Loading...

Loading...
کتب
۳۸ احادیث
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مصیبت بھی کسی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ کر دیتا ہے ( کسی مسلمان کے ) ایک کانٹا بھی اگر جسم کے کسی حصہ میں چبھ جائے۔
حدثنا ابو اليمان الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مصيبة تصيب المسلم الا كفر الله بها عنه، حتى الشوكة يشاكها
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا زهير بن محمد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، وعن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا اذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها، الا كفر الله بها من خطاياه
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا زهير بن محمد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، وعن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا اذى ولا غم حتى الشوكة يشاكها، الا كفر الله بها من خطاياه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے سعد نے، ان سے عبداللہ بن کعب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی سب سے پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی برابر کر دیتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ وہ سیدھا ہی کھڑا رہتا ہے اور آخر ایک جھوکے میں کبھی اکھڑ ہی جاتا ہے۔ اور زکریا نے بیان کیا کہ ہم سے سعد نے بیان کیا، ان سے ابن کعب نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ماجد محترم المقام کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی بیان کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن سعد، عن عبد الله بن كعب، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل المومن كالخامة من الزرع تفييها الريح مرة، وتعدلها مرة، ومثل المنافق كالارزة لا تزال حتى يكون انجعافها مرة واحدة ". وقال زكرياء حدثني سعد، حدثنا ابن كعب، عن ابيه، كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے بنی عامر بن لوی کے ایک مرد ہلال بن علی نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال پودے کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، قال حدثني محمد بن فليح، قال حدثني ابي، عن هلال بن علي، من بني عامر بن لوى عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل المومن كمثل الخامة من الزرع من حيث اتتها الريح كفاتها، فاذا اعتدلت تكفا بالبلاء، والفاجر كالارزة صماء معتدلة حتى يقصمها الله اذا شاء
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن یسار ابوالحباب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے بیماری کی تکالیف اور دیگر مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، انه قال سمعت سعيد بن يسار ابا الحباب، يقول سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يرد الله به خيرا يصب منه
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان سے بیان کیا، ان سے اعمش نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے، انہیں مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے ( مرض وفات کی تکلیف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی میں نہیں دیکھی۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن الاعمش،. حدثني بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما رايت احدا اشد عليه الوجع من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے۔ میں نے عرض کیا: ( یا رسول اللہ! ) آپ کو بڑا تیز بخار ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آپ کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن الحارث بن سويد، عن عبد الله رضى الله عنه اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه وهو يوعك وعكا شديدا، وقلت انك لتوعك وعكا شديدا. قلت ان ذاك بان لك اجرين. قال " اجل ما من مسلم يصيبه اذى، الا حات الله عنه خطاياه، كما تحات ورق الشجر
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو شدید بخار تھا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو بہت تیز بخار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں کے دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا یہ اس لیے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے؟ فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کاٹنا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس ( مسلمان ) کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن الحارث بن سويد، عن عبد الله، قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يوعك فقلت يا رسول الله انك توعك وعكا شديدا. قال " اجل اني اوعك كما يوعك رجلان منكم ". قلت ذلك ان لك اجرين قال " اجل ذلك كذلك، ما من مسلم يصيبه اذى شوكة فما فوقها، الا كفر الله بها سيياته، كما تحط الشجرة ورقها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن ابي وايل، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطعموا الجايع، وعودوا المريض، وفكوا العاني
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے اشعث بن سلیم نے خبر دی، کہا کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات باتوں سے منع فرمایا تھا۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، دیبا، استبرق ( ریشمی کپڑے ) پہننے سے اور قسی اور مثیرہ ( ریشمی ) کپڑوں کی دیگر جملہ قسمیں پہننے سے منع فرمایا تھا اور آپ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم جنازہ کے پیچھے چلیں، مریض کی مزاج پرسی کریں اور سلام کو پھیلائیں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال اخبرني اشعث بن سليم، قال سمعت معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع، ونهانا عن سبع، نهانا عن خاتم الذهب، ولبس الحرير، والديباج، والاستبرق، وعن القسي، والميثرة، وامرنا ان نتبع الجنايز، ونعود المريض، ونفشي السلام
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن المنکدر نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں ایک مرتبہ بیمار پڑا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل میری عیادت کو تشریف لائے ان بزرگوں نے دیکھا کہ مجھ پر بے ہوشی غالب ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے ہوش آ گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال میں کیا کروں کس طرح اس کا فیصلہ کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول مرضت مرضا، فاتاني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني وابو بكر وهما ماشيان، فوجداني اغمي على، فتوضا النبي صلى الله عليه وسلم ثم صب وضوءه على، فافقت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله كيف اصنع في مالي كيف اقضي في مالي فلم يجبني بشىء حتى نزلت اية الميراث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عمران ابوبکر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھا دوں؟ میں نے عرض کیا کہ ضرور دکھائیں، کہا کہ ایک سیاہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہا کہ مجھے مرگی آتی ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو صبر کر تجھے جنت ملے گی اور اگر چاہے تو میں تیرے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دوں۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی پھر اس نے عرض کیا کہ مرگی کے وقت میرا ستر کھل جاتا ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا کر دیں کہ ستر نہ کھلا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عمران ابي بكر، قال حدثني عطاء بن ابي رباح، قال قال لي ابن عباس الا اريك امراة من اهل الجنة قلت بلى. قال هذه المراة السوداء اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت اني اصرع، واني اتكشف فادع الله لي. قال " ان شيت صبرت ولك الجنة وان شيت دعوت الله ان يعافيك ". فقالت اصبر. فقالت اني اتكشف فادع الله ان لا اتكشف، فدعا لها. حدثنا محمد، اخبرنا مخلد، عن ابن جريج، اخبرني عطاء، انه راى ام زفر تلك، امراة طويلة سوداء على ستر الكعبة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بیان کیا، ان سے مطلب بن عبداللہ بن جذب کے غلام عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کے دو محبوب اعضاء ( آنکھوں ) کے بارے میں آزماتا ہوں ( یعنی نابینا کر دیتا ہوں ) اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اسے جنت دیتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابن الهاد، عن عمرو، مولى المطلب عن انس بن مالك رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله قال اذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر عوضته منهما الجنة ". يريد عينيه. تابعه اشعث بن جابر وابو ظلال عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر میں ان کے پاس ( عیادت کے لیے ) گئی اور پوچھا، محترم والد بزرگوار آپ کا مزاج کیسا ہے؟ بلال رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے؟ بیان کیا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوا تو وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے ”ہر شخص اپنے گھر والوں میں صبح کرتا ہے اور موت اس کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔“ اور بلال رضی اللہ عنہ کو جب افاقہ ہوتا تو یہ شعر پڑھتے تھے ”کاش مجھے معلوم ہوتا کہ کیا پھر ایک رات وادی میں گزار سکوں گا اور میرے چاروں طرف اذخر اور جلیل ( مکہ مکرمہ کی گھاس ) کے جنگل ہوں گے اور کیا میں کبھی مجنہ ( مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ایک بازار ) کے پانی پر اتروں گا اور کیا پھر کبھی شامہ اور طفیل ( مکہ کے قریب دو پہاڑوں ) کو میں اپنے سامنے دیکھ سکوں گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو اس کی اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! ہمارے دل میں مدینہ کی محبت بھی اتنی ہی کر دے جتنی مکہ کی محبت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے موافق کر دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما، اللہ اس کا بخار کہیں اور جگہ منتقل کر دے اسے مقام جحفہ میں بھیج دے۔
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وعك ابو بكر وبلال رضى الله عنهما قالت فدخلت عليهما قلت يا ابت كيف تجدك ويا بلال كيف تجدك قالت وكان ابو بكر اذا اخذته الحمى يقول كل امري مصبح في اهله والموت ادنى من شراك نعله وكان بلال اذا اقلعت عنه يقول الا ليت شعري هل ابيتن ليلة بواد وحولي اذخر وجليل وهل اردن يوما مياه مجنة وهل تبدون لي شامة وطفيل قالت عايشة فجيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " اللهم حبب الينا المدينة كحبنا مكة او اشد، اللهم وصححها، وبارك لنا في مدها وصاعها، وانقل حماها فاجعلها بالجحفة
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عاصم نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعثمان سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ کو کہلوا بھیجا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ اور ہمارا خیال ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے کہ میری بچی بستر مرگ پر پڑی ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جو چاہے دے اور جو چاہے لے لے ہر چیز اس کے یہاں متعین و معلوم ہے۔ اس لیے اللہ سے اس مصیبت پر اجر کی امیدوار رہو اور صبر کرو۔ صاحبزادی نے پھر دوبارہ قسم دے کر ایک آدمی بلانے کو بھیجا۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں اٹھا کر رکھی گئی اور وہ جانکنی کے عالم میں پریشان تھی۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو خود بھی رحم کرنے والے ہوتے ہیں۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عاصم، قال سمعت ابا عثمان، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما ان ابنة للنبي، صلى الله عليه وسلم ارسلت اليه وهو مع النبي صلى الله عليه وسلم وسعد وابى نحسب ان ابنتي قد حضرت فاشهدنا فارسل اليها السلام ويقول " ان لله ما اخذ وما اعطى وكل شىء عنده مسمى فلتحتسب ولتصبر ". فارسلت تقسم عليه، فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقمنا، فرفع الصبي في حجر النبي صلى الله عليه وسلم ونفسه تقعقع ففاضت عينا النبي صلى الله عليه وسلم فقال له سعد ما هذا يا رسول الله قال " هذه رحمة وضعها الله في قلوب من شاء من عباده، ولا يرحم الله من عباده الا الرحماء
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو مریض سے فرماتے «لا بأس طهور إن شاء الله» ”کوئی فکر کی بات نہیں۔ ان شاءاللہ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے“ لیکن اس دیہاتی نے آپ کے ان مبارک کلمات کے جواب میں کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ پاک کرنے والا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ بخار ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز بن مختار، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل على اعرابي يعوده قال وكان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل على مريض يعوده فقال له " لا باس طهور ان شاء الله ". قال قلت طهور، كلا بل هي حمى تفور او تثور على شيخ كبير، تزيره القبور. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فنعم اذا
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی لڑکا ( عبدوس نامی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعید بن مسیب نے بیان کیا اپنے والد سے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه ان غلاما، ليهود كان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم فمرض. فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده فقال " اسلم ". فاسلم. وقال سعيد بن المسيب عن ابيه، لما حضر ابو طالب جاءه النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے ایک مرض کے دوران مزاج پرسی کرنے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن صحابہ کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم ( مقتدی ) بھی اٹھاؤ اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مطابق قول حمیدی یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر ( مرض الوفات ) میں نماز بیٹھ کر پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليه ناس يعودونه في مرضه فصلى بهم جالسا فجعلوا يصلون قياما، فاشار اليهم اجلسوا، فلما فرغ قال " ان الامام ليوتم به، فاذا ركع فاركعوا واذا رفع فارفعوا، وان صلى جالسا فصلوا جلوسا ". قال ابو عبد الله قال الحميدي هذا الحديث منسوخ لان النبي صلى الله عليه وسلم اخر ما صلى صلى قاعدا والناس خلفه قيام
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو جعید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں عائشہ بنت سعد نے کہ ان کے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بہت سخت بیمار پڑ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ( اگر وفات ہو گئی تو ) میں مال چھوڑوں گا اور میرے پاس سوا ایک لڑکی کے اور کوئی وارث نہیں ہے۔ کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کر دوں اور ایک تہائی چھوڑ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں میں نے عرض کیا پھر آدھے کی وصیت کر دوں اور آدھا ( اپنی بچی کے لیے ) چھوڑ دوں فرمایا کہ نہیں پھر میں نے کہا کہ ایک تہائی کی وصیت کر دوں اور باقی دو تہائی لڑکی کے لیے چھوڑ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور ایک تہائی بھی بہت ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا ( سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ) اور میرے چہرے اور پیٹ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ پھیرا پھر فرمایا: اے اللہ! سعد کو شفاء عطا فرما اور اس کی ہجرت کو مکمل کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک اپنے جگر کے حصہ پر میں اب تک پا رہا ہوں۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، اخبرنا الجعيد، عن عايشة بنت سعد، ان اباها، قال تشكيت بمكة شكوا شديدا، فجاءني النبي صلى الله عليه وسلم يعودني، فقلت يا نبي الله اني اترك مالا واني لم اترك الا ابنة واحدة، فاوصي بثلثى مالي واترك الثلث فقال " لا ". قلت فاوصي بالنصف واترك النصف قال " لا ". قلت فاوصي بالثلث واترك لها الثلثين قال " الثلث والثلث كثير ". ثم وضع يده على جبهته، ثم مسح يده على وجهي وبطني ثم قال " اللهم اشف سعدا واتمم له هجرته ". فما زلت اجد برده على كبدي فيما يخال الى حتى الساعة