Loading...

Loading...
کتب
۳۴ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، حدثني اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرويا الحسنة من الرجل الصالح جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رويا المومن جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک مسلمان کا خواب نبوت کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب قالا حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا شيبان، عن فراس، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رويا الرجل المسلم الصالح جزء من سبعين جزءا من النبوة
ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نبوت ختم ہو گئی لیکن مبشرات ( اچھے خواب ) باقی ہیں ۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، عن سباع بن ثابت، عن ام كرز الكعبية، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ذهبت النبوة وبقيت المبشرات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب نبوت کا سترواں حصہ ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، وعبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرويا الصالحة جزء من سبعين جزءا من النبوة
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ( سورة يونس: ۶۳ ) ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے کے بارے میں سوال کیا ( کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن عبادة بن الصامت، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قول الله سبحانه {لهم البشرى في الحياة الدنيا وفي الاخرة} . قال " هي الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا، تو لوگ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ( نماز کے لیے ) صفیں باندھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اب نبوت کی خوشخبریوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، سوائے سچے خواب کے جسے خود مسلمان دیکھتا ہے، یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الايلي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سليمان بن سحيم، عن ابراهيم بن عبد الله بن معبد بن عباس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال كشف رسول الله صلى الله عليه وسلم الستارة في مرضه والناس صفوف خلف ابي بكر فقال " ايها الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، تو اس نے مجھے بیداری میں دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں اپنا سکتا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من راني في المنام فقد راني في اليقظة فان الشيطان لا يتمثل على صورتي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے یقیناً مجھے دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں اپنا سکتا ۔
حدثنا ابو مروان العثماني، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من راني في المنام فقد راني فان الشيطان لا يتمثل بي
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقیناً اس نے مجھے دیکھا، کیونکہ شیطان کے لیے جائز نہیں کہ وہ میری صورت اپنائے۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من راني في المنام فقد راني انه لا ينبغي للشيطان ان يتمثل في صورتي
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت نہیں اپنا سکتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب قالا حدثنا بكر بن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن المختار، عن ابن ابي ليلى، عن عطية، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من راني في المنام فقد راني فان الشيطان لا يتمثل بي
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا گویا اس نے مجھے بیداری میں دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں آنے پر قادر نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا سعدان بن يحيى بن صالح اللخمي، حدثنا صدقة بن ابي عمران، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من راني في المنام فكانما راني في اليقظة ان الشيطان لا يستطيع ان يتمثل بي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو الوليد، قال ابو عوانة حدثنا عن جابر، عن عمار، - هو الدهني - عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من راني في المنام فقد راني فان الشيطان لا يتمثل بي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کا ہوتا ہے: ایک اللہ کی طرف سے خوشخبری، دوسرے خیالی باتیں، تیسرے شیطان کا ڈرانا، پس جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اگر چاہے تو لوگوں سے بیان کر دے، اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اس کو کسی سے بیان نہ کرے، اور کھڑ ے ہو کر نماز پڑھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هوذة بن خليفة، حدثنا عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الرويا ثلاث فبشرى من الله وحديث النفس وتخويف من الشيطان فاذا راى احدكم رويا تعجبه فليقصها ان شاء وان راى شييا يكرهه فلا يقصه على احد وليقم يصلي
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک تو شیطان کی ڈراونی باتیں تاکہ وہ ابن آدم کو ان کے ذریعہ غمگین کرے، بعض خواب ایسے ہوتے ہیں کہ حالت بیداری میں آدمی جس طرح کی باتیں سوچتا رہتا ہے، وہی سب خواب میں بھی دیکھتا ہے اور ایک وہ خواب ہے جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ ابو عبیداللہ مسلم بن مشکم کہتے ہیں کہ میں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا يزيد بن عبيدة، حدثني ابو عبيد الله، مسلم بن مشكم عن عوف بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الرويا ثلاث منها اهاويل من الشيطان ليحزن بها ابن ادم ومنها ما يهم به الرجل في يقظته فيراه في منامه ومنها جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة " . قال قلت له انت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم انا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم انا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو بائیں طرف تین بار تھوکے، اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے، اور جس پہلو پر تھا اسے بدل لے ۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا راى احدكم الرويا يكرهها فليبصق عن يساره ثلاثا وليستعذ بالله من الشيطان ثلاثا وليتحول عن جنبه الذي كان عليه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچا خواب اللہ کی طرف سے ہے، اور برا خواب شیطان کی طرف سے، پس اگر تم میں سے کوئی نا پسندیدہ خواب دیکھے تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، اور شیطان مردود سے تین بار اللہ کی پناہ مانگے، اور جس پہلو پر تھا اسے بدل لے ۔
حدثنا محمد بن رمح، حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الرويا من الله والحلم من الشيطان فان راى احدكم شييا يكرهه فليبصق عن يساره ثلاثا وليستعذ بالله من الشيطان الرجيم ثلاثا وليتحول عن جنبه الذي كان عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کروٹ بدل لے، اور اپنے بائیں طرف تین بار تھوکے، اور اللہ تعالیٰ سے اس خواب کی بھلائی کا سوال کرے، اور اس کی برائی سے پناہ مانگے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن العمري، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا راى احدكم رويا يكرهها فليتحول وليتفل عن يساره ثلاثا وليسال الله من خيرها وليتعوذ بالله من شرها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گردن مار دی گئی، اور سر لڑھکتا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو شیطان خواب میں آ کر ڈراتا ہے اور پھر تم اسے صبح کو لوگوں سے بیان بھی کرتے ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير، عن عمر بن سعيد بن ابي حسين، حدثني عطاء بن ابي رباح، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني رايت راسي ضرب فرايته يتدهده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعمد الشيطان الى احدكم فيتهول له ثم يغدو يخبر الناس
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کل رات خواب دیکھا کہ میری گردن اڑا دی گئی، اور میرا سر الگ ہو گیا، میں اس کے پیچھے چلا اور اس کو اٹھا کر پھر اپنے مقام پر رکھ لیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان خواب میں تم میں سے کسی کے ساتھ کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل وهو يخطب فقال يا رسول الله رايت البارحة فيما يرى النايم كان عنقي ضربت وسقط راسي فاتبعته فاخذته فاعدته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا لعب الشيطان باحدكم في منامه فلا يحدثن به الناس