افتتح مكة " لا هجرة ولكن جهاد ونية، واذا استنفرتم فانفروا، فان هذا بلد حرم الله يوم خلق السموات والارض، وهو حرام بحرمة الله الى يوم القيامة، وانه لم يحل القتال فيه لاحد قبلي، ولم يحل لي الا ساعة من نهار، فهو حرام بحرمة الله الى يوم القيامة، لا يعضد شوكه، ولا ينفر صيده، ولا يلتقط لقطته الا من عرفها، ولا يختلى خلاها ". قال العباس يا رسول الله. الا الاذخر، فانه لقينهم ولبيوتهم. قال قال " الا الاذخر
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Penalty of Hunting while on Pilgrimage
- Hadith Index
- #1834
- Book Index
- 14
Grades
- -
