Loading...

Loading...
کتب
۲۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے مانو، اور جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة قال: حدثنا شريك عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما امرتكم به فخذوه وما نهيتكم عنه فانتهوا»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اسے یوں ہی رہنے دو ۱؎، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، لہٰذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو طاقت بھر اس پر عمل کرو، اور جب کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے رک جاؤ ۔
حدثنا ابو عبد الله، قال حدثنا محمد بن الصباح، قال انبانا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذروني ما تركتكم فانما هلك من كان قبلكم بسوالهم واختلافهم على انبيايهم فاذا امرتكم بشىء فخذوا منه ما استطعتم واذا نهيتكم عن شىء فانتهوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اطاعني فقد اطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا زكريا بن عدي، عن ابن المبارك، عن محمد بن سوقة، عن ابي جعفر، قال كان ابن عمر اذا سمع من، رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا لم يعده ولم يقصر دونه
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم اس وقت غربت و افلاس اور فقر کا تذکرہ کر رہے تھے، اور اس سے ڈر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ فقر سے ڈرتے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور تم پر دنیا آئندہ ایسی لائی جائے گی کہ اس کی طلب مزید تمہارے دل کو حق سے پھیر دے گی ۱؎، قسم اللہ کی! میں نے تم کو ایسی تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، قسم اللہ کی! آپ نے ہم کو ایک تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا، جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۲؎۔
حدثنا هشام بن عمار الدمشقي، حدثنا محمد بن عيسى بن سميع، حدثنا ابراهيم بن سليمان الافطس، عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي، عن جبير بن نفير، عن ابي الدرداء، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نذكر الفقر ونتخوفه فقال " الفقر تخافون والذي نفسي بيده لتصبن عليكم الدنيا صبا حتى لا يزيغ قلب احد منكم ازاغة الا هيه وايم الله لقد تركتكم على مثل البيضاء ليلها ونهارها سواء " . قال ابو الدرداء صدق والله رسول الله صلى الله عليه وسلم تركنا والله على مثل البيضاء ليلها ونهارها سواء
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ کو ہمیشہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہے گی ۱؎، اور جو اس کی تائید و مدد نہ کرے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزال طايفة من امتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم ( دین ) پر قائم رہنے والا ہو گا، اس کی مخالفت کرنے والا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا ۔
حدثنا ابو عبد الله، قال حدثنا هشام بن عمار، قال حدثنا يحيى بن حمزة، قال حدثنا ابو علقمة، نصر بن علقمة عن عمير بن الاسود، وكثير بن مرة الحضرمي، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تزال طايفة من امتي قوامة على امر الله لا يضرها من خالفها
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ہمیشہ اس دین میں نئے پودے اگا کر ان سے اپنی اطاعت کراتا رہے گا ۱؎ ۔
حدثنا ابو عبد الله، قال حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الجراح بن مليح، حدثنا بكر بن زرعة، قال سمعت ابا عنبة الخولاني، وكان، قد صلى القبلتين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يزال الله يغرس في هذا الدين غرسا يستعملهم في طاعته
شعیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہو گی ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا القاسم بن نافع، حدثنا الحجاج بن ارطاة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، قال قام معاوية خطيبا فقال اين علماوكم اين علماوكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقوم الساعة الا وطايفة من امتي ظاهرون على الناس لا يبالون من خذلهم ولا من نصرهم
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے ( اللہ کے امر یعنی: ) ۱؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا محمد بن شعيب، حدثنا سعيد بن بشير، عن قتادة، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ثوبان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال طايفة من امتي على الحق منصورين لا يضرهم من خالفهم حتى ياتي امر الله عز وجل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے ایک لکیر کھینچی اور دو لکیریں اس کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھینچیں، پھر اپنا ہاتھ بیچ والی لکیر پر رکھا اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے ، پھر اس آیت کی تلاوت کی: «وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله» یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے ( سورۃ الانعام: ۱۵۳ ) ۱؎۔
حدثنا ابو سعيد عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، قال سمعت مجالدا، يذكر عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فخط خطا وخط خطين عن يمينه وخط خطين عن يساره ثم وضع يده في الخط الاوسط فقال " هذا سبيل الله " . ثم تلا هذه الاية {وان هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله}
مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو وہ کہے: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے ، تو سن لو! جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، حدثني الحسن بن جابر، عن المقدام بن معديكرب الكندي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يوشك الرجل متكيا على اريكته يحدث بحديث من حديثي فيقول بيننا وبينكم كتاب الله عز وجل فما وجدنا فيه من حلال استحللناه وما وجدنا فيه من حرام حرمناه . الا وان ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل ما حرم الله
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا سفيان بن عيينة، في بيته انا سالته، عن سالم ابي النضر، ثم مر في الحديث قال او زيد بن اسلم عن عبيد الله بن ابي رافع عن ابيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا الفين احدكم متكيا على اريكته ياتيه الامر مما امرت به او نهيت عنه فيقول لا ادري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ قابل رد ہے ۱؎ ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا ابراهيم بن سعد بن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک پہنچ جائے ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: زبیر نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» قسم ہے آپ کے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے سارے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں، اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ( سورة النساء: 65 ) ۔
حدثنا محمد بن رمح بن المهاجر المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، ان عبد الله بن الزبير، حدثه ان رجلا من الانصار خاصم الزبير عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في شراج الحرة التي يسقون بها النخل فقال الانصاري سرح الماء يمر . فابى عليه فاختصما عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسق يا زبير ثم ارسل الماء الى جارك " . فغضب الانصاري فقال يا رسول الله ان كان ابن عمتك فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا زبير اسق ثم احبس الماء حتى يرجع الى الجدر " . قال فقال الزبير والله اني لاحسب هذه الاية نزلت في ذلك {فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی بندیوں ( عورتوں ) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا: ہم تو انہیں ضرور روکیں گے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما سخت ناراض ہوئے اور بولے: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے؟ ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنعوا اماء الله ان يصلين في المسجد " . فقال ابن له انا لنمنعهن . فقال فغضب غضبا شديدا وقال اني احدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وانك تقول انا لنمنعهن
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ: یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور تم پھر اسے کرنے لگے، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، وابو عمر حفص بن عمرو قالا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن سعيد بن جبير، عن عبد الله بن مغفل، انه كان جالسا الى جنبه ابن اخ له فخذف فنهاه وقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها وقال " انها لا تصيد صيدا ولا تنكي عدوا وانها تكسر السن وتفقا العين " . قال فعاد ابن اخيه يخذف فقال احدثك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها ثم عدت تخذف لا اكلمك ابدا
قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے ( جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں ) معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار ( اشرفی ) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں، تو کہا: لوگو! تم سود کھاتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ۱؎ ، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوالولید! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے، یعنی نقدا نقد میں تفاضل ( کمی بیشی ) جائز ہے، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے، عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے، تو ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابوالولید! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوالولید! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني برد بن سنان، عن اسحاق بن قبيصة، عن ابيه، ان عبادة بن الصامت الانصاري النقيب، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا مع معاوية ارض الروم فنظر الى الناس وهم يتبايعون كسر الذهب بالدنانير وكسر الفضة بالدراهم فقال يا ايها الناس انكم تاكلون الربا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تبتاعوا الذهب بالذهب الا مثلا بمثل لا زيادة بينهما ولا نظرة " . فقال له معاوية يا ابا الوليد لا ارى الربا في هذا الا ما كان من نظرة . فقال عبادة احدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحدثني عن رايك لين اخرجني الله لا اساكنك بارض لك على فيها امرة . فلما قفل لحق بالمدينة فقال له عمر بن الخطاب ما اقدمك يا ابا الوليد فقص عليه القصة وما قال من مساكنته فقال ارجع يا ابا الوليد الى ارضك فقبح الله ارضا لست فيها وامثالك . وكتب الى معاوية لا امرة لك عليه واحمل الناس على ما قال فانه هو الامر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ( خیال و گمان ) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن الخلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن ابن عجلان، انبانا عون بن عبد الله، عن عبد الله بن مسعود، قال اذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فظنوا برسول الله صلى الله عليه وسلم الذي هو اهناه واهداه واتقاه
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی ( خیال گمان ) رکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سب سے زیادہ عمدہ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي بن ابي طالب، قال اذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بحديث فظنوا به الذي هو اهناه واهداه واتقاه