Loading...

Loading...
کتب
۲۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کاہن کے پاس آئے پھر جو وہ کہے اس کی تصدیق کرے، یا حائضہ عورت کے پاس آئے یا اپنی عورت کے پاس اس کی پچھلی شرمگاہ میں آئے تو وہ ان چیزوں سے بری ہو گیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئیں ہیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حماد بن سلمة، عن حكيم الاثرم، عن ابي تميمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اتى كاهنا " . قال موسى في حديثه " فصدقه بما يقول " . ثم اتفقا " او اتى امراة " . قال مسدد " امراته حايضا او اتى امراة " . قال مسدد " امراته في دبرها فقد بري مما انزل الله على محمد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ اخذ کیا تو اس نے اتنا ہی جادو اخذ کیا، وہ جتنا اضافہ کرے گا اتنا ہی اضافہ ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الاخنس، عن الوليد بن عبد الله، عن يوسف بن ماهك، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ہمیں نماز فجر بارش کے بعد پڑھائی جو رات میں ہوئی تھی تو جب آپ فارغ ہو گئے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا: میرے بندوں میں سے کچھ نے آج مومن ہو کر صبح کی، اور کچھ نے کافر ہو کر، جس نے یہ کہا کہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی وہ میرے اوپر ایمان رکھنے والا ہوا اور ستاروں کا منکر ہوا، اور جس نے کہا کہ ہم فلاں اور فلاں نچھتر کے سبب برسائے گئے تو وہ میرا منکر ہوا اور ستاروں پر یقین کرنے والا ہوا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله، عن زيد بن خالد الجهني، انه قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية في اثر سماء كانت من الليل فلما انصرف اقبل على الناس فقال " هل تدرون ماذا قال ربكم " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " قال اصبح من عبادي مومن بي وكافر فاما من قال مطرنا بفضل الله وبرحمته فذلك مومن بي كافر بالكوكب واما من قال مطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي مومن بالكوكب
قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رمل، بدشگونی اور پرند اڑانا کفر کی رسموں میں سے ہے پرندوں کو ڈانٹ کر اڑانا طرق ہے، اور «عيافة» وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں جسے رمل کہتے ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا عوف، حدثنا حيان، - قال غير مسدد حيان بن العلاء - حدثنا قطن بن قبيصة، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العيافة والطيرة والطرق من الجبت " . الطرق الزجر والعيافة الخط
عوف کہتے ہیں «عيافة» سے مراد پرندہ اڑانا ہے اور «طرق» سے مراد وہ لکیریں ہیں جو زمین پر کھینچی جاتی ہیں ( اور جسے رمل کہتے ہیں ) ۔
حدثنا ابن بشار، قال قال محمد بن جعفر قال عوف العيافة زجر الطير والطرق الخط يخط في الارض
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خط کھینچتے ہیں، آپ نے فرمایا: انبیاء میں ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے تو جس کا خط ان کے خط کے موافق ہوا تو وہ ٹھیک ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الحجاج الصواف، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي، قال قلت يا رسول الله ومنا رجال يخطون . قال " كان نبي من الانبياء يخط فمن وافق خطه فذاك
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن عيسى بن عاصم، عن زر بن حبيش، عن عبد الله بن مسعود، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الطيرة شرك الطيرة شرك " . ثلاثا " وما منا الا ولكن الله يذهبه بالتوكل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی چیز میں نحوست ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کسی مردے کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ایک بدوی نے عرض کیا: پھر ریگستان کے اونٹوں کا کیا معاملہ ہے؟ وہ ہرن کے مانند ( بہت ہی تندرست ) ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارشتی اونٹ جا ملتا ہے تو انہیں بھی کیا خارشتی کر دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا پہلے اونٹ کو کس نے خارشتی کیا؟ ۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے کہا: مجھ سے ایک شخص نے ابوہریرہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے ساتھ پانی پلانے کے لیے نہ لایا جائے پھر وہ شخص ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے کہا: کیا آپ نے مجھ سے یہ حدیث بیان نہیں کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، اور نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، اور کہا: میں نے اسے آپ لوگوں سے نہیں بیان کیا ہے۔ زہری کا بیان ہے: ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ انہوں نے اسے بیان کیا تھا، اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کبھی کوئی حدیث بھولتے نہیں سنا سوائے اس حدیث کے۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، والحسن بن علي، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا طيرة ولا صفر ولا هامة " . فقال اعرابي ما بال الابل تكون في الرمل كانها الظباء فيخالطها البعير الاجرب فيجربها قال " فمن اعدى الاول " . قال معمر قال الزهري فحدثني رجل عن ابي هريرة انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يوردن ممرض على مصح " . قال فراجعه الرجل فقال اليس قد حدثتنا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ولا صفر ولا هامة " . قال لم احدثكموه . قال الزهري قال ابو سلمة قد حدث به وما سمعت ابا هريرة نسي حديثا قط غيره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، نہ کسی کی کھوپڑی سے الو کی شکل نکلتی ہے، نہ نچھتر کوئی چیز ہے، اور نہ صفر کے مہینہ میں نحوست ہے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا هامة ولا نوء ولا صفر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوت پریت کو کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں ۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم بن البرقي، ان سعيد بن الحكم، حدثهم قال اخبرنا يحيى بن ايوب، حدثني ابن عجلان، حدثني القعقاع بن حكيم، وعبيد الله بن مقسم، وزيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا غول
ابوداؤد کہتے ہیں حارث بن مسکین پر پڑھا گیا، اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا صفر» کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جاہلیت میں لوگ «صفر» کو کسی سال حلال قرار دے لیتے تھے اور کسی سال اسے ( محرم کا مہینہ قرار دے کر ) حرام رکھتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» ( اب ایسا ) نہیں ہے ۔
قال ابو داود قري على الحارث بن مسكين وانا شاهد، اخبركم اشهب، قال سيل مالك عن قوله " لا صفر " . قال ان اهل الجاهلية كانوا يحلون صفر يحلونه عاما ويحرمونه عاما فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا صفر
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے ( یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے ) تو آپ نے فرمایا: «صفر» کوئی چیز نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية، قال قلت لمحمد - يعني ابن راشد - قوله " هام " . قال كانت الجاهلية تقول ليس احد يموت فيدفن الا خرج من قبره هامة . قلت فقوله صفر . قال سمعت ان اهل الجاهلية يستشيمون بصفر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا صفر " . قال محمد وقد سمعنا من يقول هو وجع ياخذ في البطن فكانوا يقولون هو يعدي فقال " لا صفر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کسی کو کسی کی بیماری لگتی ہے، اور نہ بد شگونی کوئی چیز ہے، اور فال نیک سے مجھے خوشی ہوتی ہے اور فال نیک بھلی بات ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ولا طيرة ويعجبني الفال الصالح والفال الصالح الكلمة الحسنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات سنی جو آپ کو بھلی لگی تو آپ نے فرمایا: ہم نے تیری فال تیرے منہ سے سن لی ( یعنی انجام بخیر ہے ان شاء اللہ ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن سهيل، عن رجل، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع كلمة فاعجبته فقال " اخذنا فالك من فيك
عطاء سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ صفر ایک قسم کا درد ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے تو میں نے پوچھا: ہامہ کیا ہے؟ کہا: لوگ کہتے تھے: الو جو بولتا ہے وہ لوگوں کی روح ہے، حالانکہ وہ انسان کی روح نہیں بلکہ وہ ایک جانور ہے ( اگلے لوگ جہالت سے اسے انسان کی روح سمجھتے تھے ) ۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، قال يقول الناس الصفر وجع ياخذ في البطن . قلت فما الهامة قال يقول الناس الهامة التي تصرخ هامة الناس وليست بهامة الانسان انما هي دابة
عروہ بن عامر قرشی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طیرہ ( بدشگونی ) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی سب سے اچھی قسم نیک فال، اور اچھا ( شگون ) ہے، اور فال ( شگون ) کسی مسلمان کو اس کے ارادہ سے باز نہ رکھے پھر جب تم میں سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: «اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بك» اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچا سکتا اور سوائے تیرے کوئی برائیوں کو روک بھی نہیں سکتا اور برائی سے باز رہنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت و قوت صرف تیری توفیق ہی سے ملتی ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، وابو بكر بن ابي شيبة المعنى قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عروة بن عامر، - قال احمد القرشي - قال ذكرت الطيرة عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " احسنها الفال ولا ترد مسلما فاذا راى احدكم ما يكره فليقل اللهم لا ياتي بالحسنات الا انت ولا يدفع السييات الا انت ولا حول ولا قوة الا بك
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے فال بد ( بدشگونی ) نہیں لیتے تھے اور جب آپ کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا نام پسند آتا تو اس سے خوش ہوتے اور خوشی آپ کے چہرے پر نظر آتی اور اگر وہ پسند نہ آتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی، اور جب کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام پوچھتے اگر وہ نام اچھا لگتا تو اس سے خوش ہوتے اور یہ خوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دکھائی پڑتی اور اگر وہ ناپسند ہوتا تو یہ ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر دکھائی پڑتی۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتطير من شىء وكان اذا بعث عاملا سال عن اسمه فاذا اعجبه اسمه فرح به وريي بشر ذلك في وجهه وان كره اسمه ريي كراهية ذلك في وجهه واذا دخل قرية سال عن اسمها فان اعجبه اسمها فرح بها وريي بشر ذلك في وجهه وان كره اسمها ريي كراهية ذلك في وجهه
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مردے کی روح جانور کی شکل میں نہیں نکلتی، اور نہ کسی کی بیماری کسی کو لگتی ہے، اور نہ کسی چیز میں نحوست ہے، اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثني يحيى، ان الحضرمي بن لاحق، حدثه عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " لا هامة ولا عدوى ولا طيرة وان تكن الطيرة في شىء ففي الفرس والمراة والدار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نحوست گھر، عورت اور گھوڑے میں ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ ابن قاسم نے آپ کو خبر دی ہے کہ امام مالک سے گھوڑے اور گھر کی نحوست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: بہت سے گھر ایسے ہیں جس میں لوگ رہے تو وہ مر گئے پھر دوسرے لوگ رہنے لگے تو وہ بھی مر گئے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی اس کی تفسیر ہے، واللہ اعلم۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گھر کی ایک چٹائی بانجھ عورت سے اچھی ہے۔
حدثنا القعنبي، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن حمزة، وسالم، ابنى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشوم في الدار والمراة والفرس " . قال ابو داود قري على الحارث بن مسكين وانا شاهد اخبرك ابن القاسم قال سيل مالك عن الشوم في الفرس والدار قال كم من دار سكنها ناس فهلكوا ثم سكنها اخرون فهلكوا فهذا تفسيره فيما نرى والله اعلم . قال ابو داود قال عمر رضى الله عنه حصير في البيت خير من امراة لا تلد
فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے یہی ہمارا کھیت ہے جہاں سے ہمیں غلہ ملتا ہے لیکن یہ وبا والی زمین ہے یا کہا کہ اس کی وبا سخت ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس زمین کو اپنے سے علیحدہ کر دے کیونکہ اس کے ساتھ وبا لگی رہنے سے ہلاکت ہے ۔
حدثنا مخلد بن خالد، وعباس العنبري، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن عبد الله بن بحير، قال اخبرني من، سمع فروة بن مسيك، قال قلت يا رسول الله ارض عندنا يقال لها ارض ابين هي ارض ريفنا وميرتنا وانها وبية او قال وباوها شديد . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعها عنك فان من القرف التلف