Loading...

Loading...
کتب
۱۰۳ احادیث
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے مسعر بن کدام اور ان کے علاوہ (سفیان ثوری) نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے بیان کیا کہ ایک یہودی ( کعب احبار اسلام لانے سے پہلے ) نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیرالمؤمنین! اگر ہمارے یہاں سورۃ المائدہ کی یہ آیت نازل ہوتی «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» کہ ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کر دیا اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین کے پسند کر لیا۔“ تو ہم اس دن کو عید ( خوشی ) کا دن بنا لیتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی، عرفہ کے دن نازل ہوئی اور جمعہ کا دن تھا۔ امام بخاری نے کہا یہ روایت سفیان نے مسعر سے سنی، مسعر نے قیس سے سنا اور قیس نے طارق سے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن مسعر، وغيره، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، قال قال رجل من اليهود لعمر يا امير المومنين لو ان علينا نزلت هذه الاية { اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا} لاتخذنا ذلك اليوم عيدا. فقال عمر اني لاعلم اى يوم نزلت هذه الاية، نزلت يوم عرفة في يوم جمعة. سمع سفيان من مسعر ومسعر قيسا وقيس طارقا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل بن خالد نے، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے وہ خطبہ سنا جو انہوں نے وفات نبوی کے دوسرے دن پڑھا تھا، جس دن مسلمانوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے خطبہ پڑھا پھر کہا: امابعد! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے وہ چیز ( آخرت ) پسند کی جو اس کے پاس تھی اس کے بجائے جو تمہارے پاس تھی یعنی دنیا اور یہ کتاب اللہ موجود ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے رسول کو دین و سیدھا راستہ بتلایا پس اسے تم تھامے رہو تو ہدایت یاب رہو گے۔ یعنی اس راستے پر رہو گے جو اللہ نے اپنے پیغمبر کو بتلایا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني انس بن مالك، انه سمع عمر الغد، حين بايع المسلمون ابا بكر، واستوى على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم تشهد قبل ابي بكر فقال اما بعد فاختار الله لرسوله صلى الله عليه وسلم الذي عنده على الذي عندكم، وهذا الكتاب الذي هدى الله به رسولكم فخذوا به تهتدوا وانما هدى الله به رسوله
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا ”اے اللہ! اسے قرآن کا علم سکھا۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ضمني اليه النبي صلى الله عليه وسلم وقال " اللهم علمه الكتاب
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عوف اعرابی سے سنا ‘ ان سے ابوالمنہال نے بیان کیا، انہوں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ غنی کر دیا ہے یا بلند درجہ کر دیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن صباح، حدثنا معتمر، قال سمعت عوفا، ان ابا المنهال، حدثه انه، سمع ابا برزة، قال ان الله يغنيكم او نغشكم بالاسلام وبمحمد صلى الله عليه وسلم. قال ابو عبد الله وقع هاهنا يغنيكم وانما هو نعشكم ينظر في اصل كتاب الاعتصام
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ وہ اس کی بیعت قبول کرتے ہیں اور یہ لکھا کہ میں تیرا حکم سنوں گا اور مانوں گا بشرطیکہ اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے موافق ہو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو گا۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، ان عبد الله بن عمر، كتب الى عبد الملك بن مروان يبايعه، واقر لك بالسمع والطاعة على سنة الله وسنة رسوله، فيما استطعت
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے «جوامع الكلم» ( مختصر الفاظ میں بہت سے معانی کو سمو دینا ) کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی اور میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھ دی گئیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور تم مزے کر رہے ہو یا اسی جیسا کوئی کلمہ کہا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بعثت بجوامع الكلم، ونصرت بالرعب، وبينا انا نايم رايتني اتيت بمفاتيح خزاين الارض، فوضعت في يدي ". قال ابو هريرة فقد ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتم تلغثونها او ترغثونها، او كلمة تشبهها
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں جن کو کچھ نشانیاں ( یعنی معجزات ) نہ دئیے گئے ہوں جن کے مطابق ان پر ایمان لایا گیا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) انسان ایمان لائے اور مجھے جو بڑا معجزہ دیا گیا وہ قرآن مجید ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا، پس میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن شمار میں تمام انبیاء سے زیادہ پیروی کرنے والے میرے ہوں گے۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا الليث، عن سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من الانبياء نبي الا اعطي من الايات ما مثله اومن او امن عليه البشر، وانما كان الذي اوتيت وحيا اوحاه الله الى، فارجو اني اكثرهم تابعا يوم القيامة
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ اس مسجد ( خانہ کعبہ ) میں، میں شیبہ بن عثمان حجبی ( جو کعبہ کے کلیدبردار تھے ) کے پاس بیٹھا تو انہوں نے کہا کہ جہاں تم بیٹھے ہو، وہیں عمر رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس بیٹھے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ کعبہ میں کسی طرح کا سونا چاندی نہ چھوڑوں اور سب مسلمانوں میں تقسیم کر دوں جو نذر اللہ کعبہ میں جمع ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ کہاں کیوں؟ میں نے کہا کہ آپ کے دونوں ساتھیوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے ایسا نہیں کیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ دونوں بزرگ ایسے ہی تھے جن کی اقتداء کرنی ہی چاہیے۔
حدثنا عمرو بن عباس، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن واصل، عن ابي وايل، قال جلست الى شيبة في هذا المسجد قال جلس الى عمر في مجلسك هذا فقال هممت ان لا ادع فيها صفراء ولا بيضاء الا قسمتها بين المسلمين. قلت ما انت بفاعل. قال لم. قلت لم يفعله صاحباك قال هما المران يقتدى بهما
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اعمش سے پوچھا تو انہوں نے زید بن وہب سے بیان کیا کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امانت داری آسمان سے بعض لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں اتری، ( یعنی ان کی فطرت میں داخل ہے ) اور قرآن مجید نازل ہوا تو انہوں نے قرآن مجید کا مطلب سمجھا اور سنت کا علم حاصل کیا تو قرآن و حدیث دونوں سے اس ایمانداری کو جو فطرتی تھی پوری قوت مل گئی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سالت الاعمش فقال عن زيد بن وهب، سمعت حذيفة، يقول حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الامانة نزلت من السماء في جذر قلوب الرجال، ونزل القران فقرءوا القران وعلموا من السنة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عمرو بن مرہ نے خبر دی، کہا میں نے مرۃ الہمدانی سے سنا، بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات ( بدعت ) پیدا کرنا ہے ( دین میں ) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، اخبرنا عمرو بن مرة، سمعت مرة الهمداني، يقول قال عبد الله ان احسن الحديث كتاب الله، واحسن الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم، وشر الامور محدثاتها، وان ما توعدون لات، وما انتم بمعجزين
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن عبيد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، قالا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لاقضين بينكما بكتاب الله
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن عبيد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، قالا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لاقضين بينكما بكتاب الله
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل امتي يدخلون الجنة، الا من ابى ". قالوا يا رسول الله ومن يابى قال " من اطاعني دخل الجنة، ومن عصاني فقد ابى
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا اور یزید بن ہارون نے ان کی تعریف کی، کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( جبرائیل و میکائیل ) اور آپ سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا کہ یہ سوئے ہوئے ہیں، دوسرے نے کہا کہ ان کی آنکھیں سو رہی ہیں لیکن ان کا دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے ان صاحب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ایک مثال ہے پس ان کی مثال بیان کرو۔ تو ان میں سے ایک کہا کہ یہ سو رہے ہیں، دوسرے نے کہا کہ آنکھ سو رہی ہے اور دل بیدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور وہاں کھانے کی دعوت کی اور بلانے والے کو بھیجا، پس جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کر لی وہ گھر میں داخل ہو گیا اور دستر خوان سے کھایا اور جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہیں کی وہ گھر میں داخل نہیں ہوا اور دستر خوان سے کھانا نہیں کھایا، پھر انہوں نے کہا کہ اس کی ان کے لیے تفسیر کر دو تاکہ یہ سمجھ جائیں۔ بعض نے کہا کہ یہ تو سوئے ہوئے ہیں لیکن بعض نے کہا کہ آنکھیں گو سو رہی ہیں لیکن دل بیدار ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ گھر تو جنت ہے اور بلانے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پس جو ان کی اطاعت کرے گا وہ اللہ کی اطاعت کرے گا اور جو ان کی نافرمانی کرے گا وہ اللہ کی نافرمانی کرے گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اور برے لوگوں کے درمیانی فرق کرنے والے ہیں۔ محمد بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی لیث سے روایت کیا، انہوں نے خالد بن یزید مصری سے، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر بیدار ہوئے، پھر یہی حدیث نقل کی اسے ترمذی نے وصل کیا۔
حدثنا محمد بن عبادة، اخبرنا يزيد، حدثنا سليم بن حيان واثنى عليه حدثنا سعيد بن ميناء، حدثنا او، سمعت جابر بن عبد الله، يقول جاءت ملايكة الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو نايم فقال بعضهم انه نايم. وقال بعضهم ان العين نايمة والقلب يقظان. فقالوا ان لصاحبكم هذا مثلا فاضربوا له مثلا. فقال بعضهم انه نايم. وقال بعضهم ان العين نايمة والقلب يقظان. فقالوا مثله كمثل رجل بنى دارا، وجعل فيها مادبة وبعث داعيا، فمن اجاب الداعي دخل الدار واكل من المادبة، ومن لم يجب الداعي لم يدخل الدار ولم ياكل من المادبة. فقالوا اولوها له يفقهها فقال بعضهم انه نايم. وقال بعضهم ان العين نايمة والقلب يقظان. فقالوا فالدار الجنة، والداعي محمد صلى الله عليه وسلم فمن اطاع محمدا صلى الله عليه وسلم فقد اطاع الله، ومن عصى محمدا صلى الله عليه وسلم فقد عصى الله، ومحمد صلى الله عليه وسلم فرق بين الناس. تابعه قتيبة عن ليث، عن خالد، عن سعيد بن ابي هلال، عن جابر، خرج علينا النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیمی نے، ان سے ہمام نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے قرآن و حدیث پڑھنے والو! تم اگر قرآن و حدیث پر نہ جمو گے، ادھر ادھر دائیں بائیں راستہ لو گے تو بھی گمراہ ہو گے بہت ہی بڑے گمراہ۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام، عن حذيفة، قال يا معشر القراء استقيموا فقد سبقتم سبقا بعيدا فان اخذتم يمينا وشمالا، لقد ضللتم ضلالا بعيدا
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور جس دعوت کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے: اے قوم! میں نے ایک لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں ننگ دھڑنگ تم کو ڈرانے والا ہوں، پس بچاؤ کی صورت کرو تو اس قوم کے ایک گروہ نے بات مان لی اور رات کے شروع ہی میں نکل بھاگے اور حفاظت کی جگہ چلے گئے۔ اس لیے نجات پا گئے لیکن ان کی دوسری جماعت نے جھٹلایا اور اپنی جگہ ہی پر موجود رہے، پھر صبح سویرے ہی دشمن کے لشکر نے انہیں آ لیا اور انہیں مارا اور ان کو برباد کر دیا۔ تو یہ مثال ہے اس کی جو میری اطاعت کریں اور جو دعوت میں لایا ہوں اس کی پیروی کریں اور اس کی مثال ہے جو میری نافرمانی کریں اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اسے جھٹلائیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما مثلي ومثل ما بعثني الله به كمثل رجل اتى قوما فقال يا قوم اني رايت الجيش بعينى، واني انا النذير العريان فالنجاء. فاطاعه طايفة من قومه فادلجوا، فانطلقوا على مهلهم فنجوا، وكذبت طايفة منهم فاصبحوا مكانهم، فصبحهم الجيش، فاهلكهم واجتاحهم، فذلك مثل من اطاعني، فاتبع ما جيت به، ومثل من عصاني وكذب بما جيت به من الحق
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن عقيل، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر بعده، وكفر من كفر من العرب قال عمر لابي بكر كيف تقاتل الناس، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله. فمن قال لا اله الا الله. عصم مني ماله ونفسه، الا بحقه، وحسابه على الله ". فقال والله لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فان الزكاة حق المال، والله لو منعوني عقالا كانوا يودونه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه. فقال عمر فوالله ما هو الا ان رايت الله قد شرح صدر ابي بكر للقتال فعرفت انه الحق. قال ابن بكير وعبد الله عن الليث عناقا. وهو اصح
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن عقيل، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر بعده، وكفر من كفر من العرب قال عمر لابي بكر كيف تقاتل الناس، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله. فمن قال لا اله الا الله. عصم مني ماله ونفسه، الا بحقه، وحسابه على الله ". فقال والله لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة، فان الزكاة حق المال، والله لو منعوني عقالا كانوا يودونه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه. فقال عمر فوالله ما هو الا ان رايت الله قد شرح صدر ابي بكر للقتال فعرفت انه الحق. قال ابن بكير وعبد الله عن الليث عناقا. وهو اصح
مجھ سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے ‘ ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عیینہ بن حذیفہ بن بدر مدینہ آئے اور اپنے بھتیجے الحر بن قیس بن حصن کے یہاں قیام کیا۔ الحر بن قیس ان لوگوں میں سے تھے جنہیں عمر رضی اللہ عنہ اپنے قریب رکھتے تھے۔ قرآن مجید کے علماء عمر رضی اللہ عنہ کے شریک مجلس و مشورہ رہتے تھے، خواہ وہ بوڑھے ہوں یا جوان۔ پھر عیینہ نے اپنے بھتیجے حر سے کہا: بھتیجے! کیا امیرالمؤمنین کے یہاں کچھ رسوخ حاصل ہے کہ تم میرے لیے ان کے یہاں حاضری کی اجازت لے دو؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے لیے اجازت مانگوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر انہوں نے عیینہ کے لیے اجازت چاہی ( اور آپ نے اجازت دی ) پھر جب عیینہ مجلس میں پہنچے تو کہا کہ اے ابن خطاب، واللہ! تم ہمیں بہت زیادہ نہیں دیتے اور نہ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے، یہاں تک کہ آپ نے انہیں سزا دینے کا ارادہ کر لیا۔ اتنے میں الحر نے کہا: امیرالمؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا «خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين» کہ ”معاف کرنے کا طریقہ اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرو۔“ اور یہ شخص جاہلوں میں سے ہے۔ پس واللہ! عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب یہ آیت انہوں نے تلاوت کی تو آپ ٹھنڈے ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ اللہ کی کتاب پر فوراً عمل کرتے۔
حدثني اسماعيل، حدثني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال قدم عيينة بن حصن بن حذيفة بن بدر فنزل على ابن اخيه الحر بن قيس بن حصن، وكان من النفر الذين يدنيهم عمر، وكان القراء اصحاب مجلس عمر ومشاورته كهولا كانوا او شبانا فقال عيينة لابن اخيه يا ابن اخي هل لك وجه عند هذا الامير فتستاذن لي عليه قال ساستاذن لك عليه. قال ابن عباس فاستاذن لعيينة فلما دخل قال يا ابن الخطاب والله ما تعطينا الجزل، وما تحكم بيننا بالعدل. فغضب عمر حتى هم بان يقع به فقال الحر يا امير المومنين ان الله تعالى قال لنبيه صلى الله عليه وسلم {خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاهلين} وان هذا من الجاهلين. فوالله ما جاوزها عمر حين تلاها عليه، وكان وقافا عند كتاب الله
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گئی۔ جب سورج گرہن ہوا تھا اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے کہا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ( کہ بے وقت نماز پڑھ رہے ہیں ) تو انہوں نے ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: سبحان اللہ! میں نے کہا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ”کوئی چیز ایسی نہیں لیکن میں نے آج اس جگہ سے اسے دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت و دوزخ بھی اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم لوگ قبروں میں بھی آزمائے جاؤ گے، دجال کے فتنے کے قریب قریب پس مومن یا مسلم مجھے یقین نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان میں سے کون سا لفظ کہا تھا تو وہ ( قبر میں فرشتوں کے سوال پر کہے گا ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس روشن نشانات لے کر آئے اور ہم نے ان کی دعوت قبول کی اور ایمان لائے۔ اس سے کہا جائے گا کہ آرام سے سو رہو، ہمیں معلوم تھا کہ تم مومن ہو اور منافق یا شک میں مبتلا مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا تھا، تو وہ کہے گا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال پر کہ ) مجھے معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا وہی میں نے بھی بک دیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء ابنة ابي بكر رضى الله عنهما انها قالت اتيت عايشة حين خسفت الشمس، والناس قيام وهى قايمة تصلي فقلت ما للناس فاشارت بيدها نحو السماء فقالت سبحان الله. فقلت اية. قالت براسها ان نعم. فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حمد الله واثنى عليه ثم قال " ما من شىء لم اره الا وقد رايته في مقامي، حتى الجنة والنار، واوحي الى انكم تفتنون في القبور قريبا من فتنة الدجال، فاما المومن او المسلم لا ادري اى ذلك قالت اسماء فيقول محمد جاءنا بالبينات فاجبنا وامنا. فيقال نم صالحا علمنا انك موقن. واما المنافق او المرتاب لا ادري اى ذلك قالت اسماء فيقول لا ادري سمعت الناس يقولون شييا فقلته