Loading...

Loading...
کتب
۳۰ احادیث
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی الله عنہم نے آپس میں اس حاملہ عورت کا ذکر کیا جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو اور اس نے شوہر کی وفات کے بعد بچہ جنا ہو، ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، اور ابوسلمہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر ان لوگوں نے ( ایک شخص کو ) ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس ( مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ) بھیجا، تو انہوں نے کہا: سبیعہ اسلمیہ نے اپنے شوہر کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد بچہ جنا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( شادی کے سلسلے میں ) مسئلہ پوچھا تو آپ نے اسے ( دم نفاس ختم ہوتے ہی ) شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن سليمان بن يسار، ان ابا هريرة، وابن، عباس وابا سلمة بن عبد الرحمن تذاكروا المتوفى عنها زوجها الحامل تضع عند وفاة زوجها فقال ابن عباس تعتد اخر الاجلين . وقال ابو سلمة بل تحل حين تضع . وقال ابو هريرة انا مع ابن اخي يعني ابا سلمة فارسلوا الى ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت قد وضعت سبيعة الاسلمية بعد وفاة زوجها بيسير فاستفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرها ان تتزوج . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے انہیں یہ تینوں حدیثیں بتائیں ( ان میں سے ایک یہ ہے ) زینب کہتی ہیں: میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کے پاس آئی جس وقت ان کے والد ابوسفیان صخر بن حرب کا انتقال ہوا، تو انہوں نے خوشبو منگائی جس میں خلوق یا کسی دوسری چیز کی زردی تھی، پھر انہوں نے اسے ایک لڑکی کو لگایا پھر اپنے دونوں رخساروں پر لگایا، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے اس پر وہ چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن بن عيسى، انبانا مالك بن انس، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، انها اخبرته بهذه الاحاديث الثلاثة، قال قالت زينب دخلت على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي ابوها ابو سفيان بن حرب فدعت بطيب فيه صفرة خلوق او غيره فدهنت به جارية ثم مست بعارضيها ثم قالت والله ما لي بالطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاثة ايام الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
(دوسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: پھر میں زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے پاس آئی جس وقت ان کے بھائی کا انتقال ہوا تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے لگایا پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے شوہر کے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی“۔
قالت زينب فدخلت على زينب بنت جحش حين توفي اخوها فدعت بطيب فمست منه ثم قالت والله ما لي في الطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
(تیسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں میں نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ” ( اب تو اسلام میں ) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ( فوت شدہ شوہر والی بیوہ ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زینب کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک، اور حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم کا اسی پر عمل ہے کہ جس عورت کا شوہر مر گیا ہو وہ اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے پرہیز کرے گی۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
قالت زينب وسمعت امي ام سلمة، تقول جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابنتي توفي عنها زوجها وقد اشتكت عينيها افنكحلها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا " مرتين او ثلاث مرات كل ذلك يقول " لا " . ثم قال " انما هي اربعة اشهر وعشرا وقد كانت احداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على راس الحول " . قال وفي الباب عن فريعة بنت مالك اخت ابي سعيد الخدري وحفصة بنت عمر . قال ابو عيسى حديث زينب حديث حسن صحيح . - والعمل على هذا عند اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان المتوفى عنها زوجها تتقي في عدتها الطيب والزينة . وهو قول سفيان الثوري ومالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق
سلمہ بن صخر بیاضی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ظہار ۱؎ کرنے والے کے بارے میں جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے مجامعت کر لیتا ہے فرمایا: ”اس کے اوپر ایک ہی کفارہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، مالک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر بیٹھے تو اس پر دو کفارہ ہے۔ یہ عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يسار، عن سلمة بن صخر البياضي، عن النبي صلى الله عليه وسلم في المظاهر يواقع قبل ان يكفر قال " كفارة واحدة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وهو قول سفيان الثوري ومالك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم اذا واقعها قبل ان يكفر فعليه كفارتان . وهو قول عبد الرحمن بن مهدي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کر لیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں نے اس سے جماع کر لیا تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تم پر رحم کرے کس چیز نے تجھ کو اس پر آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب دیکھی ( تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا ) آپ نے فرمایا: ”اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ اسے کر نہ لینا جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
انبانا ابو عمار الحسين بن حريث، انبانا الفضل بن موسى، عن معمر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم قد ظاهر من امراته فوقع عليها فقال يا رسول الله اني قد ظاهرت من زوجتي فوقعت عليها قبل ان اكفر . فقال " وما حملك على ذلك يرحمك الله " . قال رايت خلخالها في ضوء القمر . قال " فلا تقربها حتى تفعل ما امرك الله به " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان کا بیان ہے کہ سلمان بن صخر انصاری رضی الله عنہ نے جو بنی بیاضہ کے ایک فرد ہیں اپنی بیوی کو اپنے اوپر مکمل ماہ رمضان تک اپنی ماں کی پشت کی طرح ( حرام ) قرار دے لیا۔ تو جب آدھا رمضان گزر گیا تو ایک رات وہ اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو“، انہوں نے کہا: مجھے یہ میسر نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو“، انہوں نے کہا: میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو آپ نے فرمایا: ”ساٹھ مسکین کو کھانا کھلاؤ“، انہوں نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروۃ بن عمرو سے فرمایا: ”اسے یہ کھجوروں کا ٹوکرا دے دو تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے“، «عرق» ایک پیمانہ ہے جس میں پندرہ صاع یا سولہ صاع غلہ آتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- سلمان بن صخر کو سلمہ بن صخر بیاضی بھی کہا جاتا ہے۔ ۳- ظہار کے کفارے کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا هارون بن اسماعيل الخزاز، انبانا علي بن المبارك، انبانا يحيى بن ابي كثير، انبانا ابو سلمة، ومحمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، ان سلمان بن صخر الانصاري، احد بني بياضة جعل امراته عليه كظهر امه حتى يمضي رمضان فلما مضى نصف من رمضان وقع عليها ليلا فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعتق رقبة " . قال لا اجدها . قال " فصم شهرين متتابعين " . قال لا استطيع . قال " اطعم ستين مسكينا " . قال لا اجد . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لفروة بن عمرو " اعطه ذلك العرق " . وهو مكتل ياخذ خمسة عشر صاعا او ستة عشر صاعا فقال " اطعم ستين مسكينا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . يقال سلمان بن صخر ويقال سلمة بن صخر البياضي . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم في كفارة الظهار
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایلاء ۱؎ کیا اور ( ان سے صحبت کرنا اپنے اوپر ) حرام کر لیا۔ پھر آپ نے حرام کو حلال کر لیا اور قسم کا کفارہ ادا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مسلمہ بن علقمہ کی حدیث کو جسے انہوں نے داود سے روایت کی ہے: علی بن مسہر وغیرہ نے بھی داود سے ( روایت کی ہے مگر ) داود نے شعبی سے مرسلاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا۔ اس میں مسروق اور عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، اور یہ مسلمہ بن علقمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ایلاء یہ ہے کہ آدمی چار ماہ یا اس سے زیادہ دنوں تک اپنی بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھا لے، ۳- جب چار ماہ گزر جائیں تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، یا تو رجوع کر لے یا طلاق دیدے۔ ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو ایک طلاق بائن خودبخود پڑ جاتی ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا الحسن بن قزعة البصري، انبانا مسلمة بن علقمة، انبانا داود بن علي، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة، قالت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسايه وحرم فجعل الحرام حلالا وجعل في اليمين كفارة . قال وفي الباب عن انس وابي موسى . قال ابو عيسى حديث مسلمة بن علقمة عن داود رواه علي بن مسهر وغيره عن داود عن الشعبي ان النبي صلى الله عليه وسلم . مرسلا . وليس فيه عن مسروق عن عايشة وهذا اصح من حديث مسلمة بن علقمة . والايلاء هو ان يحلف الرجل ان لا يقرب امراته اربعة اشهر فاكثر . واختلف اهل العلم فيه اذا مضت اربعة اشهر فقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اذا مضت اربعة اشهر يوقف فاما ان يفيء واما ان يطلق . وهو قول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اذا مضت اربعة اشهر فهي تطليقة باينة . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو برائی کرتے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر کچھ کہتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے، اور اگر خاموش رہتا ہے تو وہ سنگین معاملہ پر خاموش رہتا ہے۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب کچھ دن گزرے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دوبارہ ) آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے آپ سے جو مسئلہ پوچھا تھا میں اس میں خود مبتلا کر دیا گیا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ”یعنی جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگاتے ہیں اور ان کے پاس خود اپنی ذات کے علاوہ کوئی گواہ نہیں ہیں“ ( سورۃ النور: 6 ) ۔ یہاں تک کہ یہ آیتیں ختم کیں، پھر آپ نے اس آدمی کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں، اور اسے نصیحت کی اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے۔ پھر آپ نے وہ آیتیں عورت کے سامنے دہرائیں، اس کو نصیحت کی، اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، وہ سچ نہیں بول رہا ہے۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: آپ نے مرد سے ابتداء کی، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ گواہی دی کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوبارہ آپ نے عورت سے یہی باتیں کہلوائیں، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ اس نے گواہی دی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں میں تفریق کر دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد، ابن عباس، ابن مسعود اور حذیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کر دی اور لڑکے کو ماں کے ساتھ کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
انبانا قتيبة، انبانا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، قال لاعن رجل امراته وفرق النبي صلى الله عليه وسلم بينهما والحق الولد بالام . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی الله عنہا جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں ( ہوا یہ تھا کہ ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، چنانچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد نبوی ہی میں ابھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی۔ ( یا آپ نے حکم دیا کہ مجھے آواز دی جائے ) پھر آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت ختم ہو جائے“، چنانچہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ پھر جب عثمان رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتایا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ محمد بن بشار کی سند سے بھی اس جیسی اسی مفہوم کی حدیث آئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ عدت گزارنے والی عورت کے لیے درست نہیں سمجھتے ہیں کہ اپنے شوہر کے گھر سے منتقل ہو جب تک کہ وہ اپنی عدت نہ گزار لے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں عدت نہ گزارے تو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے عدت گزارے، ۴- ( امام ترمذی ) کہتے ہیں: پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا الانصاري، انبانا معن، انبانا مالك، عن سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، عن عمته، زينب بنت كعب بن عجرة ان الفريعة بنت مالك بن سنان، وهي اخت ابي سعيد الخدري اخبرتها انها، جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم تساله ان ترجع الى اهلها في بني خدرة وان زوجها خرج في طلب اعبد له ابقوا حتى اذا كان بطرف القدوم لحقهم فقتلوه . قالت فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ارجع الى اهلي فان زوجي لم يترك لي مسكنا يملكه ولا نفقة . قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . قالت فانصرفت حتى اذا كنت في الحجرة او في المسجد ناداني رسول الله صلى الله عليه وسلم او امر بي فنوديت له فقال " كيف قلت " . قالت فرددت عليه القصة التي ذكرت له من شان زوجي قال " امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب اجله " . قالت فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا . قالت فلما كان عثمان ارسل الى فسالني عن ذلك فاخبرته فاتبعه وقضى به . انبانا محمد بن بشار، انبانا يحيى بن سعيد، انبانا سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، فذكر نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لم يروا للمعتدة ان تنتقل من بيت زوجها حتى تنقضي عدتها . وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم للمراة ان تعتد حيث شاءت وان لم تعتد في بيت زوجها . قال ابو عيسى والقول الاول اصح
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن سعيد بن جبير، قال سيلت عن المتلاعنين، في امارة مصعب بن الزبير ايفرق بينهما فما دريت ما اقول فقمت مكاني الى منزل عبد الله بن عمر استاذنت عليه فقيل لي انه قايل . فسمع كلامي فقال ابن جبير ادخل ما جاء بك الا حاجة . قال فدخلت فاذا هو مفترش بردعة رحل له . فقلت يا ابا عبد الرحمن المتلاعنان ايفرق بينهما قال سبحان الله نعم ان اول من سال عن ذلك فلان بن فلان اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ارايت لو ان احدنا راى امراته على فاحشة كيف يصنع ان تكلم تكلم بامر عظيم وان سكت سكت على امر عظيم . قال فسكت النبي صلى الله عليه وسلم فلم يجبه فلما كان بعد ذلك اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان الذي سالتك عنه قد ابتليت به . فانزل الله هذه الايات التي في سورة النور : (والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم ) حتى ختم الايات فدعا الرجل فتلا الايات عليه ووعظه وذكره واخبره ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة . فقال لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها . ثم ثنى بالمراة فوعظها وذكرها واخبرها ان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة فقالت لا والذي بعثك بالحق ما صدق . قال فبدا بالرجل فشهد اربع شهادات بالله انه لمن الصادقين والخامسة ان لعنة الله عليه ان كان من الكاذبين . ثم ثنى بالمراة فشهدت اربع شهادات بالله انه لمن الكاذبين والخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين . ثم فرق بينهما . قال وفي الباب عن سهل بن سعد وابن عباس وابن مسعود وحذيفة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم