Loading...

Loading...
کتب
۱۸۲ احادیث
اور ابن ابوعدی محمد بن ابراہیم نے بھی شعبہ سے روایت کیا، ان سے معبد بن خالد نے اور ان سے حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ کا حوض اتنا لمبا ہو گا جتنی صنعاء اور مدینہ کے درمیان دوری ہے۔ اس پر مستورد نے کہا: کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ مستورد نے کہا کہ کہ اس میں برتن ( پینے کے ) اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظر آتے ہیں۔
وزاد ابن ابي عدي عن شعبة، عن معبد بن خالد، عن حارثة، سمع النبي صلى الله عليه وسلم قوله حوضه ما بين صنعاء والمدينة. فقال له المستورد الم تسمعه قال الاواني. قال لا. قال المستورد ترى فيه الانية مثل الكواكب
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے نافع بن عمر نے، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کئے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ ( دین اسلام سے پھر گئے ) ابن ابی ملیکہ ( جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں ) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں ( دین سے ) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «أعقابكم تنكصون» اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھر گئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، عن نافع بن عمر، قال حدثني ابن ابي مليكة، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اني على الحوض حتى انظر من يرد على منكم، وسيوخذ ناس دوني فاقول يا رب مني ومن امتي. فيقال هل شعرت ما عملوا بعدك والله ما برحوا يرجعون على اعقابهم ". فكان ابن ابي مليكة يقول اللهم انا نعوذ بك ان نرجع على اعقابنا او نفتن عن ديننا. {اعقابكم تنكصون} ترجعون على العقب