Loading...

Loading...
کتب
۴۶۶ احادیث
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت ابا مجلز، يقول سالت ابن عباس عن شىء، من امر الجمار فقال ما ادري رماها رسول الله صلى الله عليه وسلم بست او بسبع
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔
اخبرنا هارون بن اسحاق الهمداني الكوفي، قال حدثنا حفص، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن علي بن الحسين، عن ابن عباس، عن اخيه الفضل بن عباس، قال كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم فلم يزل يلبي حتى رمى جمرة العقبة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کر لی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کر دیا۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن خصيف، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قال الفضل بن عباس كنت ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم فما زلت اسمعه يلبي حتى رمى جمرة العقبة فلما رمى قطع التلبية
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ فضل ( فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
اخبرنا هلال بن العلاء بن هلال، قال حدثنا حسين، قال حدثنا ابو خيثمة، قال حدثنا خصيف، عن مجاهد، وعطاء، وسعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان الفضل، اخبره انه، كان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه لم يزل يلبي حتى رمى الجمرة
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
اخبرنا ابو عاصم، خشيش بن اصرم عن علي بن معبد، قال حدثنا موسى بن اعين، عن عبد الكريم الجزري، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن الفضل بن العباس، انه كان رديف النبي صلى الله عليه وسلم فلم يزل يلبي حتى رمى جمرة العقبة
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو کر دعا کرتے۔ پھر اس جمرے کے پاس آتے، جو عقبہ کے پاس ہے اور اسے سات کنکریاں مارتے اور اس کے پاس ( دعا کے لیے ) کھڑے نہیں ہوتے۔ زہری کہتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے یہ حدیث سنی، وہ اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم العنبري، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال انبانا يونس، عن الزهري، قال بلغنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا رمى الجمرة التي تلي المنحر منحر منى رماها بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم تقدم امامها فوقف مستقبل القبلة رافعا يديه يدعو يطيل الوقوف ثم ياتي الجمرة الثانية فيرميها بسبع حصيات يكبر كلما رمى بحصاة ثم ينحدر ذات الشمال فيقف مستقبل البيت رافعا يديه يدعو ثم ياتي الجمرة التي عند العقبة فيرميها بسبع حصيات ولا يقف عندها . قال الزهري سمعت سالما يحدث بهذا عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم وكان ابن عمر يفعله
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آدمی نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، تو اس کے لیے سبھی چیزیں حلال ہو گئیں سوائے عورت کے، پوچھا گیا: اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں خوشبو بھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے؟ ( اگر خوشبو ہے تو خوشبو بھی حلال ہے ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن الحسن العرني، عن ابن عباس، قال اذا رمى الجمرة فقد حل له كل شىء الا النساء . قيل والطيب قال اما انا فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتضمخ بالمسك افطيب هو