Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے بیان کیا، ان سے انس و ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا لے کر چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ”انجشہ! شیشوں کو آہستہ لے چل۔“ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مراد عورتیں تھیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، وايوب، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر، وكان غلام يحدو بهن يقال له انجشة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " رويدك يا انجشة، سوقك بالقوارير ". قال ابو قلابة يعني النساء
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی ان کی آواز بڑی اچھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”انجشہ! آہستہ چال اختیار کر، ان شیشوں کو مت توڑ۔“ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں ( کہ سواری سے گر نہ جائیں ) ۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا حبان، حدثنا همام، حدثنا قتادة، حدثنا انس بن مالك، قال كان للنبي صلى الله عليه وسلم حاد يقال له انجشة، وكان حسن الصوت، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " رويدك يا انجشة، لا تكسر القوارير ". قال قتادة يعني ضعفة النساء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ مدینہ منورہ پر ( ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے ) ڈر طاری ہو گیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر ( واپس آ کر ) فرمایا ”ہمیں تو کوئی ( خوف کی ) چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني قتادة، عن انس بن مالك، قال كان بالمدينة فزع فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة فقال " ما راينا من شىء، وان وجدناه لبحرا
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا مخلد بن يزيد، اخبرنا ابن جريج، قال ابن شهاب اخبرني يحيى بن عروة، انه سمع عروة، يقول قالت عايشة سال اناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكهان فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليسوا بشىء ". قالوا يا رسول الله فانهم يحدثون احيانا بالشىء يكون حقا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني، فيقرها في اذن وليه قر الدجاجة، فيخلطون فيها اكثر من ماية كذبة
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
حدثنا ابن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن، يقول اخبرني جابر بن عبد الله، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ثم فتر عني الوحى، فبينا انا امشي سمعت صوتا من السماء، فرفعت بصري الى السماء فاذا الملك الذي جاءني بحراء قاعد على كرسي بين السماء والارض
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات میمونہ رضی اللہ عنہا ( خالہ ) کے گھر گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ”بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا محمد بن جعفر، قال اخبرني شريك، عن كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بت في بيت ميمونة والنبي صلى الله عليه وسلم عندها، فلما كان ثلث الليل الاخر او بعضه قعد فنظر الى السماء فقرا {ان في خلق السموات والارض واختلاف الليل والنهار لايات لاولي الالباب}
ہم سے مسدد نے کہا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عثمان بن غیاث نے، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے۔ میں گیا تو وہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کے لیے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے ( دنیا میں ) انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔ میں گیا تو وہاں عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتا دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا خیر اللہ مددگار ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عثمان بن غياث، حدثنا ابو عثمان، عن ابي موسى، انه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم في حايط من حيطان المدينة، وفي يد النبي صلى الله عليه وسلم عود يضرب به بين الماء والطين، فجاء رجل يستفتح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افتح له وبشره بالجنة ". فذهبت فاذا ابو بكر، ففتحت له وبشرته بالجنة، ثم استفتح رجل اخر فقال " افتح له وبشره بالجنة ". فاذا عمر، ففتحت له وبشرته بالجنة، ثم استفتح رجل اخر، وكان متكيا فجلس فقال " افتح {له} وبشره بالجنة، على بلوى تصيبه او تكون ". فذهبت فاذا عثمان، ففتحت له، وبشرته بالجنة، فاخبرته بالذي قال. قال الله المستعان
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے «فأما من أعطى واتقى» ”جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا“ آخر تک۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، ومنصور، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي رضى الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في جنازة فجعل ينكت الارض بعود، فقال " ليس منكم من احد الا وقد فرغ من مقعده من الجنة والنار ". فقالوا افلا نتكل قال " اعملوا فكل ميسر ". {فاما من اعطى واتقى} الاية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے ہند بن حارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات میں ) بیدار ہوئے اور فرمایا ”سبحان اللہ! اللہ کی رحمت کے کتنے خزانے آج نازل کئے گئے ہیں اور کس طرح کے فتنے بھی اتارے گئے ہیں۔ کون ہے! جو ان حجرہ والیوں کو جگائے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ازواج مطہرات سے تھی تاکہ وہ نماز پڑھ لیں کیونکہ بہت سی دنیا میں کپڑے پہننے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اور ابن ابی ثور نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا اللہ اکبر!۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثتني هند بنت الحارث، ان ام سلمة رضى الله عنها قالت استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " سبحان الله ماذا انزل من الخزاين، وماذا انزل من الفتن، من يوقظ صواحب الحجر يريد به ازواجه حتى يصلين، رب كاسية في الدنيا، عارية في الاخرة ". وقال ابن ابي ثور عن ابن عباس، عن عمر، قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم طلقت نساءك قال " لا ". قلت الله اكبر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے امام زین العابدین علی بن حسین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملنے آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ عشاء کے وقت تھوڑی دیر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں اور واپس لوٹنے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جب وہ مسجد کے اس دروازہ کے پاس پہنچیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا، تو ادھر سے دو انصاری صحابی گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ۔ یہ صفیہ بنت حی میری بیوی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ ان پر بڑا شاق گزرا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے، اس لیے مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري،. وحدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، ان صفية بنت حيى، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته انها جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوره وهو معتكف في المسجد في العشر الغوابر من رمضان، فتحدثت عنده ساعة من العشاء ثم قامت تنقلب، فقام معها النبي صلى الله عليه وسلم يقلبها حتى اذا بلغت باب المسجد الذي عند مسكن ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم مر بهما رجلان من الانصار فسلما على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نفذا، فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم " على رسلكما، انما هي صفية بنت حيى ". قالا سبحان الله يا رسول الله. وكبر عليهما. قال " ان الشيطان يجري من ابن ادم مبلغ الدم، واني خشيت ان يقذف في قلوبكما
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ بن صہبان ازدی سے سنا، وہ عبداللہ بن مغفل مزنی سے نقل کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ نہ شکار مار سکتی ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، البتہ آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت عقبة بن صهبان الازدي، يحدث عن عبد الله بن مغفل المزني، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الخذف وقال " انه لا يقتل الصيد، ولا ينكا العدو، وانه يفقا العين، ويكسر السن
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو اصحاب چھینکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کا جواب یرحمک اللہ ( اللہ تم پر رحم کرے ) سے دیا اور دوسرے کا نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا ( اس لیے اس کا جواب دیا ) اور دوسرے نے الحمدللہ نہیں کہا تھا۔ چھینکنے والے کو الحمدللہ ضرور کہنا چاہئے اور سننے والوں کو یرحمک اللہ۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثنا سليمان، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت احدهما ولم يشمت الاخر، فقيل له فقال " هذا حمد الله، وهذا لم يحمد الله
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات کاموں سے روکا تھا، ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھا لینے والے کی قسم پوری کرنے میں مدد دینے کا حکم دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں سے روکا تھا، سونے کی انگوٹھی سے، یا بیان کیا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم اور دیبا اور سندس ( دیبا سے باریک ریشمی کپڑا ) پہننے سے اور ریشمی زین سے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، قال سمعت معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء رضى الله عنه قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم بسبع، ونهانا عن سبع، امرنا بعيادة المريض، واتباع الجنازة، وتشميت العاطس، واجابة الداعي، ورد السلام، ونصر المظلوم، وابرار المقسم، ونهانا عن سبع، عن خاتم الذهب او قال حلقة الذهب وعن لبس الحرير، والديباج، والسندس، والمياثر
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے اور الحمدللہ کہے تو ہر مسلمان پر جو اسے سنے، حق ہے کہ اس کا جواب یرحمک اللہ سے دے۔ لیکن جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے جہاں تک ہو سکے اسے روکے کیونکہ جب وہ منہ کھول کر ہاہاہا کہتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله يحب العطاس، ويكره التثاوب، فاذا عطس فحمد الله، فحق على كل مسلم سمعه ان يشمته، واما التثاوب فانما هو من الشيطان، فليرده ما استطاع، فاذا قال ها. ضحك منه الشيطان
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن دینار نے خبر دی، وہ ابوصالح سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی چھینکے تو «الحمد الله» کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی ( راوی کو شبہ تھا ) «يرحمك الله» کہے۔ جب ساتھی «يرحمك الله» کہے تو اس کے جواب میں چھینکنے والا «يهديكم الله ويصلح بالكم» ۔“
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، اخبرنا عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا عطس احدكم فليقل الحمد لله. وليقل له اخوه او صاحبه يرحمك الله. فاذا قال له يرحمك الله. فليقل يهديكم الله ويصلح بالكم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں نے چھینکا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کی چھینک پر یرحمک اللہ کہا اور دوسرے کی چھینک پر نہیں کہا۔ اس پر دوسرا شخص بولا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ان کی چھینک پر یرحمک اللہ فرمایا۔ لیکن میری چھینک پر نہیں فرمایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے الحمدللہ کہا تھا اور تم نے نہیں کہا تھا۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا سليمان التيمي، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت احدهما ولم يشمت الاخر. فقال الرجل يا رسول الله شمت هذا ولم تشمتني. قال " ان هذا حمد الله، ولم تحمد الله
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے کیونکہ وہ بعض دفعہ صحت کی علامت ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی شخص چھینکے تو وہ الحمدللہ کہے لیکن جمائی لینا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنی قوت و طاقت کے مطابق اسے روکے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان ہنستا ہے۔
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله يحب العطاس ويكره التثاوب، فاذا عطس احدكم وحمد الله كان حقا على كل مسلم سمعه ان يقول له يرحمك الله. واما التثاوب فانما هو من الشيطان، فاذا تثاوب احدكم فليرده ما استطاع، فان احدكم اذا تثاءب ضحك منه الشيطان