Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قیامت کے دن ) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر ( حوض کوثر ) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے۔“ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑ جائیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا بشر بن السري، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، قال قالت اسماء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انا على، حوضي انتظر من يرد على، فيوخذ بناس من دوني فاقول امتي. فيقول لا تدري، مشوا على القهقرى ". قال ابن ابي مليكة اللهم انا نعوذ بك ان نرجع على اعقابنا او نفتن
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے ابووائل کے غلام مغیرہ ابن مقسم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں ( حوض کا پانی ) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا۔ میں کہوں گا اے میرے رب! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن مغيرة، عن ابي وايل، قال قال عبد الله قال النبي صلى الله عليه وسلم " انا فرطكم على الحوض، ليرفعن الى رجال منكم حتى اذا اهويت لاناولهم اختلجوا دوني فاقول اى رب اصحابي. يقول لا تدري ما احدثوا بعدك
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، قال سمعت سهل بن سعد، يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " انا فرطكم، على الحوض، من ورده شرب منه، ومن شرب منه لم يظما بعده ابدا، ليرد على اقوام اعرفهم ويعرفوني، ثم يحال بيني وبينهم
قال ابو حازم فسمعني النعمان بن ابي عياش، وانا احدثهم، هذا فقال هكذا سمعت سهلا، فقلت نعم. قال وانا اشهد، على ابي سعيد الخدري لسمعته يزيد فيه قال " انهم مني. فيقال انك لا تدري ما بدلوا بعدك فاقول سحقا سحقا لمن بدل بعدي
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ”تم میرے بعد بعض کام ایسے دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس سلسلے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الاعمش، حدثنا زيد بن وهب، سمعت عبد الله، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم سترون بعدي اثرة وامورا تنكرونها". قالوا فما تامرنا يا رسول الله قال " ادوا اليهم حقهم وسلوا الله حقكم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے جعد صیرفی نے، ان سے ابورجاء عطاردی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناپسند بات دیکھے تو صبر کرے ( خلیفہ ) کی اطاعت سے اگر کوئی بالشت بھر بھی باہر نکلا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔“
حدثنا مسدد، عن عبد الوارث، عن الجعد، عن ابي رجاء، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كره من اميره شييا فليصبر، فانه من خرج من السلطان شبرا مات ميتة جاهلية
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے جعد ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے ابورجاء العطاردی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے امیر کی کوئی ناپسند چیز دیکھی تو اسے چاہے کہ صبر کرے اس لیے کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر جدائی اختیار کی اور اسی حال میں مرا تو وہ جاہلیت کی سی موت مرے گا۔“
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن الجعد ابي عثمان، حدثني ابو رجاء العطاردي، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من راى من اميره شييا يكرهه فليصبر عليه، فانه من فارق الجماعة شبرا فمات، الا مات ميتة جاهلية
حدثنا اسماعيل، حدثني ابن وهب، عن عمرو، عن بكير، عن بسر بن سعيد، عن جنادة بن ابي امية، قال دخلنا على عبادة بن الصامت وهو مريض قلنا اصلحك الله حدث بحديث، ينفعك الله به سمعته من النبي، صلى الله عليه وسلم. قال دعانا النبي صلى الله عليه وسلم فبايعناه فقال فيما اخذ علينا ان بايعنا على السمع والطاعة، في منشطنا ومكرهنا، وعسرنا، ويسرنا، واثرة علينا، وان لا ننازع الامر اهله، الا ان تروا كفرا بواحا، عندكم من الله فيه برهان
حدثنا اسماعيل، حدثني ابن وهب، عن عمرو، عن بكير، عن بسر بن سعيد، عن جنادة بن ابي امية، قال دخلنا على عبادة بن الصامت وهو مريض قلنا اصلحك الله حدث بحديث، ينفعك الله به سمعته من النبي، صلى الله عليه وسلم. قال دعانا النبي صلى الله عليه وسلم فبايعناه فقال فيما اخذ علينا ان بايعنا على السمع والطاعة، في منشطنا ومكرهنا، وعسرنا، ويسرنا، واثرة علينا، وان لا ننازع الامر اهله، الا ان تروا كفرا بواحا، عندكم من الله فيه برهان
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب ( خود اسید ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں عمرو بن العاص کو حاکم بنا دیا اور مجھے نہیں بنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ انصاری میرے بعد اپنی حق تلفی دیکھو گے تو قیامت تک صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن اسيد بن حضير، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله استعملت فلانا ولم تستعملني. قال " انكم سترون بعدي اثرة، فاصبروا حتى تلقوني
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد، قال اخبرني جدي، قال كنت جالسا مع ابي هريرة في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة ومعنا مروان قال ابو هريرة سمعت الصادق المصدوق يقول " هلكة امتي على يدى غلمة من قريش ". فقال مروان لعنة الله عليهم غلمة. فقال ابو هريرة لو شيت ان اقول بني فلان وبني فلان لفعلت. فكنت اخرج مع جدي الى بني مروان حين ملكوا بالشام، فاذا راهم غلمانا احداثا قال لنا عسى هولاء ان يكونوا منهم قلنا انت اعلم
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی ( تو ایسا ہی ہو گا ) ۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا ابن عيينة، انه سمع الزهري، عن عروة، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام حبيبة، عن زينب ابنة جحش رضى الله عنهن انها قالت استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم من النوم محمرا وجهه يقول " لا اله الا الله، ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج مثل هذه ". وعقد سفيان تسعين او ماية. قيل انهلك وفينا الصالحون قال " نعم، اذا كثر الخبث
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے ایک ٹیلے پر چڑھے پھر فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہو رہے ہیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري،. وحدثني محمود، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما قال اشرف النبي صلى الله عليه وسلم على اطم من اطام المدينة فقال " هل ترون ما ارى ". قالوا لا. قال " فاني لارى الفتن تقع خلال بيوتكم كوقع القطر
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سوید بن مسیب نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ قریب ہوتا جائے گا اور عمل کم ہوتا جائے گا اور لالچ دلوں میں ڈال دیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہونے لگیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی۔“ لوگوں نے سوال کیا: یا رسول اللہ! یہ «هرج» کیا چیز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قتل! قتل!۔ اور یونس اور لیث اور زہری کے بھتیجے نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے حمید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا عياش بن الوليد، اخبرنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يتقارب الزمان، وينقص العمل، ويلقى الشح، وتظهر الفتن، ويكثر الهرج ". قالوا يا رسول الله ايم هو. قال " القتل القتل ". وقال شعيب ويونس والليث وابن اخي الزهري عن الزهري، عن حميد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الاعمش، عن شقيق، قال كنت مع عبد الله وابي موسى فقالا قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان بين يدى الساعة لاياما ينزل فيها الجهل، ويرفع فيها العلم، ويكثر فيها الهرج، والهرج القتل
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الاعمش، عن شقيق، قال كنت مع عبد الله وابي موسى فقالا قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان بين يدى الساعة لاياما ينزل فيها الجهل، ويرفع فيها العلم، ويكثر فيها الهرج، والهرج القتل
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔“
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا شقيق، قال جلس عبد الله وابو موسى فتحدثا فقال ابو موسى قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان بين يدى الساعة اياما يرفع فيها العلم، وينزل فيها الجهل، ويكثر فيها الهرج، والهرج القتل
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، قال اني لجالس مع عبد الله وابي موسى رضى الله عنهما فقال ابو موسى سمعت النبي صلى الله عليه وسلم مثله، والهرج بلسان الحبشة القتل
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے واصل نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور میرا خیال ہے کہ اس حدیث کو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا، کہا کہ قیامت سے پہلے «هرج» کے دن ہوں گے، ان میں علم ختم ہو جائے گا اور جہالت غالب ہو گی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشی زبان میں «هرج» بمعنی قتل ہے۔
حدثنا محمد، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن واصل، عن ابي وايل، عن عبد الله، واحسبه، رفعه قال " بين يدى الساعة ايام الهرج، يزول العلم، ويظهر فيها الجهل ". قال ابو موسى والهرج القتل بلسان الحبشة
اور ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ وہ حدیث جانتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «هرج» کے دنوں وغیرہ کے متعلق بیان کی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ وہ بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوں گے جن کی زندگی میں قیامت آئے گی۔
وقال ابو عوانة عن عاصم، عن ابي وايل، عن الاشعري، انه قال لعبد الله تعلم الايام التي ذكر النبي صلى الله عليه وسلم ايام الهرج. نحوه. قال ابن مسعود سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من شرار الناس من تدركهم الساعة وهم احياء