Loading...

Loading...
کتب
۱۰۳ احادیث
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے، ان سے عبیداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو اور تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے کہ اسے لوگ لازمی سنت بنا لیں۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن ابن بريدة، حدثني عبد الله المزني، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلوا قبل صلاة المغرب قال في الثالثة لمن شاء ". كراهية ان يتخذها الناس سنة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھ سے عروہ بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلایا کیونکہ اس معاملہ میں وحی اس وقت تک نہیں آئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہل خانہ کو جدا کرنے کے سلسلہ میں ان سے مشورہ لینا چاہتے تھے تو اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہی مشورہ دیا جو انہیں معلوم تھا یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل خانہ کی برات کا لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی پابندی تو عائد نہیں کی ہے اور اس کے سوا اور بہت سی عورتیں ہیں، باندی سے آپ دریافت فرما لیں، وہ آپ سے صحیح بات بتا دے گی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے شبہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں، آٹا گوندھ کر بھی سو جاتی ہیں اور پڑوس کی بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے مسلمانو! میرے معاملے میں اس سے کون نمٹے گا جس کی اذیتیں اب میرے اہل خانہ تک پہنچ گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں جانا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا قصہ بیان کیا اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا۔
حدثنا الاويسي، حدثنا ابراهيم، عن صالح، عن ابن شهاب، حدثني عروة، وابن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله، عن عايشة رضى الله عنها حين قال لها اهل الافك قالت ودعا رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب واسامة بن زيد حين استلبث الوحى يسالهما، وهو يستشيرهما في فراق اهله، فاما اسامة فاشار بالذي يعلم من براءة اهله، واما علي فقال لم يضيق الله عليك، والنساء سواها كثير، وسل الجارية تصدقك. فقال " هل رايت من شىء يريبك ". قالت ما رايت امرا اكثر من انها جارية حديثة السن تنام عن عجين اهلها فتاتي الداجن فتاكله. فقام على المنبر فقال " يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل بلغني اذاه في اهلي، والله ما علمت على اهلي الا خيرا ". فذكر براءة عايشة. وقال ابو اسامة عن هشام
ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بدنام کرتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں مجھے کوئی بری بات کبھی نہیں معلوم ہوئی۔ عروہ سے روایت ہے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب اس واقعہ کا علم ہوا ( کہ کچھ لوگ انہیں بدنام کر رہے ہیں ) تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! کیا مجھے آپ اپنے والد کے گھر جانے کی اجازت دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور ان کے ساتھ غلام کو بھیجا۔ انصار میں سے ایک صاحب ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا «سبحانك ما يكون لنا أن نتكلم بهذا، سبحانك هذا بهتان عظيم.» ”تیری ذات پاک ہے، اے اللہ! ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی باتیں کریں تیری ذات پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔“
حدثني محمد بن حرب، حدثنا يحيى بن ابي زكرياء الغساني، عن هشام، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس فحمد الله واثنى عليه وقال " ما تشيرون على في قوم يسبون اهلي ما علمت عليهم من سوء قط ". وعن عروة قال لما اخبرت عا��شة بالامر قالت يا رسول الله اتاذن لي ان انطلق الى اهلي. فاذن لها وارسل معها الغلام. وقال رجل من الانصار سبحانك ما يكون لنا ان نتكلم بهذا، سبحانك هذا بهتان عظيم