احادیث
#4
صحیح بخاری - Revelation
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ «فواده» کی جگہ «بوادره» نقل کیا ہے۔
قال ابن شهاب واخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان جابر بن عبد الله الانصاري، قال وهو يحدث عن فترة الوحى، فقال في حديثه " بينا انا امشي، اذ سمعت صوتا، من السماء، فرفعت بصري فاذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والارض، فرعبت منه، فرجعت فقلت زملوني. فانزل الله تعالى {يا ايها المدثر * قم فانذر} الى قوله {والرجز فاهجر} فحمي الوحى وتتابع ". تابعه عبد الله بن يوسف وابو صالح. وتابعه هلال بن رداد عن الزهري. وقال يونس ومعمر " بوادره
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Revelation
- Hadith Index
- #4
- Book Index
- 4
Grades
- -
